تنازعات کی روک تھام کی ضرورت پر زور
نئی دہلی ۔12؍ ستمبر۔ ایم این این۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتے کے روز قومی دارالحکومت میں منعقدہ 18ویں برکس سربراہی اجلاس میں ‘ نئی دہلی اعلامیہ 2026’ کی متفقہ منظوری کا اعلان کیا۔ وزیر اعظم مودی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا، "کسی بھی رکن ملک نے کوئی اعتراض نہیں اٹھایا۔ نئی دہلی اعلامیہ 2026 متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا ہے۔” رائٹرز کے مطابق، مشترکہ اعلامیے میں تنازعات کی روک تھام کی کوششوں، بشمول ان کی بنیادی وجوہات کے تدارک پر زور دیا گیا۔ اس میں بات چیت، مشاورت اور سفارت کاری کے ذریعے بین الاقوامی تنازعات کے پرامن حل کے لیے برکس ممالک کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ اعلامیے میں ایک ایسے کثیر الجہتی نقطہ نظر کی وکالت کی گئی جو اہم عالمی مسائل پر مختلف قومی نقطہ نظر اور موقف کا احترام کرے۔ مشترکہ بیان میں یکطرفہ ٹیرف اور غیر ٹیرف اقدامات میں اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا جو تجارت کو متاثر کرتے ہیں اور عالمی تجارتی تنظیم کے قوانین سے متصادم ہیں۔ برکس ممالک ہفتے کی صبح 4 بجے تک جاری رہنے والے طویل مذاکرات کے بعد مشترکہ بیان پر اتفاق رائے تک پہنچے۔ مذاکرات کے دوران کئی متنازعہ امور پر اختلافات بھی سامنے آئے۔ بھارت نے متضاد موقف کو قریب لانے اور اراکین کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے مسلسل مشاورت کی قیادت کی۔ یہ پیش رفت خاص اہمیت کی حامل ہے کیونکہ ایران، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایک ہی فورم کا حصہ ہیں، حالانکہ کئی علاقائی اور جغرافیائی سیاسی مسائل پر ان کے درمیان گہرے اختلافات اور متضاد موقف موجود ہیں۔ مغربی ایشیا میں جاری تنازعات اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں، ایران، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنا ایک انتہائی پیچیدہ سفارتی چیلنج تھا۔ بھارت کی سفارتی مہارت نے اس بات کو یقینی بنایا کہ یہ اختلافات برکس کے عمل کو متاثر نہ کریں، اور رکن ممالک کے درمیان جغرافیائی سیاسی موقف میں شدید تضاد کے باوجود مشترکہ بیان پر اتفاق رائے کی راہ ہموار کی۔ یہ منظوری ایسے وقت میں عمل میں آئی جب بھارت نے 12-13 ستمبر کو نئی دہلی میں 18ویں برکس سربراہی اجلاس کی میزبانی کی؛ بھارت کی صدارت کا مرکزی موضوع "لچک، جدت، تعاون اور پائیداری کے لیے تعمیرتھا، جس میں ترقی، پائیداری اور جدت کو خصوصی توجہ کا مرکز بنایا گیا۔

