China Delhi-NCR

بھارت اور چین اقتصادی و تجارتی خدشات کو ’مناسب طور پر حل کرنے‘ پر متفق

نئی دہلی۔ 14؍ ستمبر۔ ایم این این۔وزیر تجارت پیوش گوئل نے پیر کو اپنے چینی ہم منصب وانگ وینتاؤ سے ملاقات کی، جس میں انہوں نے برکس  سربراہی اجلاس کے موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان طے پانے والے اہم اتفاق رائے پر عمل درآمد کرنے پر اتفاق کیا۔بھارت میں چینی سفارت خانے کے ترجمان یو جنگ نے ‘ ایکس’ پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ ہفتے کے روز ہونے والی دو طرفہ ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے "اقتصادی اور تجارتی شعبوں میں باہمی طور پر فائدہ مند تعاون کو وسعت دینے، ایک دوسرے کے اقتصادی اور تجارتی خدشات کو متوازن انداز میں مناسب طور پر حل کرنے، اور دونوں ممالک کے کاروباری اداروں اور عوام کو بہتر فوائد پہنچانے” پر اتفاق کیا تھا۔دونوں رہنماؤں کے درمیان مخلصانہ اور گہرے خیالات کا تبادلہ ہوا اور اس اہم نکتے پر اتفاق پایا گیا کہ چین اور بھارت کو شراکت دار ہونا چاہیے۔چینی سفارت خانے کے ترجمان شو فیہونگ کی جانب سے جاری کردہ ایک سابقہ بیان کے مطابق، صدر شی نے نشاندہی کی تھی کہ چین ہمیشہ بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات کو اسٹریٹجک اور طویل مدتی نقطہ نظر سے دیکھتا اور استوار کرتا ہے۔چینی صدر نے کہا کہ بھارت اور چین کو ایک دوسرے کو حریف کے بجائے شراکت دار اور خطرے کے بجائے ترقی کے مواقع کے طور پر دیکھنا چاہیے، کیونکہ دونوں ممالک اپنے دو طرفہ تعلقات کو زیادہ مستحکم بنیادوں پر استوار کرنے کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے تعلقات کے حوالے سے "معروضی اور عقلی اسٹریٹجک سوچ” اپنانے پر زور دیا اور کہا کہ دونوں فریقین کو ایک دوسرے کی خوبیوں سے استفادہ کرنا چاہیے، ایک دوسرے کی حمایت کرنی چاہیے اور مشترکہ ترقی کے لیے کوشاں رہنا چاہیے۔صدر شی نے کہا کہ گزشتہ دو سالوں کے دوران دونوں ممالک کے درمیان ادارہ جاتی روابط بتدریج بحال ہوئے ہیں، جبکہ تعاون کے دائرہ کار میں وسعت آئی ہے اور دو طرفہ تجارت نئی بلندیوں پر پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے اس پیش رفت کو "آسانی سے حاصل نہ ہونے والی” کامیابی قرار دیا اور دونوں فریقین پر زور دیا کہ وہ موجودہ صورتحال کی قدر کریں۔اقتصادی تعلقات کے حوالے سے، صدر شی نے اس بات پر زور دیا کہ ترقی دونوں ممالک کے درمیان "سب سے بڑا مشترکہ عنصر”  بنی رہے، جس میں دوستانہ روابط اور باہمی طور پر فائدہ مند تعاون پر زیادہ توجہ دی جائے۔ انہوں نے دو طرفہ تعلقات کے بارے میں عوامی تاثر کو بہتر بنانے کے لیے عوام کے درمیان روابط اور براہ راست پروازوں کو بڑھانے پر بھی زور دیا، جبکہ ساتھ ہی ایک دوسرے کے اقتصادی اور تجارتی خدشات کو متوازن انداز میں حل کرنے کی ضرورت پر بھی بات کی۔

Related posts

بھارت اور چین بتدریج تجارت، سفر اور تعلقات بحال کرنے کی جانب گامزن

Awam Express News

چین کا آئچی -ناگویا ایشین گیمز 2026 میں پہلا گولڈ میڈل

Awam Express News

دینی تعلیمی بورڈ جمعیۃ علماء صوبہ دہلی کی مجلس عاملہ کا اہم اجلاس منعقد

Awam Express News