نئی دہلی۔ 28 ستمبر۔ ایم این این۔وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے پیر کو کہا کہ متحدہ عرب امارات بھارت میں مزید 25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جبکہ دونوں ممالک مغربی ایشیا میں جاری بحران کے تناظر میں توانائی کے شعبے میں گہرے تعاون کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اس تعاون میں اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر، ایل پی جی ، ایل این جی اور سمندر کے اندر گیس پائپ لائنیں بچھانے جیسے امور شامل ہیں۔ممبئی میں ‘ انڈیا-یو اے ای انویسٹمنٹ ٹاسک فورس’ کے 14ویں اجلاس کے بعد گوئل نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات پہلے ہی بھارت میں 25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکا ہے اور مستقبل قریب میں مزید 25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا عندیہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کا حتمی مقصد بھارت میں متحدہ عرب امارات کی سرمایہ کاری کو 100 ارب ڈالر تک پہنچانا ہے۔دونوں ممالک بھارت میں اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر میں متحدہ عرب امارات کی جانب سے مزید سرمایہ کاری کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں، اور ساتھ ہی ملک میں گیس کی ترسیل اور ذخیرہ کرنے کے لیے سمندر کے اندر پائپ لائنیں بچھانے کے امکانات پر بھی غور کر رہے ہیں۔گوئل نے کہا، "متحدہ عرب امارات ایک قابل اعتماد شراکت دار ہے۔ ہم توانائی کے تحفظ کے لیے باہمی روابط استوار کرنے پر ان کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بھارت میں اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر کو بڑھانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے؛ اس حوالے سے جائزے جاری ہیں اور ہم اس شعبے میں متحدہ عرب امارات کی جانب سے سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ دیکھیں گے۔”بھارت ایل پی جی اور ایل این جی کے بڑے ذریعہ کے طور پر بھی متحدہ عرب امارات پر غور کر رہا ہے اور توانائی کے شعبے میں لچک اور تحفظ کو مضبوط بنانے کی کوششوں کے تحت سمندر کے اندر پائپ لائنوں کے امکانات کا بھی جائزہ لے رہا ہے۔”ہم اس امکان کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ متحدہ عرب امارات ایل پی جی، ایل این جی اور ہماری ضرورت کی دیگر گیس کا ایک اہم ذریعہ بنے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس بات کا بھی مطالعہ کیا جا رہا ہے کہ آیا ہم سمندر کے اندر پائپ لائنوں (انڈر واٹر اوشن پائپ لائنز( کے بارے میں بھی سوچ سکتے ہیں یا نہیں۔ ان پائپ لائنوں کے ذریعے گیس کی ترسیل کی جا سکے گی اور اسے بھارت میں ذخیرہ کیا جا سکے گا تاکہ توانائی کے شعبے میں مزید لچک اور تحفظ حاصل ہو سکے۔”گوئل نے کہا کہ یہ بات چیت کووڈ-19 کی وبا، یوکرین جنگ اور مغربی ایشیا میں جاری بحران کے پس منظر میں ہو رہی ہے۔

