International

اپنے آپ کے تئیں سچے بنو – سنت راجندر سنگھ جی مہاراج

روح کی ایک الٰہی خوبی سچائی یا صداقت ہے۔ اگرچہ روح سچائی کی راہ پر چلتی ہے پر من دھوکہ دہی اور جھوٹ کا کھیل کھیلتا ہے۔ روحانی ترقی کے لیے ہمیں اپنی روح کو پہچاننا ہوگا۔ اس کے لیے ہمیں سچائی کی خوبی اپنانا ہوگی۔ہمارے پاس مہاتما گاندھی کی مثال ہے جنہوں نے سچائی کا راستہ اپنایا تھا۔ وہ سچائی کی قدر کرتے تھے۔ ملک کو آزادی دلانے کے لیے ان کی عدم تشدد کی تحریکوں کے دوران، ایک بار انہیں ایک جیل میں بند کر دیا گیا۔ اس خاص جیل کے قوانین میں سے ایک یہ تھا کہ قیدیوں کو کوئی اخبار یا بیرونی دنیا کی کوئی بھی خبر نہیں دی جا سکتی تھی۔ ایک بار، ایک طبیب، جو گاندھی جی کا دوست تھا، جیل میں ان سے ملنے آیا۔ ان کی عدم تشدد کی تحریک سے متعلق کوئی خبر تھی جو طبیب کو لگا کہ گاندھی جی کو معلوم ہونی چاہیے۔ طبیب، جو ایک اخبار ساتھ لایا تھا، نے اپنے کچھ کاغذات نکالے اور انہیں گاندھی جی کی چارپائی پر رکھ دیا۔
طبیب گاندھی جی سے ان کی صحت اور سہولیات کے بارے میں باتیں کرنے لگا۔ جب طبیب کے جانے کا وقت آیا، اس نے چارپائی سے اپنے سارے کاغذ اٹھا کر جیب میں رکھ لیے پر اخبار وہیں چھوڑ
دیا۔
جب گاندھی جی نے اخبار وہاں پڑا ہوا دیکھا تو انہوں نے اسے پڑھنے سے انکار کر دیا۔ دراصل، وہ اتنے ایماندار تھے کہ وہ اخبار کی طرف محض دیکھ کر بھی جیل کے قوانین کی خلاف ورزی نہیں کرنا چاہتے تھے۔ لہٰذا بستر پر پڑے اخبار کی طرف سے انہوں نے اپنی پیٹھ کر لی اور ساری رات اپنی کوٹھڑی کے کونے کی طرف دیکھتے رہے۔ وہ رات بھر بیٹھے رہے اور ان کا چہرہ کونے کی طرف رہا تاکہ وہ اخبار کو دیکھ یا چھو نہ لیں۔اگلی صبح، طبیب گاندھی جی سے ملنے واپس آیا۔
اس نے دیکھا کہ اخبار چارپائی پر وہیں پڑا تھا، جہاں وہ پہلی رات چھوڑ گیا تھا۔ طبیب بولا، ”معاف کرنا، میں غلطی سے اخبار یہاں چھوڑ گیا تھا۔“گاندھی جی کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی اور انہوں نے جواب دیا، ”ہاں، تم نے مجھے پوری رات ایک کونے میں گزارنے کی سزا دے ڈالی۔ گاندھی جی کی ایمانداری ایسی تھی کہ چاہے کسی نے بھی انہیں اخبار پڑھتے نہیں دیکھا، تو بھی وہ بے ایمان نہیں ہونا چاہتے تھے،کیونکہ انہیں خود تو معلوم ہوتا کہ قید کے دوران انہوں نے جیل کے قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔ ہم میں سے کتنے اس طرح کیایمانداری سے جیتے ہیں؟
ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم دوسروں سے اپنے کام چھپا سکتے ہیں پر ہم پروردگار سے اور اپنی روح سے کچھ نہیں چھپا سکتے۔ ہمیں اپنے کرموں کا پھل بھگتنا ہوتا ہے۔ ایمانداری روح کی خوبی ہے۔
جب بھی ہمیں یہ انتخاب کرنا ہوتا ہے کہ ہم ایماندار رہیں یا بے ایمان ہو جائیں تو ہم اپنی روح کی بات سن سکتے ہیں یا پھر من کی۔ من ہمیں بے ایمانی کی طرف لے جاتا ہے اور اس کے لیے ہمیں کئی بہانے بتاتا ہے۔ اس کے پاس ہزاروں دلیلیں ہوتی ہیں کہ ہمیں جھوٹ کیوں بولنا چاہیے، دھوکہ کیوں دینا چاہیے یا چوری کیوں کرنی چاہیے۔ پر روح صرف ایمانداری جانتی ہے۔
اگر ہم روحانی طور پر ترقی کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی روح کو زیادہ سے زیادہ جاننا چاہیے۔ اپنی اصلی حالت کے قریب آنے یعنی اپنے اندر کی روح کے قریب آنے کا مطلب ہے کہ ہم اپنے کام-رویہ میں ایماندار ہو جائیں۔
کیا چھوٹے موٹے جھوٹ یا بے ایمانی سے اپنی روحانی ترقی میں رکاوٹ ڈالنا مناسب ہے؟ کیا دھوکہ دہی سے تھوڑا سا پیسہ کما کر اپنی روح اور پرماتما کے ملن میں رکاوٹ ڈالنا اور اپنے اندر کے سچے روحانی خزانے سے محروم رہنا مناسب ہے؟ اندر کے خزانے ابدی ہیں اور ہمارے ساتھ ہمیشہ رہیں گے۔

Related posts

پاکستان کے صحت کے شعبہ کو بحران کاسامنا

Awam Express News

وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے اپنے میکسیکو کے ہم منصب روجیلیو رامیریز ڈی لا او سے ملاقات

Awam Express News

رو سی صدرپوتن نے ہندوستان کی آزادی کے 79 سال مکمل ہونے پر مبارکباد دی

Awam Express News