National

میوات کے نوجوانوں کو نذرِ آتش کرنے کا معاملہ، متاثرہ اہل خانہ کا احتجاج

نئی دہلی: میوات کے دو نوجوانوں جنید اور ناصر کو نذر آتش کر کے قتل کرنے کے معاملہ میں اہل خانہ نے اتوار (19 فروری) کو احتجاج کیا اور ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ خیال رہے کہ راجستھان کے بھرت پور ضلع کے رہائشی نوجوانوں کو ہریانہ کے میوات میں گئو کشی کے نام پر زدوکوب کیا گیا تھا اور پھر انہیں گاڑی سمیت نذر آتش کر دیا گیا تھا۔مقتول نوجوانوں کے اہل خانہ نے کہا کہ جب ادے پور میں کنہیا نامی شخص کا قتل ہوا تھا تو اس کے ملزمان کو ایک گھنٹے میں گرفتار کر لیا گیا تھا لیکن جنید اور ناصر کے قاتل ابھی تک آزاد گھوم رہے ہیں۔ ناصر اور جنید کے چچازاد بھائی محمد جاوید نے کہا کہ جب تک ملزمان کی گرفتار نہیں ہو جاتی وہ دھرنے سے نہیں ہٹیں گے۔ انہوں نے کہا ’’ہم سب دھرنے پر بیٹھے ہیں۔ جب تک ہمارے مطالبات پورے نہیں ہو جاتے، ہم دھرنے پر بیٹھے رہیں گے۔‘‘جنید اور ناصر کو اغوا کئے جانے کے بعد 15 فروری کو نامعلوم افراد کے خلاف زدوکوب کرنے کی شکایت درج کرائی گئی تھی۔ انہیں مبینہ طور پر ساتھ لے جایا گیا۔ اہل خانہ کا الزام ہے کہ جنید اور ناصر کو ان کی بولیرو کار میں اغوا کر کے زندہ نذر آتش کر دیا گیا۔

Related posts

شیوراج حکومت مدرسوں کی بات کرکے حقیقی مسائل سے ہٹانا چاہتی ہے:ایم ڈبلیوانصاری

Awam Express News

”تیار ہیں ہم “ کا نعرہ لگا کر کانگریس اقلیتی شعبے نے ’ بھارت جوڑو نیائے یاترا‘ کی کامیابی کیلئے خم ٹھونکا

Awam Express News

گجراتی صنعت کار کشمیر میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کریں۔ امت شاہ

Awam Express News