1500 سالہ میلادِ مصطفیٰ ﷺ کا شاندار جلوس اختتام پذیر
علی گڑھ (محمد اظہر نور اعظمی/ پریس ریلیز): ویر عبد الحمید کمیٹی کے زیر نگرانی مرکزی جلوس عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم مدرسہ گلشن برکات متعلقہ مسجد گلستانِ رضا شہنشاہ آباد، مدرسہ نور مصطفیٰ، حمزہ مسجد نگلہ پٹواری، سنی اقصٰی مسجد شہنشاہ آباد، ٹین والی مسجد، مسجد خواجہ سمیع نگلہ پٹواری، مدینہ مسجد، مسجد دار البقاء، مسجد صابری، مسجد شہنشاہ برکات مولانا آزاد نگر، مسجد صابرہ وحید نگر ،نور مسجد فردوس نگر، مدینہ مسجد چاند باغ کالونی سے جلوس محمدی قاری شکیل انور، مولانا شمشاد اجمل برکاتی، قاری طارق رضا، قاری صلاح الدین، مولانا تصدق تحسینی، قاری عبدالقادر، مولانا شہباز احمد مرکزی، حافظ اعظم، حافظ عمر، حافظ عابد رضا، حافظ مشرف برکاتی، حافظ مونس، مولانا فہیم، قاری حسن، حافظ سرفراز، حافظ شفیق احمد، تعلیم اسلام کانفرنس کے کنوینر محمد اظہر نور اعظمی، حافظ عاقب، حافظ نعیم، انیس احمد، انوار قادری، سید عبدالرزاق، سید چاہت میاں، عرفان بھائی، صدام حسین، زبیر، طلحہ اور دیگر ائمہ و اساتذہ اور دانشوران کی قیادت میں الگ الگ مساجد و مدارس سے حسب روایت پندرہ سو سالہ جلوس محمدی پر امن طریقہ سے نکالا گیا۔
مولانا شمشاد اجمل برکاتی نے اپنے بیان میں کہا کہ سیرت نبوی بیان کرنے کا یہ سفر صدیوں سے جاری ہے ولادت طیبہ اور بعثت مبارکہ سے قبل بھی رسول اللہ کی آمد آمد کا تذکرہ انبیاء علیہم السلام نے اپنی بزم ناز میں کیا جس کا ذکر قرآن مقدس میں موجود ہے۔ ولادت طیبہ سیرت مبارکہ کا اوّلین باب ہے۔ محدثین کرام، علمائے عظام، مشائخ کرام اور اولیائے اسلام کا مقدس گروہ ہے جو اس سعادتوں کے سفر میں شریک ہے۔
مولانا صلاح الدین قادری نے کہا کہ ولادت پاک کے ذکر سے اسلاف و اکابرین نے زبانیں تر کر دیں، 1500 مکمل ہو گئے کوئی صدی ایسی نہیں گزری کہ مشاہیر اسلام نے ذکر میلاد نا کیا ہو، ذکر معراج نا کیا ہو۔ انقلابات زمانہ میں نبوی انقلاب کی کرنیں آج بھی جہان کو روشنی عطا کر رہی ہے اور ہمیں بارگاہ رسول سے اعانت مسلمین کا درس ملتا ہے۔
جلوس میں شعراء، نعت پاک کا ہدیہ بھی بارگاہ نبوی میں پیش کر رہے تھے۔
تمام جلوس نعرہ تکبیر، نعرہ رسالت کی صداؤں کے ساتھ اپنے اپنے علاقے سے پہلے نگلہ پٹواری کے قبرستان پر پہنچے، جہاں علما کرام نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد پر مختصر خطاب فرماتے ہوئے کہا کہ جلوس محمدی کا مقصد امن کا پیغام اور تعلیمات رسول کو عام کرنا ہے۔
علاقے کے تمام قائدین جلوس محمدی نگلہ پٹواری قبرستان سے ایک ساتھ ہوکر فردوس نگر کے طرف سے نگلہ قلعہ قبرستان کے قریب اظہری میاں کی مزار پر لے کر گئے، جہاں کچھ دیر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ پر مختصر بیان اور نعت کا سلسلہ چلا اس کے بعد آقا کی بارگاہ میں سلام پیش کیا گیا اور ملک و ملت کی سالمیت اور پنجاب کے سیلاب زدگان کے لئے خصوصی دعائیں کی گئی اس کے بعد جلوس محمدی اختتام پذیر ہوا۔
ویر عبد الحمید کمیٹی کے رضا کاروں نے جلوس با قاعدگی سے نکلوایا اور کثیر تعداد میں عاشقان رسول شریک ہوئے۔

