لونی غازی آباد 1-10-2025(عوام ایکسپریس)لونی غازی آباد کے معروفسماجی کارکن حافظ شاہد اعظمی نے مکی مسجد خوشحال پارک لونی غازی آباد میں ایک دینی اصلاحی جلسہ کا انعقاد کیا۔جس کا مقصد علاقے میں دین اسلام کی صحیح باتیں لوگوں تک پہونچے اور علماء کی صحبت ملے اورعلاقے کی اصلاح ہو سکے اور عوام اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات جانیں۔نماز کے پابند بنیں،مسجدوں اور مدارس سے جڑیں۔اس اصلاحی پروگرام میں لونی غازی آباد کے متعدد علماء کرام،متعدد تنظیم کے ذمہ داران اور علاقے کے سیکڑوں عوام نے شرکت کیا۔ حافظ شاہد اعظمی کی دعوت پر بالخصوص مدرسہ اسلامیہ عربیہ بیت العلوم کے ناظم اعلیٰ شیخ الحدیث مولانا مفتی احمداللہ نے شرکت کیا اور اس دینی اصلاحی جلسے کو خطاب کیا۔


مفتی احمد اللہ پھولپوری نے دین اسلام کی روشنی میں عوام کو کیسے زندگی گذارنی چاہئے اور کن کن چیزوں سے بچنا چاہئے اس حوالے سے عوام کو خطاب کیا۔انہوں نے کہا کہ آج ہمارا معاشرہ دین اسلام سے کافی دور ہوتا جارہا ہے،ہمیں یہودیوں اور نصرانیوں کی اتتباء نہیں کرنی ہے ہمیں ان کے کلچر کو نہیں اپنانا ہے۔ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتتباع کرنی ہے ان کے بتائے ہوئے راستے پر چلنا ہے۔اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات پر عمل کرنا ہے۔تبھی ہماری دنیا کی زندگی بھی کامیاب ہوگی اور آخرت بھی بنے گی۔ہمیں اپنے اپنے طور پر اصلاح کرنے کی ضرورت ہے،ہم کدھر جا رہے ہیں یہ سوچنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔ہم اپنے وقت کو بر باد نہ کریں،ہم اپنی اصلاح کے ساتھ ساتھ اپنے گھر کے ماحول کو درست کریں،پہلے گھر کا ماحول کچھ اور تھا اور اب کے ماحول میں کافی فرق ہے پہلے کی مائیں نماز پڑھتی تھیں،تلاوتیں کرتی تھیں درود شریف کا ورد کرتی تھیں۔مسلمانوں کے گھروں میں صبح فجر کے بعد ہو جایا کرتی تھیں نماز اور تلاوت کا پورا اہتمام ہوتا تھا پر آج ہمارے معاشرے میں مسلم گھروں کا حال یہ ہے کہ اگر صبح بچوں کو اسکول نہ بھیجنا رہے تو ہمارے گھروں کی عورتوں کی صبح دس گیارہ بجے ہو رہی ہے جبکہ مسلمان گھروں کی صبح فجر سے ہونی چاہئے۔ہمیں اپنے گھروں کی اصلاح کرنے کی بے حد ضرورت ہے۔


مفتی احمد اللہ نے کہا کہ مائیں بہنیں گھروں کے ماحول کو اسلامی ماحول میں تبدیل کریں۔نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے مطابق زندگی گذاریں۔باپ چاہتا ہے بیٹا نماز پڑھے پر باپ خود نماز نہیں پڑھتا۔باپ کو چاہیئے کہ خود بھی نماز پڑھے اور اپنے بچوں کو نماز پڑھنے کے لئے سمجھائے تو وہ بچہ نماز کا پابند ہو جائے گا۔عملی طور پر سمجھایا جائے تبھی لوگو ں کو سمجھ میں آئے گی، ہمیں موبائل نہیں دیکھنا ہے،ہمیں چلتے پھرتے درود شریف پڑھنا ہے قرآن کی تلاوت کرنا ہے تب جاکر ہمارے عمل کو دیکھ کر ہمارے بچے سیکھیں گے۔اپنے بچے اور بچیوں پر توجہ دیں اور انکی اصلاح کرتے رہیں اور انہیں دین کے بارے میں بتائیں،غیر شادی شدہ بچیوں کو موبائل نہ دیں۔شادی کے بعد موبائل رکھیں کوئی بات نہیں۔ایک عورت کے بگڑجانے سے نسلیں بگڑ جاتی ہیں اور ایک عورت کے بگڑ جانے سے نسلوں تک دین دور چلا جاتا ہے۔ایک عورت کے سدھرنے سے پورا گھر سدھر جاتاہے۔ایک عورت کے سنبھل جانے سے پورا خاندان بدل سکتا ہے۔ بیوی اپنے شوہر کو نمازی بنائیں،بہن ہے تو وہ اپنے بھائی کو نمازی بنائیں۔ماں اپنے بیٹے کو نماز کے لئے پابند بنائیں اگر چھوٹا بیٹا ہے تو اس کو گھر پر نماز پڑھوائیں۔مائیں اپنے بچوں کی اچھی تربیت دیں۔
زیادہ موبائل دیکھنے سے صحت پر بہت اثر پڑتا ہے۔ آپ چاہے حکیم اور ڈاکٹر سے پوچھ لو،موبائل سے بری چیزیں دیکھنے سے آنکھوں سے جو گناہ ہوتی ہے اس سے بچیں۔اور اپنے وقت کو برباد نہ کریں۔دین سکھیں اور عمل کریں اسی میں کامیابی ہے۔

دینی اصلاحی جلسہ بے حدکامیاب رہا اور اس جلسے میں لونی خوشحال پارک اور اعتراف کے علماء کرام، ائمہ مساجد،مدرسین مدارس،اور علاقے کے ذمہ داران پیش پیش رہے۔مفتی شیخ الحدیث احمد اللہ پھولپوری کی دعاء پردینی اصلاحی جلسہ اختتام ہوا۔

