سرفرازاحمدقاسمی حیدرآباد
رابطہ: 8099695186
یہ کیسا ملک ہے؟ اس کا نظام کیسا ہے؟حکومت کیسی ہے؟ ایک ایئر لائن کمپنی کی منمانی کے آگے حکومت گھٹنے ٹیک سکتی ہے،لاکھوں مسافر پریشان،لاچار اور بے بس ہو گئے، کوئی ایئرپورٹ کے فرش پر ہی لیٹ گیا کسی کو کھانے پینے کی چیزیں تک نہیں ملی، کسی کا سامان کہیں کا کہیں پہنچ گیا،چاروں طرف بے یقینی بدنظمی اور افراتفری،ایئر لائن کمپنیاں صرف منافع خوری کے لیے نہیں ہوتی وہ فضائی خدمات فراہم کرنے کے لیے ہوتی ہے اور ان خدمات کے کرائے حکومت طے کرتی ہے،پھر یہ کیسی منافع خوری ہے کہ انڈیگو کی ہزاروں پروازیں منسوخ ہوئی اور دوسری ایر لائن نے کرایوں میں کئی گنا اضافہ کردیا، کیا کسی کے گھر شادی تھی، کسی کو انٹرویو کے لیے پہنچنا تھا، کسی کی کاروباری میٹنگ تھی کسی کو ویزا لینے جانا تھا، کسی کے گھر بوڑھے والدین بیمار تھے، یا سوگ کی کیفیت تھی، انڈیگو کی منمانی نے سب کچھ تہس نہس کردیا،سب کچھ بکھر کررہ گیا،پیسہ ضائع،مسلسل آنسو،فریاد،عام مسافر اور کیا کر سکتا ہے، کیا ایک ایئر لائن کو اس حد تک ولن بننے کی اجازت دی جا سکتی ہے؟ہوا بازی کے شعبے میں ان لوگوں کی حصے داری 62 فیصد سے بھی زیادہ کیوں ہونے دی گئی؟ حکمراں جماعت کو کروڑوں روپے کا انتخابی چندہ اور کمپنی کو بازار پر اجارہ داری کا لائسنس یا ملک میں ایر لائنز اسی طرح منمانی کرتی رہیں،چین اور امریکہ کی مثالیں سب کے سامنے ہیں چین کی سب سے بڑی ایر لائنز کی مجموعی حصہ داری 60 فیصد سے کم ہے،امریکہ میں چار بڑی کمپنیوں کی مجموعی حصے داری تقریبا 75 فیصد ہے لیکن کوئی واحد کمپنی 25 فیصد سے آگے نہیں بڑھتی،بھارت میں آج جو حالات دیکھنے کو مل رہے ہیں وہ مودی حکومت کے لیے نوٹ بندی کے بعد سب سے بڑا دباؤ ثابت ہو رہے ہیں وہ حکومت جو خود کو مضبوط،فیصلہ کن اور تیز رفتار قرار دیتی رہی ہے،آج اپنی انتظامی ناکامیوں،معاشی بے عملی اور نجی کمپنیوں کی منمانی کے سامنے بے بس دکھائی دیتی ہے،یہ صرف سیاسی بحران نہیں بلکہ حکمرانی اور نظام حکومت کے بنیادی اصولوں کا امتحان ہے،نوٹ بندی کے جھٹکے کے بعد ملک نے جو بے چینی محسوس کی تھی۔
2013 میں ہندوستان کے فضائی شعبے میں ان لوگوں کا حصہ صرف 10 فیصد تھا جبکہ دیگر کمپنیوں میں جیٹ ایئرویز کا 21 فیصد،ایر انڈیا کا 18فیصد،اسپائس جیٹ کا 18فیصد، گوا ایئر کا 9فیصد، ایر ایشیا کا 1فیصد اور دیگر ایئر لائنز کا 3 فیصد حصہ تھا اور مسافرین کو ان متبادل سہولتوں کی وجہ سے آسانی میسر تھی لیکن اب صورتحال بالکل تبدیل ہو چکی ہے،اس وقت ہندوستان کے فضائی شعبے کا 65 فیصد حصہ انڈیگو کا ہے،جبکہ ایر انڈیا کا 30 فیصد اور دیگر ایئر لائنز کا حصہ صرف پانچ فیصد رہ گیا ہے، یعنی اس شعبے میں انڈیگو نے ایک لحاظ سے اجارہ داری حاصل کر لی ہے اور ایک واحد کمپنی کی اس قدر کثیر حصہ داری کی وجہ سے آج ہمیں اس صورتحال کا سامنا ہے،طلب و رسد معاشیات کا بنیادی اصول ہے اور حکومت جو بلند بانگ دعوے کرتی ہے،اس بنیادی اصول کو ہی فراموش کر گئی اور آج ایک ایئر لائن کے ہاتھوں سے بلیک ہونا پڑ رہا ہے حکومت کو انڈیگو کے آگے گھٹنے ٹیکنے پڑے ہیں اور ایف ڈی ٹی ایل کے نئے قواعد پر عمل آوری کو فروری 2026 تک مؤخر کردیا گیا،بات صرف انڈیگو کی نہیں آج ملک کے دیگر شعبہ جات میں صورتحال اسی سمت گامزن ہے اور اگر حکومت و ارباب مجاز یونہی خواب خرگوش کے مزے لیتے رہے تو ہر شعبے میں عوام کو یوں ہی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑے گا ٹیلی کام شعبے کو ہی لے لیجئے،چند سال قبل ملک میں تقریبا 10 سے زائد کمپنیاں تھی جو اس میدان میں عوام کو خدمات فراہم کرتی تھی لیکن آج صرف دو کمپنیوں کا اس شعبے پر تقریبا قبضہ ہوچکا ہے،اس وقت ہندوستان کے ٹیلی کام شعبے میں جیو کی حصہ داری 55 فیصد اور ایئرٹیل کی حصہ داری 40 فیصد ہے اور باقی پانچ فیصد حصہ بی ایس این ایل اور ووڈا فون آئیڈیا کا ہے،گویا یہاں بھی اجارہ داری قائم ہو گئی ہے اور عوام کی مجبوری بن گئی ہے کہ انہیں ہر مہینے دو تا 300 روپے کا ریچارج ہر حال میں کرانا پڑتا ہے، پہلے کی طرح مفت انکم انکمنگ چلانے کی سہولت ختم کردی گئی،عام شہریوں کے لیے اصل سوال فی کس جی ڈی پی اور روزگار ہے مجموعی پیداوار بڑھنے کے باوجود اگر فیکس آمدنی کی رفتار کم ہوجائے یا بے روزگاری میں اضافہ ہو اگر سرمایہ ٹیکنالوجی اور صلاحیت کے بہاؤ کو متوازن نہ کیا جائے تو جی ڈی پی بڑھنے کے باوجود صحت،تعلیم،پانی،رہائش اور محفوظ روزگار تک رسائی میں فرق قائم رہتا ہے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ہندوستانی مارکیٹ میں بڑی کمپنیوں کا غلبہ بڑھتا جا رہا ہے بلکہ حکومت ان کا ساتھ دے رہی ہے جس کے نتیجے میں چھوٹے اور کمزور تاجروں کو باہر کا راستہ دکھایا جا رہا ہے یہ عمل ایک منظم فارمولے کی شکل اختیار کرچکا ہے اور اس کا اصل نقصان عام آدمی کو ہوگا وجہ یہ ہے کہ صارف کے پاس کوئی متبادل باقی نہیں رہے گا کہ وہ نامور کمپنیوں کے بجائے کسی چھوٹی کمپنی کا سامان خرید سکے آج جو کچھ ایئرپورٹ پر ہوا ہے کل یہی صورتحال دیگر شعبوں میں بھی دہرائی جائے گی اور ہم چاہنے کے باوجود کچھ نہیں کر پائیں گے۔
امریکی ڈالر کے مقابلے میں بھارتی روپے کی تیز رفتار کمی اور 90 روپے فی ڈالر کی حد عبور کرنے سے متعدد سوالات جنم دے دیے ہیں،ایک ایسے وقت میں جب کہ ڈالر تقریبا تمام بڑی عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں کمزور ہورہا ہے،بھارتی روپے کی کارکردگی اس رجحان کے خلاف جا رہی ہے،اس لیے روپے کی قدر میں کمی کی وجوہات پر غور و فکر کرنا ضروری ہے تاکہ اس کے بنیادی عوامل کو سمجھا جاسکے یہ کمزوری محض عالمی مالیاتی رجحانات کی عکاسی نہیں کرتی بلکہ اس کے پیچھے مقامی،اقتصادی،تجارتی اور مالیاتی عناصر بھی کار فرماہیں،جن میں تجارتی خسارہ درآمدات کا دباؤ اور بیرونی سرمایہ کاری کے رجحانات شامل ہوسکتے ہیں اس تناظر میں روپے کی قدر میں کمی کے اثرات اور اس کے ممکنہ حل پر سنجیدہ بحث وقت کی ضرورت ہے،روپے کی قدر میں کمی کے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں،اگر اقتصادی عوامل یا سرمایہ کار یہ توقع کریں کہ روپے کی قدر مزید گرسکتی ہے تو وہ برآمدات کو روکے رکھیں گے تاکہ مستقبل میں بہتر تبادلے کی شرح سے فائدہ اٹھا سکیں،اسی طرح درآمد کنندگان موجودہ درآمدات کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کی کوشش کریں گے تاکہ مستقبل میں روپے کی کمی سے بچا جاسکے جس سے تجارتی خسارہ اور بڑھ جائے گا،روپے کی قدر میں کمی کی جڑیں بھارتی معیشت میں اعتماد کی کمی کی نشاندہی کرتی ہیں یعنی سرمایہ کار اور تجارتی عناصر اس بات پر سوال اٹھا رہے ہیں کہ بھارتی معیشت مکمل طور پر محصولاتی جنگ کے اثرات کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے یا نہیں،جب تک بھارت امریکہ کے ساتھ مناسب تجارتی معاہدہ حاصل نہیں کرلیتا روپے کی قدر میں کمی کا رجحان جاری رہنے کا امکان ہے،مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں اور بین الاقوامی تعلقات کے فیصلے روپے کی قدر پر براہ راست اثر ڈال رہے ہیں حالیہ پیشرفت جیسے کہ امریکی تجارتی معاہدے میں غیر معینہ تاخیر اور غیر ملکی سرمایہ کاری کا آہستہ آہستہ باہر جانا اس بات کا عندیہ دیتا ہے کہ حکومت کی اقتصادی حکمت عملی بین الاقوامی چیلنجز کا موثر مقابلہ کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہے،مودی کی قیادت میں یہ واضح ہے کہ برآمدات کو فروغ دینا اور درآمدات پر قابو پانا حکومت کی ترجیح ہے لیکن عوام کی روزمرہ زندگی پر ڈالے جانے والے اثرات جیسے کہ مہنگائی اور درآمدی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ اس حکمت عملی کے سائے میں کم توجہ حاصل کررہے ہیں روپیہ کی قدر میں ریکارڈ کی جانے والی گراوٹ کے منفی اثرات،اب ملک کی معیشت پر نظر آنے لگے ہیں اور اس کا اثر حصص بازار پر ہونے کے نتیجے میں پچھلے دنوں حصص بازار میں زبردست گراوٹ ریکارڈ کی گئی،ہندوستان میں حصص بازار کے آغاز کے ساتھ ہی 830 پوائنٹس کی گراوٹ کے نتیجے میں سرمایہ کاروں کو 7 لاکھ کروڑ کا نقصان ہوا،جبکہ بازار بند ہونے تک بھی کوئی نمایاں بہتری ریکارڈ نہ کیے جانے کے سبب سرمایہ کاروں کو بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے،حصص بازار میں صبح کے اوقات میں ریکارڈ کی جانے والی گراوٹ مجموعی طور پر ایک فیصد ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ اور بازار بند ہونے تک بھی مجموعی طور پر سینسیکس میں 610 پوائنٹس کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے،ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ ہندوستانی روپیے کی قدر میں ریکارڈ کی جانے والی گراوٹ کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں ہونے والے اضافہ کے سبب بازار میں منفی رجحان کا سلسلہ شروع ہوا ہے اور یہ سلسلہ روپیے کے استحکام تک جاری رہنے کا خدشہ ظاہر کیا جانے لگا ہے،گزشتہ ہفتہ بازار کے کھلنے پر ڈالر کی قیمت 90 روپے 11 پیسے ریکارڈ کی گئی جبکہ دو دن قبل روپیے کی قدر میں ریکارڈ کی جانے والی گراوٹ اب تک کی سب سے زیادہ ہو چکی تھی اور ڈالر کی قیمت 90 روپے 46 پیسے تک پہنچ چکی تھی،جسکے نتیجے میں عام سرمایہ کاروں کو 7 لاکھ کروڑ کے سرمایہ سے محروم ہونا پڑا ہے،ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ بازار میں جو گراوٹ ریکارڈ کی گئی اسے بہتر بنانے کے لیے اگر فوری طور پر اقدامات نہیں کیے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں ملک بھر میں مندی کے حالات پیدا ہونے کا خدشہ ہے اور مندی کے دور میں اگر خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کا اثر قیمتوں پر پڑنے لگ جائے گی اور آسمان چھونے والی مہنگائی کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ کے راست اثرات اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر پڑ سکتے ہیں دوسری جانب امیروں کے لاکھوں کروڑوں روپے کے قرضے معاف کئے جارہے ہیں،ملک کے پبلک سیکٹر بینکوں کی جانب سے پچھلے تقریبا 6 سالوں میں 6.15 لاکھ کروڑ روپئے کے قرضوں کو (رائٹ آف) کرنے کا حالیہ انکشاف نہ صرف یہ کہ چونکا دینے والا مالیاتی عمل ہے بلکہ یہ ایک ایسا سماجی اور اخلاقی تضاد بھی ہے جو عوام کو شدید الجھن اور غصے میں مبتلا کردیتا ہے،حکومت کے وزیر مملکت برائے خزانہ پنکج چودھری کتنی ہی لفاظی سے اسے بیلنس شیٹ صاف کرنے اور قرض معافی نہ ہونے کا نام دیں لیکن یہ اعداد و شمار غریب عوام کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہیں،ریزرو بینک آف انڈیا کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق پبلک سیکٹر کے بینکوں نے 30 ستمبر 2025 تک پچھلے پانچ مالی سالوں اور رواں مالی سال کے دوران مجموعی طور پر 6 کروڑ 15 لاکھ 647 روپے کے قرضوں کو اپنے کھاتوں سے خارج کردیا،صرف تین مالی سالوں کا اگر اجمالی جائزہ لیا جائے تو مالی سال 2020 21 میں ایک سے 1.33 لاکھ کروڑ روپیے اور 2021 22 میں 1.16 لاکھ کروڑ روپے اور 2022 23 میں 1.27 لاکھ کروڑ روپے کی خطیر رقوم کو رائٹ آف کیا گیا،حکومت کا یہ موقع بظاہر لولا لنگڑا معلوم ہوتا ہے کہ رائٹ آف قرض کی معافی نہیں ہے اور قرض لینے والے اپنے واجبات کی ادائیگی کے ذمہ دار رہتے ہیں،اگر ایسا ہی ہے تو پھر حقیقت یہ ہے کہ پچھلے پانچ سالوں میں ان رائٹ آف قرضوں سے محض 1.65 لاکھ کروڑ روپیے ہی وصول کیے جا سکے ہیں،ذرا غور کیجئے کہ 6.15 لاکھ کروڑ روپے کے پہاڑ کے مقابلے میں یہ وصولی آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہے،یہ اعداد و شمار خود ہی اس دعوے کی کمزوری کی گواہی دے رہے ہیں کہ قرض لینے والے اب بھی ذمہ دار ہیں اگر وہ ذمہ دار ہیں تو پھر وصولی کیوں نہیں ہو رہی ہے؟ دوسری طرف جب ایک عام آدمی یا کوئی غریب کسان یا ایک چھوٹا تاجر چند ہزار یا لاکھ روپے کے قسط ادا کرنے سے قاصر ہوتا ہے تو اس پر بینکوں اور ریکوری ایجنسیوں کا ظلم و ستم ٹوٹ پڑتا ہے،ان کی جائیدادیں ضبط کر لی جاتی ہیں،اور بعض اوقات تو کسان محض پانچ لاکھ روپے قرض کی وجہ سے خودکشی کے لیے مجبور ہوجاتا ہے،کانگرس ترجمان سپریہ شرینیت کا یہ بیان بالکل برحق ہے کہ امیروں کے لئے 6.15.000.000.000 روپئے معاف کئے گئے ہیں لیکن عام لوگوں پر جبر کیا جاتا ہے۔یہ ایک دوہرا معیار ہے ایک ناقابل قبول مالیاتی استحصال ہے،جہاں قانون کی تلوار غریبوں کے لیے تیز اور امیروں کے لیے کند ہیں،حکومت کا یہ جواز کہ psbs میں اپنی مالی کارکردگی بہتر کر لی ہے اور وہ اب مارکیٹ سے سرمایہ اکٹھا کررہے ہیں،اپریل 2022 سے ستمبر 2025 کے درمیان 1.79 لاکھ کروڑ روپے یہ محض مسئلے سے نظریں چراناہے،بینکوں کی مالی حالت کو بظاہر بہتر دکھانے کے لئے ان نان پرفارمنگ اثاثوں کو بیلنس شیٹ سے ہٹانے کا یہ عمل دراصل غریب عوام کے ٹیکس کا بوجھ بنتاہے،رائٹ آف سے بھلے ہی کیش آؤٹ فلو نہ ہو کیونکہ پروویزنگ پہلے ہوچکی ہے لیکن یہ بات عوام کے ذہنوں میں ایک سوال چھوڑ جاتی ہے کہ یہ پروویزنگ اور پھر رائٹ آف آخر مالداروں اور بڑے قرض دہندگان کے لیے ہی کیوں آسان ہوتا ہے؟ کیا یہ عمل قرض دہندہ کو یہ یقین دہانی نہیں کراتا کہ وہ بالآخر سزا سے بچ جائے گا،قرضوں کی وصولی کے لیے سول کورٹس ایکٹ اور این سی ایل ٹی جیسے میکانزم کی موجودگی کے باوجود اگر وصولی کی شرائط اتنی کم ہے تو یہ نظام کی ناکامی یا پھر نظام میں کسی بڑے سقم اور ملی بھگت کی جانب اشارہ کرتی ہے۔بینکوں کی لیکویڈیٹی اور ٹیکس فوائد کی آڑ میں کیا جا رہا یہ رائٹ آف کا عمل درحقیقت بینکوں کی کارپوریٹ قرض دہندگان کے سامنے جواب دہی کے فقدان کا عکاس ہے اس کے علاوہ گزشتہ ساڑھے چار سالوں میں 5.83.291 فراڈ کیسز کا اندراج جن کی رقم ستمبر 2025 تک3.588.22 کروڑ روپے بنتی ہے،بینکنگ سیکٹر میں بڑھتی ہوئی بے ضابطگیوں کی بھی خبردیتا ہے،اگر حکومت سائبر فراڈ کے خلاف سخت اقدامات کے دعوے کررہی ہے تو اس کی شفافیت کہاں ہے؟آج بینکنگ سیکٹر کو سچی اور کھری شفافیت اور سب سے اہم ایک ایسی مضبوط جواب دہی کی ضرورت ہے،جہاں بڑے پیمانے پر قرض لینے والے بھی عام آدمی کی طرح ہی قانون کے سامنے جواب دہ ہوں،جب تک امیروں کے قرضے رائٹ آف ہوتے رہیں گےاور غریبوں کی جائیدادیں ضبط ہوتی رہیں گی،اس ملک میں مالیاتی انصاف کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا،ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے اورتیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت کا دعوی حکومت کرتی ہے لیکن اس ترقی کے ساتھ ساتھ معاشی تفاوت یعنی امیر اور غریب کے درمیان فرق غیر معمولی حد تک بڑھ رہاہے،رپورٹس کے مطابق 2020سے 2023 کے دوران بالائی سطح کے امیر ترین افراد کی دولت میں 62 فیصد اضافہ ہوا جبکہ متوسط اور غریب طبقہ بنیادی سہولتوں کے لیے بھی جدوجہد کررہا ہے،یہ صورتحال نہ صرف معاشی انصاف بلکہ سماجی استحکام کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ہے،ہندوستان میں دولت کا بڑا حصہ چند ہاتھوں میں مرتکز ہورہا ہے، کارپوریٹ سیکٹر اور بڑے سرمایہ کاروں کی دولت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے،جبکہ دیہی اور شہری حلقوں میں غریب طبقہ تعلیم،صحت اور روزگار کے مواقع سے محروم ہے یہ تفاوت معاشرتی نا ہمواری کو بڑھا رہا ہے اور طبقاتی تقسیم کو مزید گہرا کررہا ہے،حکومتی پالیسیاں سرمایہ دار طبقے کو فائدہ پہنچاتی ہیں جبکہ غریب عوام کے لیے فلاحی اقدامات ناکافی ہیں،ٹیکس نظام میں عدم توازن اور سبسیڈی کی غیر منصفانہ تقسیم اس فرق کو مزید بڑھارہی ہے،زرعی شعبہ جو کروڑوں افراد کا ذریعہ معاش ہے مسلسل نظر انداز ہورہا ہے،معاشی تفاوت کو کم کرنے کے لیے تعلیم اور صحت کے شعبے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری ضروری ہے،ٹیکس اصلاحات کے ذریعے امیر طبقے پر زیادہ بوجھ ڈالنا اور غریب طبقے کو سہولتیں فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے،روزگار کے مواقع بڑھانے اور دیہی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے جامع منصوبہ بندی ناگزیر ہے ہندوستان کی ترقی اس وقت تک پائیدار نہیں ہو سکتی جب تک معاشی تفاوت کو کم نہ کیا جائے اگر دولت چند ہاتھوں میں رہی تو سماجی بے چینی اور سیاسی عدم استحکام بڑھنے کا خطرہ ہے ایک مضبوط اور منصفانہ ہندوستان کے لیے ضروری ہے کہ ریاست ایسی پالیسیاں اپنائے جو سب کے لیے یکساں مواقع فراہم کریں اور معاشرتی انصاف کو یقینی بنائیں،حکومت کی پالیسیوں اور انکے فیصلوں دیکھ کر تو یہی لگتا ہے کہ بھارت کو جھوٹ اور لوٹ کی منڈی میں تبدیل کردیا گیاہے،ہرطرف جھوٹ اور لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم ہے۔
*(مضمون نگار معروف صحافی اور کل ہند معاشرہ بچاؤ تحریک کے جنرل سکریٹری ہیں)*

