سرفرازاحمدقاسمی حیدرآباد
رابطہ: 8099695186
ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری کا شور صرف بازاروں تک محدود نہیں رہا،اب یہ ہر چولہے،ہر باورچی خانے اور ہر خالی جیب سے اٹھتا دھواں بن چکا ہے،حکومت کے اعداد و شمار کچھ بھی کہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ عام آدمی کی زندگی روز بروز مہنگی اور امیدیں،دن بدن سستی ہوتی جا رہی ہیں،صابن سے لے کر سبزی تک، کرائے سے لے کر کھانے کے تیل تک سب کچھ اوپر جارہا ہے،سوائے عوام کی قوت خرید کے،رہی سہی کسر اس ایندھن اور مہنگائی نے پوری کردی،جسے خود ریزرو بینک نے قیمتوں میں اضافے کا مرکزی ولن قراردیا ہے،گزشتہ سال کے دوران پکانے والی گیس کی قیمت میں 950 روپے فی سلنڈر اضافہ ہوا، انتخابات سے قبل 100 روپے کی عارضی رعایت دی گئی مگر اپریل میں دوبارہ 50 روپے کا اضافہ کر کے عوامی ریلیف کا سب خواب چکنا چور کردیا گیا، کولکاتہ میں گیس کی قیمت اب 879 روپے فی سلنڈر ہے یعنی ایک متوسط گھرانے کی خطیر رقم صرف چولہے کے نیچے جلنے والی آگ میں تحلیل ہورہی ہے اور جب ایندھن مہنگا ہو تو بازار کی ہر چیز آگ پکڑ لیتی ہے مگر یہاں المیہ یہ ہے کہ حکومت نے قیمتوں کے کنٹرول،جی ایس ٹی میں کمی اور افراط زر کے گھٹنے کے دعوؤں سے ایک ایسا افسانہ تراشہ ہے جس کا زمین پر کوئی وجود نہیں ہے،سوال یہ ہے کہ آخرآسمان چھوتی قیمتیں کب رکیں گی؟ اور کیا واقعی مودی حکومت کے دعوے کے مطابق قیمتوں پر قابو پالیا گیا ہے؟ ملک کے اقتصادی افق پر رواں سہ ماہی میں بھی جو تصویر ابھری ہے وہ عام آدمی کی زندگی پر بڑھتے معاشی دباؤ اور حکومتی دعؤں کے درمیان گہری خلیج کو آشکار کرتی ہے،معروف ایف ایم سی جی کمپنیوں، ہندوستانی یونی لیور، گودریج کنزیومر پراڈکٹس،ماریکو، آئی ٹی سی،ٹاٹا کنزیومرز پروڈکٹس اور ڈابر سبھی نے ستمبر کی سہ ماہی میں منافع کے گرتے مارجن،بلند ان پٹ لاگت اور خوراک کے افراط زر کی پرچھائیوں کی شکایت کی ہے،خوراک ایندھن،پام آئیل، کافی، کوکو جیسے اجناس کی قیمتوں نے منڈیوں کو ہلا ڈالا اور شہری کھپت کی رفتار کو زبردست جھٹکا لگا ہے،نیسلے انڈیا کے سربراہ سریش نارائن نے تو صاف کہا کہ درمیانی طبقہ بری طرح دباؤ میں ہے، وہ طبقہ جو کبھی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کہلاتا تھا اب اپنی ریڑھ سیدھی رکھنے کے قابل نہیں رہا۔ خوراک کی افراط زر نے گھریلو بجٹ کے پرخچے اڑا دیے ہیں،فوڈ اینڈ بیوریجز سیکٹر کی ترقی جو کبھی دوہرے ہندسوں میں تھی،اب محض 1.5 تا دو فیصد پر اٹکی ہوئی ہے،حکومت کا دعوی ہے کہ ستمبر میں قیمتوں میں اضافے کی شرح کم ہو کر5 فیصد رہ گئی،اعداد کہہ رہے ہیں کہ افراط زر 2017 کے بعد کی نچلی ترین سطح پر ہے لیکن محلے کی دکانیں، سبزی فروش اور چھوٹے بازار اس کہانی کو نہیں جانتے،نہ دال نہ پھل،نہ دودھ،نہ مچھلی کسی نے بھی گرانی کے اس بوجھ سے رعایت نہیں پائی،عام آدمی آج بھی بازار میں سبزی تولتے وقت دکاندار سے الجھتا ہے،آٹے کے تھیلے کی قیمت پر چونکتا ہے اور گیس کے بل کو دیکھ کر سوچتا ہے کہ وہ اگلے ماہ بجلی کا بل کیسے بھرے گا؟ اعداد کا تلخ حسن یہی ہے کہ وہ کبھی جھوٹ نہیں بولتے لیکن انہیں پیش کرنے والے اکثر سچ چھپا لیتے ہیں،جب حکومت یہ کہتی ہے کہ مہنگائی کم ہورہی ہے تو شاید اس کا اشارہ ایک خاص اشاریہ کی طرف ہوتاہے مگر عام شہری کے لیے مہنگائی اس گیس سلنڈر،اس تیل کی بوتل اور اس پاؤ دودھ اور سبزی کے دام میں چھپی ہے،جو اب اس کے ہاتھ سے پھسل رہی ہے،افراط زر کا نچوڑ وہ محرومی ہے جو بازار کی چمک کے نیچے سوختہ خوابوں کی مانند سلگ رہی ہے اور حکومت کے رعایتی وعدے خوشنما نعرے بن کر عوام کی زخم خوردہ جیب پر نمک چھیڑک رہے ہیں،صحت تعلیم،رہائش،صابن،تیل،شیمپو اور زیورات،ہر ضرورت اپنے عروج قیمت پر ہے،سونا اور چاندی جنہیں روایتی طور پر خوشحالی کی علامت سمجھاجاتا تھا اب صرف خواب بن کر رہ گئے ہیں،حقیقت یہ ہے کہ قیمتوں کی یہ آگ صرف منڈیوں میں نہیں جل رہی،یہ عوام کے صبر،امید اور مستقبل کو بھسم کررہی ہے،یہ وہ تلخ حقیقت ہے جو جی ایس ٹی سیونگ فیسٹیول جیسے نعرے کو طنز بنادیتا ہے،معیشت کی اصل کامیابی جی ڈی پی کی شرح میں نہیں،چولہے کی آنچ میں دیکھی جاتی ہے وہ آج مدھم نہیں بلکہ مہنگائی کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے،ایف ایم سی جی کمپنیاں اگر اپنے مارجن بچانے کے لیے قیمتیں بڑھارہی ہیں تو عوام کے پاس اپنی زندگی کا مارجن ختم ہوچکا ہے جو یقینا تشویش ناک ہے۔
کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اور قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے پچھلے دنوں پارٹی کی ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ سے پہلے ایک بار پھر مہنگائی اور ووٹ چوری کا معاملہ اٹھایا،انہوں نے اسے بے روزگاری سے جوڑتے ہوئے کہا کہ یہ آزاد ہندوستان کی تاریخ کا سب سے بڑا بحران ہے،ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں راہل گاندھی نے کہا ہندوستان میں نوجوانوں کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ بے روزگاری ہے اور اس کا براہ راست تعلق ووٹ چوری سے ہے،جب کوئی حکومت عوام کا اعتماد جیت کر نہیں بلکہ چوری کر کے الیکشن جیتتی ہے تو اسے نوکریاں فراہم کرنے بھرتی کے عمل کو بہتر بنانے یا نوجوانوں کے خوابوں کی حفاظت سے کوئی سروکار نہیں ہوتا،وزیراعظم نریندر مودی اور بی جے پی پر نوجوانوں کے مستقبل سے کھیلنے کا الزام لگاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بے روزگاری اس وقت بلند ترین سطح پر ہے،ملازمتیں مسلسل کم ہورہی ہیں اور بھرتی کے عمل کو پیپر لیک اور بدعنوانی نے تباہ کر دیا ہے،انہوں نے کہا ملک کے نوجوان سخت محنت کررہے ہیں اور خواب دیکھ رہے ہیں لیکن مودی صرف اپنی عوامی رابطہ مہم،مشہور شخصیات کی حمایت اور عرب پتیوں کے منافع میں مصروف ہیں، اس حکومت کی اصل پہچان نوجوانوں کی امیدوں کو چکنا چور کرنا اور انہیں مایوس کرنا ہے،راہل گاندھی نے کہا کہ حالات بدل رہے ہیں،ہندوستان کے نوجوان یہ سمجھ چکے ہیں کہ لڑائی صرف نوکریوں کی نہیں،بلکہ ووٹ چوری کے خلاف ہے،جب تک الیکشن چوری ہوتے رہیں گے،بے روزگاری اور کرپشن بڑھتی رہے گی،انہوں نے مزید کہا کہ اب نوجوان نوکریوں کی چوری برداشت کریں گے اور نہ ہی ووٹ کی چوری کو برداشت کریں گے،اب سب سے بڑی حب الوطنی ہندوستان کو بے روزگاری اور ووٹ کی چوری سے نجات دلانے میں ہے،وزیراعظم مودی کی سالگرہ تقریبات پر تنقید کرتے ہوئے کانگریس لیڈر نے کہا کہ مودی نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں،لیکن وہ ہمیشہ اپنی سالگرہ کو شایان شان طریقے سے منانے اور اپنی شبیہ کو بڑھانے میں مصروف رہتے ہیں،جبکہ ملک کا نوجوان مایوسی اور بدحالی سے دوچار ہے،ایسے وقت میں وزیراعظم کی سالگرہ منانا غیرحساسیت کا سب سے بڑا ثبوت ہے،کانگریس نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ مودی حکومت نے سرکاری شعبے کی بیمہ کمپنی لائف انشورنس کارپوریشن آف انڈیا میں پالیسی ہولڈرز کے پیسے کے غلط استعمال کے لیے قواعد و ضوابط میں تبدیلی کی ہے اور غیر قانونی طریقے سے صنعت کار اڈانی کو فائدہ پہنچایاہے،کانگریس کے جے رام رمیش نے ایک بیان میں کہا کہ میڈیا میں حال ہی میں کچھ تشویش ناک انکشافات سامنے آئے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ حکومت نے ایل آئی سی اور اس کے 30 کروڑ بیمہ ہولڈرز کی رقم کا منظم انداز میں غلط استعمال کرکے اڈانی کو فائدہ پہونچایا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک اندرونی دستاویز کے مطابق سرکاری حکام نے گزشتہ مئی میں ایک تجویز تیار کی اور اسے آگے بڑھایا،جس کے تحت ایل آئی سی کی تقریبا 34 ہزار کروڑ روپے رقم اڈانی گروپ کی مختلف کمپنیوں میں لگائی گئی،رپورٹ کے مطابق اس کا مقصد اڈانی گروپ پر اعتماد کا اظہار کرنا اور دیگر سرمایہ کاروں کی شمولیت کی حوصلہ افزائی کرنا تھا، کانگرس نے سوال اٹھایا کہ آخر وزارت خزانہ اور نیتی ایوگ کے حکام پر کس کا دباؤ تھا؟جسکے تحت انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ ان کا کام ایک ایسی نجی کمپنی کو بچانا ہے جو سنگین مجرمانہ الزامات کی وجہ سے مالی بحران کا شکار ہے،انھیں فہرست بند کمپنی ایل آئی سی کو سرمایہ کاری کرنے کی ہدایت دینے کا حق کس نے دیا؟کیا یہ موبائل فون بینکنگ جیسا ہی معاملہ نہیں ہے؟ رمیش نے صنعت کار اڈانی کے بارے میں تفصیل سے بتایا کہ جب 21 ستمبر 2024 کو گوتم اڈانی اور ان کے ساتھیوں پر امریکہ میں فرد جرم عائد کی گئی تو صرف چار گھنٹے کی ٹریڈنگ میں ہی ایل آئی سی کو 920 ارب ڈالر یعنی 7850 کروڑ ڈالر کا بڑا نقصان ہوا،اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوامی سرمایے کو من پسند کارپوریٹ گھرانوں پر لٹانے کی کتنی بڑی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے،اڈانی پر ہندوستان میں مہنگے سولار انرجی ٹھیکے حاصل کرنے کے لیےدو ہزار کروڑ روپے کی رشوت اسکیم بنانے کا الزام ہے۔
ہندوستان میں بدعنوانیوں کے تدارک کے ذمہ دار ادارہ لوک پال کی جانب سے مہنگی بی ایم ڈبلیو گاڑیوں کی خریداری کے معاملے میں کانگریس نے سخت تنقید کرتے ہوئے استفسار کیا کہ آخر لوک پال کو ان مہنگی گاڑیوں کی کیا ضرورت پڑ گئی؟ سپریم کورٹ کے جج بھی اتنی مہنگی گاڑیوں میں سفر نہیں کرتے،پھر صدر نشیں لوک پال اور 6 ارکان کو بی ایم ڈبلیو کاروں کی کیا ضرورت ہے؟ حالیہ دنوں میں لوک پال نے ایک 7 بی ایم ڈبلیو کاریں خریدنے کے لیے ٹینڈر جاری کیا ہے جس کی مجموعی قیمت پانچ کروڑ روپے ہے،اس پر کانگریس کے جنرل سیکریٹری جے رام رمیش نے میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا کہ لوک پال اب لوک پال نہیں رہا بلکہ یہ شوق پال بن گیا ہے،انا ہزارے،اروند کیجریوال،انڈیا اگینسٹ کرپشن اور آر ایس ایس کی جانب سے غلط تشہیر کر کے منموہن سنگھ حکومت کے خلاف ایک جھوٹی کہانی گڑھی گئی تھی اور اب لوک پال کی سچائی عوام کے سامنے ہے،انہوں نے کہا کہ یہ پوچھا جانا چاہیے کہ لوک پال نے کیا جانچ کی ہے اور کن لوگوں کو گرفتار کرنے میں کامیاب رہا ہے؟ خیال رہے کہ لوک پال نے 7 مہنگی بی ایم ڈبلیو کاروں کی خریدی کے لیے ایک ٹینڈر جاری کیا ہے،قبل ازیں کانگریس کے رہنما اور راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ پی چدمبرم نے بھی لوک پال کے اس قدم کی تنقید کی ہے،چدمبرم نے پوچھا کہ جب سپریم کورٹ کے ججوں کو معمولی کار سیڈان دی جاتی ہے تو صدر نشین لوک پال اور اس کے 6 ارکان کو بی ایم ڈبلیو کاروں کی کیا ضرورت ہے؟ پی چدمبرم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ان کاروں کو خریدنے کے لیے عوامی پیسہ کیوں خرچ کیا جائے؟ مجھے امید ہے کہ کم از کم ایک یا دو ارکان ان کاروں کو خریدنے سے انکار کردیں گے یا کر چکے ہوں گے، کانگریس کے سینئر رہنما ابھیشک سنگوی نے ایکس پر لکھا کہ یہ اینٹی کرپشن باڈی اب اپنے ارکان کے لیے بی ایم ڈبلیو آرڈر کر رہی ہے،یہ ایک افسوسناک المیہ ہے،دیانت داری کے محافظ جائز،ناجائز کی پرواہ کیے بغیر عیش و آرام کے پیچھے بھاگ رہے ہیں،انہوں نے یہ بھی کہا کہ 2019 میں اپنے قیام کے بعد سے لوک پال کو 8703 درخواستیں ملی ہیں،ان میں سے صرف 24 تحقیقات ہوئی اور 6 مقدمات کی منظوری دی گئی ہے۔
آج کا ہندوستان اپنے معاشی ارتقا کے جس موڑ پر کھڑا ہے وہاں جھنکارتے نعروں،اعداد کی بازی گری اور خود فریبی کے سپنوں کے پیچھے ایک تلخ اور زہریلا سچ چھپا ہوا ہے اور وہ ہے قرض کا پہاڑ جو دن بدن بڑھتا جارہا ہے،مالی سال 2013/14 تک جہاں ملک پر محض 55 لاکھ کروڑ روپے کا قرض تھا وہیں مودی حکومت کے 12 برسوں میں یہ اعداد و شمار 200 لاکھ کروڑ کے خوفناک ہندسے کو چھونے جارہے ہیں،دوسرے لفظوں میں آزادی کے بعد کے 66 برسوں میں سابقہ حکومتوں نے جتنا قرض لیا،موجودہ حکومت نے اس کا ڈھائی گنا صرف ایک دہائی میں بوجھ دیا،یہ محض عددی اضافہ نہیں بلکہ معاشی توازن،ریاسی خود مختاری اور مالی نظم و ضبط کی جڑوں میں گڑھی گئی دراڑوں کا اعلان نامہ ہے۔ مرکزی وزارت خزانہ کے مطابق اگست 2025 تک کل قرض 185 لاکھ کروڑ روپے ہوچکا تھا اور مالی سال 2025/26 کے اختتام تک یہ 200 لاکھ کروڑ کو چھولے گا،محض سود کی ادائیگی پر 12 لاکھ 76 ہزار کروڑ روپے خرچے کیے جا رہے ہیں،یعنی آمدنی کا وہ بڑا حصہ جو تعمیری ترقی پر صرف ہونا چاہیے تھا،محض قرض کے سود کے اندھیرے غار میں گم ہے،یہی نہیں،حکومت رواں مالی سال میں غیر ملکی قرض 10.1 فیصد کی تیز رفتار سے بڑھا رہی ہے،جبکہ غیر ملکی قرض کی کل رقم 736 ملین امریکی ڈالر یعنی 65 لاکھ کروڑ روپے ہے،اس میں سے طویل مدتی قرض 602 بلین اور قلیل مدتی قرض 134.5 بلین ڈالر کا ہے،عوامی خزانہ سود کے شکنجے میں جکڑا جارہا ہے اور حکومت پچھلے قرضوں کی ادائیگی کے لیے نئے قرض لے کر معاشی بھنور میں دھنستی جارہی ہے،مودی حکومت نے اب تک اوسطا ہر سال 12.08 لاکھ کروڑ کے قرض کا بوجھ ملک پر ڈالا ہے،جو سابقہ حکومتوں سے تقریبا 15 گنا زیادہ ہے،اگر آزادی کے بعد کی حکومتوں نے اوسطا سالانہ 0.83 لاکھ کروڑ روپے قرض لیا تو موجودہ حکومت کی رفتار اس بات کا ثبوت ہے کہ قرض لینا اب قومی پالیسی میں ایک معمولی امر نہیں بلکہ سیاسی مکاری کا حربہ بن چکا ہے،اس وقت ہر ہندوستانی کے سر پر اوسطا ایک لاکھ 42 ہزار روپے کا قرض ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ قرض اب نہ صرف قومی اعداد و شمار بلکہ عام شہری کے وجود کا حصہ بن چکا ہے،لیکن خطرے کی گھنٹی صرف دہلی تک محدود نہیں،مغربی بنگال کی مثال اس کہانی کا دوسرا باب ہے،مالی سال 2010/11 میں ریاستی قرض جہاں محض 1.92 لاکھ کروڑ تھا وہ اب 7.71 لاکھ کروڑ روپے تک جا پہنچا ہے یعنی ممتا حکومت نے 14 برسوں میں 5.79 لاکھ کروڑ روپے قرض لے کر ریاست کو مکمل طور پر قرض کی زنجیروں میں جکڑدیا ہے،ممتا حکومت اوسطا ہر سال 41ہزار 405 کروڑ روپیے کا قرض لے رہی ہے،جو پچھلی حکومتوں سے تقریبا 14 گنا زیادہ ہے،اگر بائیں محاز حکومت کے زمانے کا اوسطا سالانہ 3 ہزار کروڑ روپے کا قرض ممتا کے نزدیک جرم تھا تو آج کا یہ 41 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کا سالانہ قرض آخر کیا ہے؟ نادانی؟منافقت یا معاشی خودکشی؟ ریاستی آمدنی کا حال یہ ہے کہ آمدنی کے مقابلے سود اور قرض کی ادائیگی پر خرچ ہونے والی رقم بڑھتی جارہی ہے،مالی سال 2024 25 میں ریاست کی کل آمدنی 99.863 کروڑ روپے اور قرض کی ادائیگی 77.228 کروڑ روپے تھی،جبکہ اگلے برس یعنی 2025/26 میں آمدنی 1.12,543کروڑ اور قرض کی ادائیگی 81.510 کروڑ روپے تک پہونچ گئی،یہ صورتحال صاف ظاہر کرتی ہے کہ ریاستی حکومت اپنی آمدنی کا بیشتر حصہ قرض کے سود کی ادائیگی میں جھونک رہی ہے،اس بھیانک معاشی بے وزنی نے مغربی بنگال کو محض مرکزکی گرانٹس اور ٹیکسوں کے حصے پر زندہ رکھا ہوا ہے،مزید افسوسناک پہلو یہ ہے کہ مرکز اور ریاست دونوں حکومتوں نے قرضوں کے ماخذ اور شرائط کو عوام سے چھپا رکھا ہے،نہ یہ معلوم ہے کہ کس ملک یا ادارے سے کس شرح سود پر قرض لیا جارہا ہے، اور نہ یہ کہ قرض کی رقم کن شعبوں میں خرچ ہورہی ہے؟ اگر قرض پیداواری شعبوں،صنعت توانائی،نقل و حمل انفراسٹرکچر پر صرف ہوتا تو شاید ان قرضوں سے ترقی کے دروازے کھلتے مگر افسوس بیشتر رقم غیر پیداواری اخراجات اور مقبولیت کی سیاست میں ضائع ہورہی ہے،اس طرح کا قرض نہ صرف ناقابل واپسی ہوتا ہے،بلکہ ریاست کو سود کی غلامی میں جکڑدیتا ہے،جس قوم کا بجٹ قرض پر کھڑا ہو جس کی حکومتیں عوامی فلاح کے نام پر سود میں جیتی ہوں اور جس کی معیشت سرمایہ کاروں کے اعتماد کے بجائے سیاسی عناد پر ٹکی ہو وہ زیادہ دیر مستحکم نہیں رہ سکتی،آج کا ہندوستان ایک نازک دہانے پر کھڑا ہے،جہاں معیشت کے اعداد مصنوعی ترقی کا پرچم لہرارہے ہیں مگر حقیقت میں نیچے زمین دھنستی جارہی ہے یہ وہی راستہ ہے جس کے انجام پر سری لنکا جیسی مثالیں ہمارا انتظار کر رہی ہیں،کیا یہ سمجھا جائے کہ ملک کو سری لنکا بنایاجارہاہے؟ وقت آگیا ہے کہ سیاستداں،دانشور اور ملک کا ہرشہری اس قرض کے شیطانی چکر پر کھل کر بات کرے، اگر اب بھی خاموشی رہی تو آنے والی نسلیں صرف ایک سوال پوچھیں گی کہ یہ قوم کب اور کیوں اپنی معیشت کو گروی رکھ کر خوابوں کا جال بننے لگی؟اور وشو گرو،وکست بھارت یا امرت کال کا خواب دیکھنے لگی؟پھر ان حالات سے نکلنے کا راستہ کیا ہے؟
*(صاحب تحریر،معروف تجزیہ نگار اور کل ہند معاشرہ بچاؤ تحریک کے جنرل سکریٹری ہیں)*

