Delhi-NCR

حاجی سید سلمان چشتی کی وگیان بھون بین المذاہب کانفرنس میں شرکت بھارت کی وحدت میں کثرت کی زندہ روایت کو اجاگر کیا

نئی دہلی ۔20؍دسمبر۔ ایم این این۔سری گرو تیغ بہادر جی کی 350ویں عظیم شہادت کے پُر وقار موقع پر ویگیان بھون کے پلینری ہال میں ایک تاریخی بین المذاہب کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں درگاہ اجمیر شریف کے گدی نشین اور چشتی فاؤنڈیشن کے چیئرمین حاجی سید سلمان چشتی کی معزز موجودگی اور روحانی خطاب نے بھارت کی ہم آہنگی، امن اور مذہبی بقائے باہمی کی دیرینہ روایت کی توثیق کی۔اس کانفرنس کے مہمانِ خصوصی بھارت کے معزز نائب صدر شری سی پی رادھا کرشنن جی تھے، جبکہ اس کا اہتمام پدم شری ڈاکٹر وکرم جیت سنگھ سہنے، رکنِ پارلیمان (راجیہ سبھا)، انٹرنیشنل پریزیڈنٹ—ورلڈ پنجابی آرگنائزیشن، اور چیئرمین—گلوبل انٹر فیتھ ہارمونی فاؤنڈیشن نے کیا۔اپنے خطاب میں نائب صدر شری سی پی رادھا کرشنن جی نے سری گرو تیغ بہادر جی کی تاریخی قربانی کو یاد کرتے ہوئے اسے ’’ایک آفاقی اخلاقی عمل قرار دیا، جہاں دوسرے کے مذہب کے دفاع کو روحانی جرات کی اعلیٰ ترین مثال بنایا گیا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ بھارت کی آئینی روح اور تہذیبی دانش تکثیریت، مکالمے اور عقیدے کی آزادی کے احترام میں گہرائی سے پیوست ہے۔ڈاکٹر وکرم جیت سنگھ سہنے جی نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت کے گروؤں، رشیوں، سنتوں اور صوفی بزرگوں نے مل کر قوم کی روحانی قوت کی حفاظت کی ہے، جس کے باعث بھارت ایک ایسی سرزمین کے طور پر ابھرا ہے جہاں روحانی حکمت اور جامع ترقی ساتھ ساتھ آگے بڑھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بین المذاہب ہم آہنگی بھارت کی سب سے بڑی سافٹ پاور اور دنیا کے لیے اس کی اخلاقی عطا ہے۔اجمیر شریف کے روحانی پیغام کو اجاگر کرتے ہوئے حاجی سید سلمان چشتی جی نے کہا کہ ’’گرو تیغ بہادر جی کی شہادت بھارت کے رشیوں، صوفی بزرگوں اور اولیاء کی تعلیمات کے شانہ بشانہ انسانی وقار، ضمیر اور ایمان کے تحفظ کے مقدس فریضے کی زندہ مثال ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کی اصل طاقت رحم دل تکثیریت میں ہے—جہاں روحانیت امن، ہم آہنگی اور پائیدار قومی ترقی کی پرورش کرتی ہے۔کانفرنس میں نامور مذہبی رہنماؤں نے بصیرت افروز خیالات پیش کیے، جن میں نامدھاری ست گرو اُدے سنگھ جی، سنگھ صاحب منجیت سنگھ جی (سابق جتھیدار، سری اکال تخت صاحب)، ایچ ایچ جین آچاریہ لوکیش مُنی جی، سوامی چدانند سرسوتی جی، سوامی گووند دیو گری جی مہاراج، اور ریورنڈ فادر مونو دیپ ڈینیئل جی شامل تھے۔ تمام مقررین نے امن، انسانی حقوق اور عالمی ہم آہنگی کے لیے متحد آواز بلند کی۔بین المذاہب کانفرنس اس اجتماعی عزم کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی کہ بھارت کی ازلی روحانی روایات—جنہیں معزز گروؤں، اولیاء، رشیوں اور صوفی بزرگوں نے تشکیل دی ،آج بھی قوم کی روح کی حفاظت کرتی ہیں اور دنیا کو وحدت، مکالمے اور امن پر مبنی مستقبل کی طرف رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔

Related posts

بھارت  ڈیجیٹل کے شعبہ  میں ایک اہم مارکیٹ ہے

Awam Express News

دینی تعلیمی بورڈ جمعیۃ علماء صوبہ دہلی کے تحت مکاتب کا دوسرا مرکزی امتحان منعقد

Awam Express News

جمعیۃ تعلیم کے میدان میں ہمارے ساتھ چل کر دیش کا نرمان کررہی ہے : پروفیسر سروج شرما این آئی اویس چیف

Awam Express News