بارہ بنکی (ابوشحمہ انصاری)بزمِ عزیز کی ماہانہ طرحی نشست بزم کے صدر الحاج نصیر انصاری کے مکان واقع شہر کے محلہ نبی گنج میں منعقد ہوئی۔ جِس کی صدارت عقیل غازی پوری نے فرمائی ۔اور نظامت کے فرائض ھزیل لعل پوری نے بخوبی انجام دیئے۔ مہمانانِ خصوصی کے طور پر محسن قدوائی اور لطیف بارہ بنکوی شریک ہوئے ۔ بزم کی جانب سے دیا گیا مصرع طرح” تری نگاہِ کرم کا ہے انتظار مُجھے” پر نشست میں شامل تمام شعرائے کرام نے ایک سے بڑھ کر ایک کلام پیش کیے۔
پسند کیے جانے والے اشعار نذرِ قارئین ہیں۔
بہُت عزیز رہا ہے ترا دیار مُجھے
یہی بنائے گا اِک روز باوقار مُجھے
عقیل غازی پوری
طوافِ در کروں يا رب ہوا میں اُڑ۔اُڑ کر
بنا دے کوچہء محبوب کا غُبار مُجھے
الحاج نصیر انصاری
گریباں چاک ہی کافی نہیں مرے حق میں
ابھی تو پیرہن کرنا ہے تار ۔تار مُجھے
محسن قدوائی
وہ ایک لمحہ جو گزرا تری جُدائی میں
تمام بار کیا اُس نے اشک بار مُجھے
لطیف بارہ بنکوی
میں خاکسار ہُوں اور طرز خاکساری ہے
سلام اِسلئے کرتے ہیں تاجدار مُجھے
عظیم مشائخی
بروز حشر اِلٰہی مرا بھرم رکھنا
سمجھ رہی ہے یہ دُنیا پرہیز گار مُجھے
ھزیل لعل پوری
ہے آرزُو کے مُحبت میں جان دوں میں بھی
چلا کے تیر نظر کے بنا شکار مُجھے
ڈاکٹر ریحان علوی
بالا تفاق جو میں قافلے سے چھوٹ گیا
گھسیٹ لایا ہے منزل تلک غبار مُجھے
طفیل زید پوری
قدم۔قدم پہ نئی مُشکلیں مقابل ہیں
کہ وقت اب نہیں لگتا ہے سازگار مُجھے
ماسٹر شعیب کامل
خُدا کے واسطے کھایا نہ کیجیۓ قسمیں
تُمہاری باتوں پہ یوں بهی ہے اعتبار مُجھے
سرور کنتوری
بِٹھا کے پلکوں پہ ایسے نہ تُو اُتار مُجھے
تُجھے قسم ہے نہ کر اِتنا شرمسار مُجھے
عارف شاہ پوری
لگے بہار کا موسم ترے بغیر خِزاں
جو تُو ہو ساتھ خِزاں بھی لگے بہار مُجھے
بشر مسولوی
مری کمائی میں اِتنی خُدا کرے برکت
کِسی سے کُچھ بھی نہ لینا پڑے اُدھار مُجھے
نظر مسولوی
مِلا ہے جب سے کِسی اجنبی کا پیار مُجھے
خِزاں بھی لگنے لگی اب نئی بہار مُجھے
صبا جہانگیر آبادی
اِنکے علاوہ کیف بڑیلوی اور طالب اعلیٰ پوری نے بھی اپنے۔اپنے طرحی کلام پیش کیے۔
نشست کے اختتام پر بزم کے صدر الحاج نصیر انصاری نے تمام شعرائے کرام و سامعین کا شکریہ ادا کیا۔ اور مصرع طرح "کاش پوچھیں وہ کبھی تیری تمنّا کیا ہے” {تمنّا قافیہ اور ردیف کیا ہے} کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ آئندہ نشست جنوری کے دوسرے اتوار کو اِسی مُقام پر ہوگی۔

