بےساکھی کے دن ہماری نئی زندگی کی شروعات ہونی چاہئے۔ دل سے سب فرق مٹ جانے چاہئے۔ قدرت کے لحاظ سے اس مہےنے پےڑھ ۔ پودوں مےں نئی کونپلےں نکلنی شروع ہوجاتی ہے،ان مےں اےک نئی زندگی کی شروعات ہوتی ہے تو ہمےں بھی ان دن کچھ نےا سبق لےنا چاہئے جس سے نئی کونپلےں پھوٹےں ۔ بےساکھی کا مہےنہ بھی کئی طرح سے ہر اےک سماج مےں مناےا جاتا ہے۔
سال 1699 مےں بےساکھی کے دن ہی دشم گورو صاحب، گورو گوبند سنگھ جی نے خالصہ پنتھ، سکھ پنتھ جاری کےا۔ اس دن دشم گورو صاحب نے پانچ پےاروں کو چنا۔ بودھ لوگوں کےلئے بھی ےہ دن بڑامبارک ہے۔ اسی دن مہاتما بدھ کا بھی جنم ہوا تھا۔ بےساکھی کے دن ہی انہےں آتم ۔ گےان بھی ہوا اور اسی دن ان کا نروان بھی ہوا۔
مہا پرش جب ۔ جب بھی اس دنےا مےں آتے ہےں،وہ اےک ہی بات کو بار۔ بار پےش کرتے ہےں،وہ کےا ؟کہ انسانی جنم بڑی قسمت سے ملتا ہے، اس مےں ہم اپنے گھر واپس جاسکتے ہےں۔ پرماتما مہا چےتنا کا ساگر ہے اور آتما اس کی بوند ہے۔ پرماتما پرےم ہے، آتما کی جات بھی پرےم ہے، اس مےں قدرتی طور سے پربھو سے ملنے کا احساس ہے، اس کا گن ہے اپنے پرےتم سے جُڑنا۔
’’ بےساکھ دھےرن کےوں،’’ بےساکھ کا مہےنہ آگےا ہے ، فصل کٹی پڑی ہے تمہاری، پر بھو سے دور پڑے ہو،تمہےں صبر کےسے آسکتاہے اس کے بغےر ۔ تم اس سے کٹے پڑے ہو، کےسے تم جیون گزار رہے ہو؟کےسے بھول گئے تم؟
پرماتما سے دور ہوگئے ہم، اسے بھول گئے اور ماےا ہاتھ دھوکر ہمارے پےچھے لگ گئی، ماےا نام ہے بھول کا۔ ےہ بھول کہاں سے شروع ہوئی؟ ےہ درد بھری کہانی ہے۔ فصل تو باہر کٹی پڑی ہے، مہاتما دےکھ کر کہتے ہےں،تم اس پربھو سے کٹے پڑے ہو تم اس کا انش ہو ۔ تم مالک کو بھول گئے اور ےہی سب خرابےوں کی جڑ ہے۔پربھو کو بھول کر اپنا جنم برباد کررہے ہو۔’’ پربھو بنااور نہ کوئے‘‘ پربھو کے بغےر تمہاری آتما کا کوئی ساتھی نہےں۔بےٹا، پتنی، بچے ےہ سب ہمارے کرموں کے مطابق پربھو نے جوڑے ہےں۔ خوشی سے لےنا۔ دےنا نبھاؤ اور اپنے گھر جاؤ ۔ وہ پرماتما جو ہماری آتما کا سنگی ہے اور ساتھی ہے۔ وہ تمہارے ساتھ جائے گا۔ ہمےں ےہ انسانی جنم ملا ہے پربھو کو پانے کے لئے۔
آتما چےتنا سوروپ ہے، جب مہا چےتن پربھو سے نہےں ملے گی اس کو بھی تسلی نہےں ہوگی۔ من کبھی قابو نہےں ہوگا جب تک نام سے، پوری طرح پرماتما سے نہےں ملے گا،’’ نام ملے من ترپتےئے‘۔ بھگوان کرشن کی زندگی مےں آتا ہے کہ انہوں نے ےمنا ندی مےں چھلانگ ماری۔ نےچے ہزار منہ والا سانپ تھا۔ انہوں نے بانسری بجاتے ہوئے اس کا نتھن کےا۔ےہ سونپ کون تھا؟ من، جس کے ہزار طرےقے ہےں، زہر چڑھانے کے۔ اس کو جےتنا ہے ’’ من جےتے جگ جےت‘‘ ۔ ہمارے اور اس پربھو کی پراپتی کے بےچ کوئی رکاوٹ ہے تو وہ من ہی ہے۔
اگر تم اپنے دل مےں پربھو کے پانے کا پکا ارادہ رکھتے ہو تو اےک قدم اپنے من پر رکھو ےعنی اسے کھڑا کرو، دوسرا قدم جو تم اٹھاؤ گے ، پربھو کی گلی مےں پہنچ جائے گا۔
بےساکھ کا مہےنہ تبھی کامےاب ہوگا، جب نئی زندگی کی شروعات، تبھی کامےابی کو پاؤ گے، جس نے پاےا ہے، اس کی سہرت ملے، کوئی سنت مل جائے تو کام بن جائے۔ جن کو پورا گورو مل گےا، وہ مالک کی درگاہ مےں رونق پائے گا اور تمہارے اندر پرےم بھکتی جاگ اٹھے گی۔ دنےا کی، ماےاکا زہر تم پر اثر نہےں کرے گا اور سکھوں کا سمندرمل جائے گا۔ وہ سنسار ساگر سے تر جائے گا۔ وہ مہےنہ، وہی دن، وہی مہورت اچھا ہے، جس مےں ہم نے اس پربھو کو پالےا ۔ جو مالک کی نظر پا گےا، سنتوں کی دےا مہر سے اس کی زندگی کامیاب ہے۔
باکس
بےساکھ دھےرن کےوں واڈھےاں جےنا پرےم بچھوہ
’’ بےساکھ دھےرن کےوں،’’ بےساکھ کا مہےنہ آگےا ہے ، فصل کٹی پڑی ہے تمہاری، پر بھو سے دور پڑے ہو،تمہےں صبر کےسے آسکتاہے اس کے بغےر ۔ تم اس سے کٹے پڑے ہو، کےسے تم زندگی گزار رہے ہو؟کےسے بھول گئے تم؟

