دبئی کے انڈور سیاحتی مقامات گرمیوں کے موسم میں تفریحی، تعلیمی اور ثقافتی سرگرمیوں کے ذریعے شہر کو سال بھر سیاحت کے لیے ایک پرکشش منزل کے طور پر مزید مستحکم کر رہے ہیں۔ یہ مقامات سیاحتی سرگرمیوں میں تنوع پیدا کرنے اور خاندانی سیاحت کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
انڈور سیاحتی مقامات، ساحلوں، آبی سرگرمیوں اور واٹر پارکس کے ساتھ مل کر دبئی کی گرمیوں کی سیاحت کا بنیادی ستون بن چکے ہیں۔
ایمریٹس نیوز ایجنسی (وام) نے دی گرین پلانیٹ اور دبئی بٹر فلائی گارڈن کے دورے کے دوران ان دونوں انڈور سیاحتی مراکز کے کردار کا جائزہ لیا، جو گرمیوں میں تفریح، تعلیم اور ماحولیاتی آگاہی کو یکجا کرنے والے منفرد تجربات فراہم کرکے مختلف ممالک سے آنے والے سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کر رہے ہیں۔ یہ اقدامات دبئی کی اس حکمت عملی سے ہم آہنگ ہیں جس کا مقصد ہر عمر اور ہر طبقے کے سیاحوں کے لیے متنوع سیاحتی مواقع فراہم کرنا ہے۔
دبئی ہولڈنگ انٹرٹینمنٹ کے تحت کام کرنے والے دی گرین پلانیٹ کی ڈائریکٹر آپریشنز، اسماء الحسنی نے کہا کہ یہ مقام دبئی کے قلب میں ایک حقیقی استوائی برساتی جنگل کا تجربہ فراہم کرتا ہے، جہاں 3 ہزار سے زائد پودے اور جانور موجود ہیں۔ یہاں آنے والے سیاح مصنوعی استوائی بارش کا لطف اٹھا سکتے ہیں اور برساتی جنگل کی چار مختلف سطحوں کو دیکھ سکتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ "کیمپنگ اِن دی رین فاریسٹ” اور "زو کیپر فار اے ڈے” جیسی سرگرمیاں فطرت سے قریب ہونے کا منفرد موقع فراہم کرتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دی گرین پلانیٹ کو سرٹیفائیڈ آٹزم سینٹر™ کا درجہ حاصل ہے اور یہ ہِڈن ڈس ایبلٹیز سن فلاور پروگرام کا بھی حصہ ہے، جس کے ذریعے ہر فرد کے لیے آسان اور خوشگوار تجربہ یقینی بنایا جاتا ہے۔
دوسری جانب دبئی بٹر فلائی گارڈن میں گرمیوں کے دوران ہفتے کے عام دنوں میں یومیہ 200 سے 300 جبکہ ہفتہ وار تعطیلات میں تقریباً 500 افراد آتے ہیں۔ سردیوں میں یہ تعداد مزید بڑھ جاتی ہے اور عام دنوں میں 500 سے 800 جبکہ اختتامِ ہفتہ پر 1,000 تک پہنچ جاتی ہے۔ باغ میں سالانہ 100 ہزار سے 150 ہزار کے درمیان سیاح آتے ہیں۔
یہ باغ دبئی کے نمایاں انڈور سیاحتی مراکز میں شمار ہوتا ہے، جہاں خاندانوں اور سیاحوں کو شدید گرمی سے محفوظ، آرام دہ ماحول میں تفریح اور تعلیم پر مبنی تجربہ فراہم کیا جاتا ہے، جس کے باعث یہ گرمیوں میں ایک پسندیدہ سیاحتی مقام بن چکا ہے۔
دبئی بٹر فلائی گارڈن تعلیمی میدان میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ مختلف اسکولوں کے ساتھ جاری شراکت داری کے تحت یہاں ہر ہفتے طلبہ کے مطالعاتی دورے منعقد کیے جاتے ہیں، جہاں انہیں تتلیوں کے زندگی کے مراحل، ان کی مختلف اقسام اور قدرتی ماحول کے بارے میں آگاہی دی جاتی ہے، جس سے ماحولیاتی شعور اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے۔
باغ میں ہر ماہ موسم اور تتلیوں کی دستیابی کے مطابق 5 ہزار سے 10 ہزار تتلیاں موجود ہوتی ہیں۔
مارچ 2015 میں افتتاح کے بعد سے گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے کے دوران دبئی بٹر فلائی گارڈن ہر عمر کے افراد کے لیے ایک جامع تفریحی اور تعلیمی تجربہ فراہم کر رہا ہے، جہاں تتلیوں کے قدرتی ماحول سے قریب ترین ماحول تخلیق کیا گیا ہے۔

