Delhi-NCR International

اسرائیل کو اسلحے اور دفاعی ساز و سامان کی برآمدات سے متعلق ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ پر اپنے ردعمل میں بھارت نے کہا ہے کہ یہ برآمدات ملک کے مضبوط قانونی و ضابطہ جاتی نظام نیز بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق کی گئیں۔

بھارتی وزارت خارجہ نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ان الزامات پر براہ راست تبصرہ کرنے سے گریز کیا، جن میں کہا گیا ہے کہ غزہ کی جنگ شروع ہونے کے بعد بھی اسرائیل کو ہتھیاروں اور عسکری ساز و سامان سے متعلق برآمدات کی اجازت دے کر بھارت ممکنہ طور پر نسل کشی کے خلاف کنونشن اور جنیوا کنونشنز کے تحت اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

نئی دہلی نے کہا کہ اسٹریٹیجک اور دوہرے استعمال کی حامل اشیا کی برآمدات ملک کے مضبوط قانونی و ضابطہ جاتی نظام اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق کی جاتی ہیں۔

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے صحافیوں کے ایک سوال کے جواب میں کہا، ”بھارت کے پاس اسٹریٹیجک تجارتی کنٹرول سے متعلق ایک مضبوط قانونی اور ضابطہ جاتی نظام موجود ہے، اور وہ دوہرے استعمال کی حامل اشیا اور ٹیکنالوجی کی مختلف ممالک کو برآمدات اپنے قومی قوانین اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق کرتا ہے۔‘‘

انہوں نے تاہم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ان مخصوص الزامات کا براہ راست جواب نہ دیا، جن میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کو ہتھیاروں اور فوجی پرزہ جات کی برآمدات اس وقت بھی جاری رہیں، جب اس بات کے واضح اور عوامی انتباہات موجود تھے کہ ان اشیا کو غزہ میں ممکنہ طور پر جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم یا مبینہ نسل کشی کے ارتکاب میں استعمال کیا جا سکتا تھا۔

خیال رہے کہ بھارت میں اوڈیشہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس سرینواسن مرلی دھر کی سربراہی والے اقوام متحدہ کے ایک آزاد تحقیقاتی کمیشن نے جون میں اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا ، ”شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ فلسطینی بچوں کو اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے دانستہ طور پر نشانہ بنایا اور ہلاک کیا۔‘‘

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایسے حالات میں برآمدات جاری رکھ کر نئی دہلی نسل کشی کے خلاف کنونشن اور جنیوا کنونشنز کے تحت اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں ناکام رہا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں الزام عائد کیا ہے کہ غزہ پٹی میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے لیے ہتھیاروں، گولہ بارود، فوجی پرزہ جات اور دوہرے استعمال (Dual-use) کی حامل اشیا کی برآمدات کے ذریعے بھارت ”اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کے لیے سپلائی چین کا ایک اہم حصہ‘‘ بن چکا ہے۔

اپنی 42 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے 7 اکتوبر 2023 سے 30 نومبر 2025 کے درمیان بھارت سے اسرائیل بھیجی گئی 2,596 شپمنٹس کی نشاندہی کی ہے، جن میں چھوٹے ہتھیار، گولہ بارود اور فوجی گاڑیوں کے پرزہ جات شامل تھے۔

رپورٹ کے مطابق غزہ پٹی میں اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کے حوالے سے بڑھتے ہوئے بین الاقوامی قانونی خدشات اور انتباہات کے باوجود یہ برآمدات جاری رہیں۔ ایمنسٹی نے نئی دہلی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو ہتھیاروں اور دفاعی ساز و سامان سے متعلق تمام برآمدات فوری طور پر روک دے۔

Related posts

’عالمی یومِ اردو‘ ایوارڈز 2023 کا اعلان شمیم طارق لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ2023 کے لیے منتخب

Awam Express News

بلڈوزر کارروائی پر اڈیشہ ہائی کورٹ کے سخت فیصلے اور اقوام متحدہ کی تشویش پر جمعیۃ علماء ہند کابیان*

Awam Express News

وزیر خارجہ جئے شنکر نے ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات کی

Awam Express News