پورے ہندوستان مےں 15 اگست کو ےوم آزادی مناےا جاتا ہے ۔ کئی دےگر ملک بھی مختلف تارےخوں پر ےوم آزادی مناتے ہےں۔ جہاں دنےاوی معنی مےں آزادی کا مطلب ہوتا ہے وہ دن جب اےک ملک کسی دوسرے کے قبضے سے آزاد ہوا اوروہاںکے عوام کوان کے ہرجائزحقوق حاصل ہوئے تھے۔ وہےں روحانی مطالب مےں آزادی ہماری روح کی آزادی کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے۔
روح ہمارے جسم کی گہرائی مےں ہے جو کہ روشنی، محبت اورامن وامان سے بھرپور ہے۔ ہمارے ےہ روحانی خزانے دل، دولت اور بھرم کی پرتوں کے نےچے چھپے رہتے ہےں ۔ ہمارا دھےان اندرونی دنےا کی بجائے ہر وقت باہری دنےا مےں ہی لگا رہتا ہے۔ ہم اپنے دل ودماغ کی خواہشات کے ذرےعہ اپنے اوپر پڑے پردے بڑھاتے رہتے ہےں، جس سے ہمارے اندر کام، غصہ، لالچ ،خواہش اورگھمنڈمےں بھی اضافہ ہوتاجاتا ہے۔
کےا ان رکاوٹوں کوپارکرکے اپنی روح کا احساس کرنے کا کوئی طرےقہ ہے؟
اس کے لئے ہمےں زمےن کے چاروں کونوں مےں تلاش کرنے کی ضرورت نہےں ہے۔ خوش قسمتی سے ہردوراورہرماحول میںعظیم سنت روح کے شعبہ مےں ترقی کرتے رہے ہےں۔ وہ اےسا کرنے مےں کامیاب رہے ہےں، اپنے دھےان کواپنے اندر مرکوزکرکے جسے مےڈی ٹےشن، بغیرآوازدعا ےا انتر مکھ ہونا بھی کہا جاتا ہے ۔ وہ ہمےں بتاتے ہےں کہ سچی آزادی ہمےں تبھی ملتی ہے ، جب ہم پرسکون ماحول مےں بےٹھتے ہےں ، اپنی آنکھےں بند کرتے ہےں اور اپنے دھےان کوخودکے اندر مرکوز کرکے پربھو کی جےوتی کا احساس کرتے ہےں۔ اگر ہم اپنی روح کو ڈھکنے والی پرتوں کو ہٹانے مےں کامےاب ہوجائےں تو ہم اپنی حقیقی روحانی شکل کو ضرور دےکھ پائےں گے جو کہ پربھو کی الٰہی نور سے روشن ہے۔
جب ہماری روح جسم اور دل ودماغ کی قےد سے آزاد ہوجاتی ہے تو وہ آزادی اور خوش ہوکر اوپر اٹھنے لگتی ہے۔ اس باہری دنےا کے وقت اوراس کے مقام کی حدود سے اوپر اٹھ کر وہ اپنے سچے وجود کو پہچاننے لگتی ہے اور اس مادی ماحول سے الگ کے روحانی ماحول کی خوشےوں اورلطف کا احساس کرنے لگتی ہے۔
ےہ روحانی سفراندرونی روشنی کودیکھنے اوراپنے اندرکی آوازکوسننے کے ساتھ شروع ہوتا ہے ۔ ان مےں زےادہ سے زےادہ ڈوبتے جانے سے ہماری روح جسمانی بےداری سے اوپر اٹھ جاتی ہے اور دھےرے دھےرے انڈ، براہمنڈ اور پار برہما کے روحانی منڈلوں سے گزرتے ہوئے اپنے نج دھام سچ کھنڈ واپس پہنچ جاتی ہے۔ وہاں ہم اپنی روح کو اس کی نےرول حالت مےں دےکھ پاتے ہےں اور احساس کرتے ہےں کہ وہ پرماتما کا ہی حصہ ہے۔ وہاں ہماری روح پھر سے اپنے معبودحقیقی مےںجذب ہوجاتی ہے اور بے پناہ خوشےوں، پرمانند اور پرےم سے بھر پور ہوجاتی ہے۔
ایسی صورت میںسماجی اورملکی ےوم آزادی منانے کے ساتھ ساتھ ہمےں روحانی آزادی حاصل کرنے کی بھی کوشش کرنی چاہئے۔ اےسا کرنے کے لئے ہمےں اندرونی روشنی اور آواز پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی۔ ہمارے اندر آتما کی بے پناہ طاقت اور توانائی موجود ہے۔ روح کے اندر ذہن، بے خوفی، لاثانی، اننت پرےم اور پرمانند کی عظیم اورلامحدودخوبیاں ہےں ۔ اپنی روح اور اس کی بے شمارطاقت کے ساتھ وابستہ ہو کر ہماری پوری زندگی ہی تبدےل ہونے کے ساتھ نکھر جاتی ہے۔

