سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے آج ریاض میں وزارت کے ہیڈ کوارٹر میں یمن کی وزیرِ خارجہ و امورِ تارکینِ وطن ڈاکٹر افراح الزوبہ کا استقبال کیا۔ سعودی وزارتِ خارجہ کے مطابق فریقین نے دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا۔ سعودی عرب نے یمن اور اس کے عوام کی سکیورٹی و استحکام کی حمایت میں اپنے پائیدار موقف کی تصدیق کی۔ اس کے علاوہ خطے کی نئی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے متعدد امور اور موضوعات کا جائزہ لیا گیا۔
ملاقات کے آغاز میں سعودی وزیر خارجہ نے اپنی یمنی ہم منصب کو وزیر خارجہ کا عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دی۔ دونوں ملکوں کے مفادات کی خدمت کرنے اور خطے میں استحکام کو فروغ دینے کے لیے ان کے درمیان مشترکہ کام کو جاری رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ یمنی وزارتِ خارجہ نے بتایا کہ ملاقات میں ان طریقوں پر بات چیت کی گئی جو دونوں ملکوں کو جوڑنے والے اخوت، پڑوس، مفادات اور مشترکہ تقدیر کے روابط کو مزید مضبوط بنانے پر مبنی ہوں ۔ اسی طرح تعاون کے شعبوں کو وسعت دینے پر بھی بات چیت ہوئی تاکہ دونوں ملکوں کے مفادات کی خدمت ہو سکے اور خطے کے استحکام و ترقی میں حصہ ڈالا جا سکے۔
یمنی وزیر خارجہ ڈاکٹر افراح الزوبہ نے سعودی عرب کے پائیدار برادرانہ موقف پر یمن کے فخر کا اظہار کیا اور سیاسی، اقتصادی، انسانی اور ترقیاتی لحاظ سے یمنی ریاست اور عوام کی حمایت میں اس کے محوری کردار کی تعریف کی جس سے ریاستی اداروں کی ثابت قدمی کو تقویت ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے کردار سے انسانی مصائب میں کمی آتی ہے اور اقتصادی استحکام و بحالی کو مدد ملتی ہے۔
ملاقات کے دوران وزیر خارجہ نے یمنی تارکینِ وطن کے لیے مملکت کی سہولیات کو سراہا جو قومی معیشت کے لیے ایک اہم ذریعہ ہیں اور لاکھوں خاندانوں کی کفالت کا اہم ذریعہ ہیں۔ سخت اقتصادی اور معاشی دباؤ جو دہشت گرد حوثی ملیشیا نے ملک کے مختلف حصوں میں لاکھوں یمنیوں پر مسلط کیا ہے کے دوران سعودی عرب کی سہولیات بہت اہم ہیں۔
یمنی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ملاقات میں دہشت گرد حوثی ملیشیا کی حالیہ کشیدگی اور یمن، سعودی عرب اور خطے پر اس کے اثرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بحیرہ احمر اور باب المندب کی سکیورٹی اور بین الاقوامی جہاز رانی و تجارت کی سلامتی کے لیے اس سے پیدا ہونے والے خطرات اور ان چیلنجز سے نمٹنے کے طریقوں پر بھی بات چیت کی گئی۔ وزیر خارجہ نے سعودی عرب کی سرزمین اور اس کے شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حوثیوں کے دہشت گردانہ حملوں کو یمن کی طرف سے دوبارہ مسترد کرنے اور ان کی مذمت کا اعادہ کیا۔
اسی تناظر میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مملکت کو نشانہ بنانا نہ صرف اس کی سکیورٹی اور استحکام کو متاثر کرتا ہے بلکہ خطے کی سکیورٹی اور ان ممالک کے مفادات کو بھی خطرے میں ڈالتا ہے جو خطے کے استحکام اور اس کے عوام کی خوشحالی کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یمن اپنی سرزمین یا سمندری راہداریوں کو مملکت سعودی عرب، پڑوسی ممالک اور بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے دھمکی کا ذریعہ بننے کی ہرگز اجازت نہیں دے گا۔ انہوں نے کہا کہ یمن کا مقام اور اس کی اہم سمندری راہداریاں علاقائی سکیورٹی کا ایک ستون ہیں اور عالمی تجارتی راستوں کا ایک اہم رابطہ نقطہ ہیں، نہ کہ قومی فیصلے اور مفاد سے ہٹ کر دھمکی یا بلیک میلنگ کا ایک ذریعہ ہیں۔
یمن کے وزیر افراح الزوبہ نے یہ بھی کہا کہ یمنی ریاستی اداروں، شہری و معاشی اثاثوں اور یمنی بندرگاہوں، جن میں سب سے نمایاں المخا بندرگاہ ہے، پر حوثی ملیشیا کے حملوں میں توسع یمنی عوام کے مفادات اور وسائل پر براہِ راست حملہ ہے۔ انہوں نے کہا یہ حملہ جنگ کے دائرے کو وسیع کرنے اور باب المندب کے قریب ترین اہم ترین راستوں میں سے ایک پر ضرب لگانے کی کوشش کو ظاہر کر رہا ہے۔ یمنی وزیر نے کہا کہ یمنی شہروں اور بندرگاہوں کی سکیورٹی اور بحیرہ احمر میں جہاز رانی کی سکیورٹی ایک ہی نظام ہے اور سمندری راہداریوں کی حفاظت ایک ایسی مضبوط ریاست سے شروع ہوتی ہے جو اپنے ساحلوں، بندرگاہوں اور اداروں کی حفاظت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔

