طبّی ریاضت کو مذہبی رنگ نہ دیں، طبّی ریاضت ہر میڈیکل سائنس میں موجود: ڈاکٹر سیّد احمد خاں
نئی دہلی۔ 31 اگست 2026
دور حاضر کے رہن سہن میں مشقت کی کمی سے ہونے والی بیماریوں اور روز مرہ کے کام کاج کو بحسن خوبی انجام دینے میں آرہی دشواریوں سے عوام الناس کو بچانے کے لیے اور تندرستی برقرار رکھنے کے لیے ایک میٹنگ ایکسپورٹ کوالٹی کی ملٹی اسپیشلٹی انٹیگریٹڈ طبی ریاضت کو فروغ دینے کے مقصد سے آل انڈیا یونانی طبی کانگریس کے سکریٹری جنرل ڈاکٹر سید احمد خاں کی صدارت میں منعقد ہوئی۔
اس میٹنگ میں بین الاقوامی طبی ریاضت کے استاذ ڈاکٹر بدرالاسلام کیرانوی، معروف اسلامی اسکالر مفتی جاوید انور، محمد عمران قنوجی اور محمد اویس (جرنلسٹ) موجود تھے۔
اس موقع پر ڈاکٹر سید احمد خاں نے کہا کہ رسماً ورزش اختیار نہ کریں بلکہ اس کو سائنٹفک طریقہ پر تندرستی بنائے رکھنے کے لیے اختیار کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سائنس کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور وہ پوری انسانیت کی بھلائی کے لیے کام کرتی ہے اس لیے ورزش کو کوئی مذہبی رنگ نہ دیں کیونکہ ورزش بحیثیت طبی ریاضت کے کسی نہ کسی شکل میں ہر میڈیکل سائنس میں موجود ہے اور طب یونانی میں ریجمنل تھیراپی، ریاضت اور دلک کے نام سے نصاب میں موجود ہے۔ ڈاکٹر سیّد احمد خاں کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے ڈاکٹر مفتی جاوید انور نے کہا کہ جس طرح طب یونانی ایک طریقہ علاج ہے اسی طرح دلک اور ریاضت یعنی طبّی ورزش بھی طب یونانی کا حصہ ہے۔ میڈیکل ایکسر سائز، فیزیو تھیراپی، یوگا سے جس طرح صحت کو بہتر کیا جاتا ہے اسی طرح طب یونانی کے ذمہ داران کو چاہیے کہ وہ طب یونانی میں موجود نصاب کے مطابق طبّی ورزش کو فروغ دیں۔ تمام شرکاء کا شکریہ آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس طبّی ریاضت وِنگ کے کنوینر ڈاکٹر بدرالاسلام کیرانوی نے ادا کیا۔

