Press Release

آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس (جموں اینڈ کشمیر) کی میٹنگ منعقد

ایمس یونانی کشمیر میں قائم ہو: پروفیسر مشتاق احمد
سرینگر۔ 8 ستمبر 2026
آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس کے قومی صدر پروفیسر مشتاق احمد کی صدارت میں طبّی کانگریس (جموں و کشمیر) کا ایک اہم اجلاس دارالشفا، سوپور میں واقع صدر دفتر میں منعقد ہوا۔ اجلاس کا آغاز حکیم محمد اشرف لون کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ اجلاس میں ریاستی تنظیم سے متعلق مختلف اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ شرکاء نے فلاح و بہبود اور تنظیم کو مضبوط بنانے سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ میٹنگ میں آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس جموں اینڈ کشمیر کے چیف پیٹرون ڈاکٹر شوکت حسین ایتو (سابق رجسٹرار، جے اینڈ کے، محکمہ آیوش) نے ریاستی صدر طبّی کانگریس حکیم محمد اشرف لون اور ریاستی جنرل سکریٹری ڈاکٹر محمد یوسف دینتھو اور ان کی ٹیم کی کارکردگی کی تعریف کی اور کہا کہ یہ لوگ طب یونانی کی ترویج و ترقی کے لیے ریاست جموں اینڈ کشمیر میں گزشتہ برسوں سے اہم کردار نبھا رہے ہیں۔
میٹنگ میں حکیم محمد اشرف لون نے NIQs کو رجسٹریشن حاصل کرنے اور کلینکل پریکٹس کو آگے بڑھانے میں درپیش مشکلات اور حل پر روشنی ڈالی۔ ڈاکٹر شوکت حسین ایتو نے 2019 کے بعد RMPs کے حقداروں کے رجسٹرڈ نہ ہونے والے NIQs کی ایک بار رجسٹریشن کے مسدود راستے اور درپیش چیلنجز کی وضاحت کی۔ میٹنگ میں بے روزگار ’بی یو ایم ایس‘ اور ’ایم ڈی یونانی‘ ڈاکٹروں کو روزگار کے مواقع حاصل کرنے میں درپیش مشکلات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ گورنمنٹ یونانی میڈیکل کالج، گاندر بل میں مناسب اور سرشار پیشہ ور عملے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ یہ بھی تجویز آئی کہ اس وقت داخلی انتظامات کے ذریعے وہاں خدمات انجام دے رہے تعلیمی عملے کو متعلقہ اصل جگہوں پر واپس بھیج دیا جائے اور مذکورہ کالج کی خالی اسامیوں کو پُر کیا جائے۔ میٹنگ میں کو آرڈی نیشن اور مریضوں کی دیکھ بھال کو بہتر بنانے پر زور دیتے ہوئے جنرل پریکٹشنرز سے ماہرین تک ریفرل سسٹم کے قیام کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ڈاکٹر محمد یوسف دینتھو نے تاریخی طبی درسی کتب اور لٹریچرز میں کشمیر سے تعلق رکھنے والے اطبا اور حکما کو شامل کرنے کی تجویز پیش کی۔ یہ تجویز بھی آئی کہ آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس کی جانب سے کشمیری حکما کی حیات و خدمات کو مرتب کیا جائے۔
مجوزہ آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف یونانی میڈیسن (ایمس یونانی) کے لیے کشمیر کی اہمیت پر پروفیسر مشتاق احمد (قومی صدر) نے گفتگو کرتے ہوئے کشمیر کی تاریخی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس، حکومت ہند کے ساتھ اس معاملے میں سختی سے پیروی کر رہی ہے اور اس بات کی وکالت کر رہی ہے کہ یہ ادارہ کشمیر میں قائم کیا جائے کیونکہ اب یہ ریاست یونین ٹیریٹری (U.T.) بن گیا ہے اس لیے بھی یہاں مواقع زیادہ ہیں۔ میٹنگ میں آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس کے سکریٹری جنرل ڈاکٹر سیّد احمد خاں نے تفصیل سے تنظیمی امور پر روشنی ڈالی۔ اس موقع پر اُن کا روایتی شال اور پھولوں سے استقبال کیا گیا۔ آخر میں ڈاکٹر شوکت حسین ایتو نے تمام قومی اور ریاستی سطح کے معززین کا انتہائی شائستگی اور خلوص دل سے اظہار تشکر کیا۔ ڈاکٹر محمد یوسف دینتھو نے نظامت کے فرائض انجام دیے اور اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھائیں۔ اہم شرکاء میں ڈاکٹر جاوید احمد غنائی (نائب صدر)، ڈاکٹر محمد اشرف (سکریٹری)، ڈاکٹر نور محمد (آرگنائزنگ سکریٹری)، حکیم صنوبر خان (نائب صدر فارمیسی ونگ)، حکیم نظیر احمد میر (سکریٹری)، حکیم شوکت علی پیر (سکریٹری)، حکیم میسر محی الدین (آفس بیئرر)، محمد حسین میر (خزانچی)، حکیم عاشق الٰہی (ایڈوائزر)، حکیم رئیس احمد (سینئر ممبر) اور آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس (جموں و کشمیر) یوتھ ونگ کے صدر ڈاکٹر ارسلان بیگ وغیرہ شامل ہیں۔

Related posts

یومِ آزادی کے موقع پر مولانا آزاد انسٹی ٹیوٹ میں پرچم کشائی اور ثقافتی پروگرام کا انعقاد

Awam Express News

جیو بھارت موبائل کے  لانچ کا اثر ۔ نہیں بڑھیں  گی سال بھر ٹیرف  قیمتیں

Awam Express News

سری نگر ہوائی اڈے نے نائٹپارکنگ ایپلی کیشن فیس میں 50 فیصد کمی کا فیصلہ کیا

admin