مولانا سجاد نعمانی کی قیادت میں انصاف پسند برادران وطن کی اعلی سطحی میٹنگ کا انعقاد
۸؍ستمبر 2026کو مہاراشٹر کے تاریخی شہر کولہاپور میں ’’سمودھان سرکشا سمنوئے سمیتی ‘‘کے تحت مولانا خلیل الرحمٰن سجاد نعمانی کی قیادت میں ملک بھر سے آئے ہوئے مختلف طبقات اور قوموں کی نمائندگی کرنے والے انصاف پسندبرادران وطن کی ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ ہوئی ، جس میں دستور ہند کےتحفظ کے لیےاور اس پر عمل کو یقینی بنانے کے لیے تفصیلی طور پر تبادلۂ خیال ہوا۔اس میٹنگ میں پورے ملک کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے سکھ،مراٹھا، چھتریہ، جین، بدھسٹ،لنگایت اور پسماندہ طبقات اور تنظیموں کے بہت سے نمائدے اور دانشوران قوم شریک تھے۔جن میں خاص طور پر قابل ذکر ہیں: سرؔدار دیا سنگھ (آل انڈیا پیس مشن)، ڈاؔکٹر سبھاش دیسائی (اکیڈمی آف ریلیجن یونیٹی)، ڈاکٹر میگھا پنسارےاور اؔسمتا پنسارے(مشہور سماجی کارکن گووند پنسارے کی بہو اور بیٹی)،ڈاکٹر وؔلاس کھرات(بودھ سناتن دھمّا ) ڈؔی بھاسکر (دلت مہاسنگھ) سپریم کورٹ کے وکیل ایڈوکیٹ امن راوت (چھتریہ ریبلکن کونسل)نتینؔ چوہان (سمبھا جی برگیڈ)دگوؔجے پاٹل(مہاراشٹر سنگھرش سمیتی) ایڈوکیٹ سوریہ جی پوتلے( شیوراجیہ فاؤنڈیشن)محمدؔ جنید ملک (جنتر منتر کے حالیہ احتجاج میں خدمات انجام دینے والے)نیز متعدد سماجی کارکن ڈاکٹر سنجےؔ ساٹھے،بھنتے ؔپرگیہ جیوتی،کاؔمریڈ اتل دِگھے،گرؔیش فونڈے ،یش ؔامبولے، کاؔمریڈ پرشانت امبی۔ اس کے علاوہ مراٹھا مہاسنگھ، آل انڈیا اسٹوڈنٹس فیڈریشن ، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) اور شیتکری کامگار پکش کے اہم ذمہ داروں نے بھی اس میں شرکت کی۔
مندوبین میں سے سبھی نےبہت کھل کر اپنی قوموں کے ساتھ ہونے والے مظالم پر اورخصوصاًمسلمانوں کے خلاف برتے جانے والے غیر دستوری رویے پر تشویش کا اظہار کیا۔اس موقع پر مولانا نعمانی نے اپنی گفتگو میں کہا کہ ہمارےملک کو اس وقت جس رخ پر لے جایاجارہا ہےاور جس طرح دستور کے ساتھ کھلواڑ کیا جارہا ہے اس پر یہاں موجود ہر شخص نالاں ہےاور سبھی لوگ اپنے اپنےمیدانوں میں اس صورت حال کی تبدیلی اور اس ظالمانہ نظام کے خاتمے کی کوشش کر بھی رہے ہیں، لیکن اب وقت آگیاہےکہ اپنی الگ الگ کوششوں کو باقی رکھتے ہوئے Common Minimum Programکے تحت ایک اجتماعی کوشش سب مل جل کر بھی کریں؛ اجتماعی اور متحدہ کوشش سے جو نتائج برآمد ہوسکتے ہیں وہ تنہا اور الگ الگ کوششوں سے برآمد نہیں ہوسکتے۔ مولانا نعمانی کی اس رائےپر آئے ہوئےتمام ہی شرکاء نے تائید کا اظہار کیا اور اپنی جانب سے بھرپور تعاون کا یقین دلایا

