International

برکس اجلاس میں بھارت چین تعلقات کی بحالی کا عمل مزید آگے بڑھنے کا امکان

نئی دہلی۔10؍ ستمبر۔ ایم این این۔نئی دہلی میں 12 اور 13 ستمبر کو ہونے والا 18واں برکس سربراہی اجلاس بھارت اور چین کے درمیان گزشتہ دو برسوں سے جاری تعلقات کی بحالی کو مزید آگے بڑھانے کا اہم موقع بن سکتا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان اجلاس کے موقع پر متوقع ملاقات باہمی اعتماد بڑھانے اور دیرینہ اختلافات کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔بھارت ایسے وقت میں برکس کی میزبانی کررہا ہے جب دنیا میں اس کی طویل عرصے سے اختیار کردہ اسٹریٹجک خودمختاری کی پالیسی کی اہمیت بڑھ رہی ہے۔ یوکرین اور ایران کی جنگوں، امریکہ چین مسابقت اور بدلتی عالمی سیاست کے درمیان نئی دہلی کی مختلف طاقتوں کے ساتھ بیک وقت تعلقات برقرار رکھنے کی حکمت عملی نمایاں ہوئی ہے۔بھارت نے امریکہ اور مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات برقرار رکھتے ہوئے روس اور چین کے ساتھ بھی رابطے بڑھائے ہیں۔ برکس کی صدارت کے دوران نئی دہلی خود کو عالمی جنوب کی ایک اہم آواز کے طور پر پیش کررہا ہے اور چاہتا ہے کہ برکس مغرب مخالف اتحاد بننے کے بجائے ترقی، تجارت، ٹیکنالوجی، خوراک کے تحفظ اور کثیرالجہتی تعاون کا عملی پلیٹ فارم بنے۔بھارت نے الگ برکس کرنسی کے تصور سے بھی فاصلہ رکھا ہے اور اس کے بجائے قومی کرنسیوں میں تجارت اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ذریعے سرحد پار لین دین آسان بنانے جیسے عملی اقدامات پر زور دیا ہے۔برکس کے مستقبل پر رکن ممالک کے درمیان اختلافات بھی موجود ہیں۔ بھارت اور برازیل اسے بنیادی طور پر اقتصادی اور ترقیاتی تعاون کا پلیٹ فارم سمجھتے ہیں، جبکہ چین اور روس اسے زیادہ جغرافیائی سیاسی تناظر میں دیکھتے ہیں۔ نئی دہلی چاہتا ہے کہ برکس ترقی، عالمی حکمرانی میں اصلاحات اور عالمی جنوب کو زیادہ نمائندگی دینے پر توجہ مرکوز رکھے۔اجلاس کا اہم ترین پہلو ممکنہ طور پر دوطرفہ ملاقاتیں ہوں گی۔ خاص طور پر مودی اور شی کی ملاقات بھارت چین تعلقات میں جاری بہتری کو مزید رفتار دے سکتی ہے۔ 2024 کے برکس اجلاس میں دونوں رہنماؤں کی ملاقات نے تعلقات کی بحالی کے موجودہ عمل میں اہم کردار ادا کیا تھا۔شی جن پنگ کا بھارت کا متوقع دورہ، جو 2019 کے بعد ان کا پہلا دورہ ہوگا، دونوں ایشیائی طاقتوں کے درمیان اعتماد سازی کے عمل کو مزید آگے بڑھانے کا موقع فراہم کرسکتا ہے۔نئی دہلی کی کوشش ہوگی کہ برکس اجلاس کو محض مغرب یا امریکہ کی مخالفت تک محدود رکھنے کے بجائے عالمی جنوب کے لیے ترقی، اقتصادی تعاون اور زیادہ متوازن عالمی نظام کے عملی ایجنڈے کی جانب لے جایا جائے۔

Related posts

مالدیپ کی دفاعی صلاحیتوں کی ترقی میں ہندوستان مسلسل تعاون کرے گا۔ مودی

Awam Express News

فیوجی فلم کی بھارت میں آفس پرنٹر کے کاروبار میں اینٹری

Awam Express News

عالمی غذائی پروگرام: ہمارا ہدف شام اور ترکیہ میں 5 لاکھ سے زائد افراد تک پہنچنا ہے

Awam Express News