نئی دہلی۔ 12؍ ستمبر۔ ایم این این۔سائنس و ٹیکنا لوجی اور ارضیاتی سائنسز کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج)، وزیر اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات، پنشن، ایٹمی توانائی اور خلاء کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج کہا ہے کہ اسٹیل سلیگ روڈ ٹیکنالوجی سڑکوں کی تعمیر کی لاگت میں تقریباً 40 فی صد تک کمی کر سکتی ہے، جب کہ روایتی سڑکوں کے مقابلے میں چار گنا زیادہ مضبوط سڑکیں فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ٹیکنا لوجی سڑکوں کی مرمت کے دورانیے میں بھی نمایاں اضافہ کر سکتی ہے اور موزوں صورتوں میں تقریباً 15 سال بعد ہی مرمت کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اس طرح یہ ٹیکنا لوجی نہ صرف سڑکوں کی انجینئرنگ بلکہ مجموعی بنیادی ڈھانچے کی معیشت کے لیے بھی ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے زور دیا کہ اس دیسی ٹیکنا لوجی کو ایک منصوبے سے کئی منصوبوں اور ایک ریاست سے کئی ریاستوں تک وسعت دی جانی چاہیے۔ اس کا استعمال سڑک نقل و حمل اور شاہراہوں کی وزارت تک محدود نہ رہے بلکہ ریلوے، دیگر سرکاری محکموں، ریاستی حکومتوں اور نجی شعبے کے تعمیر کنندگان، ٹھیکیداروں اور بنیادی ڈھانچے کے آپریٹرز تک بھی اسے پہنچایا جائے۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ ’’ پروسیسڈ اسٹیل سلیگ ایگریگیٹس سے تعمیر کی گئی دنیا کی سب سے طویل سڑک‘‘ کے گنیز ورلڈ ریکارڈ کے خطاب سے نوازے جانے کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ یہ ریکارڈ نئی دلّی کے سی ایس آئی آر – سنٹرل روڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ( سی ایس آئی آر – سی آر آر آئی ) اور جندل اسٹیل لمیٹڈ نے مشترکہ طور پر حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔ چھتیس گڑھ کے رائے گڑھ میں 1.85 کلومیٹر طویل یہ سڑک ایک دیسی ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر استعمال کرنے کی جانب اہم قدم ہے، جس کے ذریعے اسٹیل کی پیداوار سے حاصل ہونے والے ضمنی مادے، یعنی اسٹیل سلیگ کو ، پروسیس کرکے سڑکوں کی تعمیر کے لیے ایگریگیٹس میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ اس پروگرام کے دوران ، سڑک کا ورچوئل افتتاح بھی کیا گیا اور ایک سائنسی دستاویزی فلم جاری کی گئی، سی ایس آئی آر – سی آر آر آئی اور جندل اسٹیل کے درمیان ٹیکنالوجی منتقلی کے معاہدے پر دستخط کیے گئے نیز ’’ اسٹیل گرٹ ‘‘ برانڈ لانچ کیا گیا اور منصوبے کی ٹیم کو اعزاز سے نوازا گیا۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ یہ کامیاب پہل بیک وقت حکومت کی ایک سے زیادہ اہم ترجیحات کو پورا کرتی ہے، جن میں وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی جانب سے ’’ ویسٹ ٹو ویلتھ‘‘ اور ری سائیکلنگ کے مواقع پر بار بار زور دینا بھی شامل ہے۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ یہ کامیابی ظاہر کرتی ہے کہ بھارتی سائنس، ٹیکنالوجی اور صنعت کے باہمی تعاون سے صنعتی فضلے کو بنیادی ڈھانچے کی دولت میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں شاہراہوں، ایکسپریس ویز، صنعتی راہداریوں، بندرگاہوں اور شہری بنیادی ڈھانچے میں تیزی سے توسیع کے ساتھ قدرتی وسائل، خصوصاً کانکنی اور پتھر کی کھدائی سے حاصل ہونے والے قدرتی ایگریگیٹس، کے تحفظ کی ذمہ داری بھی بڑھ رہی ہے۔ اسٹیل سلیگ روڈ کا یہ اقدام ، ان دونوں چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی راستہ فراہم کرتا ہے، جس میں صنعتی ضمنی پیداوار کے مؤثر استعمال کے ساتھ ساتھ قدرتی وسائل کا تحفظ بھی شامل ہے۔

