نئی دہلی۔ 17؍ ستمبر۔ ایم این این۔ وزارتِ ارضیاتی سائنس کے مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج اوڈیشہ کے وزیر اعلیٰ شری موہن چرن ماجھی کی موجودگی میں، اوڈیشہ کے شہر سمبل پور میں بھارت کے 51 ویں جدید ترین ‘ ڈوپلر ویدر ریڈار’ کا ورچوئل (آن لائن( افتتاح کیا۔ یہ افتتاح بھارت کے موسمیاتی مشاہداتی بنیادی ڈھانچے میں ایک اہم اضافہ ہے اور اس کا مقصد مغربی اوڈیشہ اور ملحقہ علاقوں میں موسم کی پیش گوئی اور قبل از وقت انتباہ کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ہے۔سمبل پور ریڈار کے فعال ہونے کے ساتھ ہی، گوپال پور اور پارا دیپ میں تنصیبات کے بعد اب اوڈیشہ میں تین ڈوپلر ویدر ریڈار موجود ہیں، جبکہ قومی نیٹ ورک میں ان ریڈارز کی کل تعداد 51 تک پہنچ گئی ہے۔ یہ نئی سہولت مغربی اوڈیشہ میں موسم کے مشاہدے کو مضبوط کرے گی اور جنوبی جھارکھنڈ، شمالی چھتیس گڑھ اور شمالی آندھرا پردیش و مغربی بنگال کے کچھ حصوں جیسے ملحقہ علاقوں کے لیے بہتر موسمیاتی معلومات فراہم کرے گی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے گزشتہ دہائی کے دوران بھارت کے موسمیاتی مشاہداتی بنیادی ڈھانچے میں ہونے والی تیز رفتار توسیع پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ 2014 میں ملک میں صرف 14 ڈوپلر ویدر ریڈار موجود تھے، جبکہ اب یہ نیٹ ورک بڑھ کر 51 تک پہنچ گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ‘ مشن موسم’ کے تحت مزید تقریباً 40 ریڈار لگانے کا منصوبہ ہے، جس سے ملک میں ڈوپلر ویدر ریڈارز کی کل تعداد تقریباً 81 ہو جائے گی۔وزیر موصوف نے کہا کہ یہ توسیع حکومت کی اس وسیع تر کوشش کا حصہ ہے جس کا مقصد شدید موسمی واقعات کا مشاہدہ کرنے، انہیں سمجھنے اور ان سے نمٹنے کے لیے بھارت کی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مشاہدے کی بہتر صلاحیتیں خاص طور پر ان علاقوں کے لیے اہم ہیں جو گرج چمک کے طوفانوں، آسمانی بجلی گرنے، شدید بارش اور موسم سے متعلق دیگر خطرات سے دوچار رہتے ہیں۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ سمبل پور ریڈار اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ یہ خطے میں مشاہدے کے ایک اہم خلا کو پُر کرنے میں مدد کرے گا۔ ریڈار کے ذریعے حاصل ہونے والے اضافی مشاہدات موسمیاتی ایجنسیوں کی اس صلاحیت کو مضبوط بنائیں گے کہ وہ موسمی نظاموں کی نگرانی کر سکیں اور انتظامیہ نیز عوام کو زیادہ بروقت اور درست معلومات فراہم کر سکیں۔

