Delhi-NCR

برکس 2026۔ بھارت کے لیے محاذ نہیں بلکہ مکالمے اور کثیرالجہتی روابط کا فورم

نئی دہلی۔17؍ ستمبر۔ ایم این این۔ نئی دہلی میں ہونے والے برکس سربراہی اجلاس 2026 نے اس تصور کو تقویت دی ہے کہ بھارت اس گروپ کو مغرب مخالف سیاسی یا عسکری اتحاد کے بجائے ایک ایسے فورم کے طور پر دیکھتا ہے جہاں مختلف مفادات رکھنے والے ممالک مشترکہ معاملات پر اتفاق رائے پیدا کر سکتے ہیں۔چینی صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کی نئی دہلی میں موجودگی نے عالمی توجہ حاصل کی، لیکن اجلاس کے مشترکہ اعلامیے میں امریکہ، یوکرین اور امریکی ڈالر کا براہ راست ذکر نہ ہونا اور مشرق وسطیٰ کے اختلافات پر محتاط زبان اختیار کرنا برکس کے اندر مختلف قومی ترجیحات کی عکاسی کرتا ہے۔بھارت کی حکمت عملی کو کثیرالجہتی وابستگی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ نئی دہلی ایک طرف برکس میں روس اور چین کے ساتھ کام کر رہا ہے تو دوسری جانب امریکہ اور یورپ کے ساتھ اس کے اسٹریٹجک تعلقات برقرار ہیں۔ اسی دوران بھارت نے یورپی یونین کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے اور سکیورٹی و دفاعی شراکت داری کو آگے بڑھایا، برطانیہ اور نیوزی لینڈ کے ساتھ تجارتی معاہدے کیے اور عمان کے ساتھ جامع اقتصادی شراکت داری قائم کی۔برکس کے دہلی اعلامیے میں کسی نئی مشترکہ کرنسی کی جانب نمایاں پیش رفت سامنے نہیں آئی اور گروپ کی مزید توسیع بھی مرکزی موضوع نہیں بنی۔ اس کے بجائے تجارت، سپلائی چین، توانائی اور عالمی اداروں میں ترقی پذیر ممالک کے کردار جیسے شعبوں پر اتفاق رائے برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی۔بھارت اور چین کے درمیان رابطوں میں اضافہ بھی مکمل اسٹریٹجک قربت کی علامت نہیں سمجھا جا رہا۔ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی اور سکیورٹی اختلافات برقرار ہیں اور لائن آف ایکچوئل کنٹرول کے دونوں جانب بڑی تعداد میں فوجی دستے موجود ہیں۔ اس تناظر میں نئی دہلی کی پالیسی مسابقت ختم کرنے کے بجائے اسے منظم کرتے ہوئے بات چیت جاری رکھنے کی ہے۔یورپ کے لیے بھی بھارت کی یہی آزاد خارجہ پالیسی اہم قرار دی جا رہی ہے۔ بھارت بیک وقت واشنگٹن، ماسکو، بیجنگ، خلیجی ممالک اور گلوبل ساؤتھ کے ساتھ روابط برقرار رکھ کر مختلف عالمی طاقتوں کے درمیان رابطے کی گنجائش پیدا کرتا ہے۔برکس 2026 کا بنیادی پیغام یہی سامنے آیا کہ بھارت اس پلیٹ فارم کو کسی ایک عالمی طاقت کے خلاف محاذ بنانے کے بجائے بدلتے ہوئے کثیر قطبی عالمی نظام میں اپنے اسٹریٹجک مفادات، گلوبل ساؤتھ کی آواز اور مختلف طاقتوں کے ساتھ تعلقات میں توازن قائم رکھنے کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔

Related posts

ای ڈی کے غیر قانونی جائیداد نیلامی کیخلاف احتجاج پر ایم آئی ایم نے مسلم سرمایہ کار کو جیل بھیجنے کی اپیل کی

Awam Express News

جمہوریت اور آئین کو بچانے کے لیے مسلسل کریں گے جدوجہد: کھڑگے

Awam Express News

جی ایس ٹی میں کٹوتیوں کا اثر تہوار کے موسم سے آگے بھی برقرار رہے گا۔ سیتا رمن

Awam Express News