حرمین شریفین کی سرزمین سعودی عرب کی سلامتی، استحکام اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعا
دہلی، 22 ستمبر: معروف شیعہ عالم دین مولانا حسن علی راجانی نے مملکتِ سعودی عرب کے قومی دن کے موقع پر سعودی قیادت، حرمین شریفین کے خادمین، اہلکاروں، رضاکاروں اور سعودی عوام کو دل کی گہرائیوں سے پُرخلوص مبارکباد پیش کرتے ہوئے مملکت کی امن، سلامتی، استحکام اور خوشحالی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔
مولانا حسن علی راجانی نے اپنے تہنیتی پیغام میں کہا کہ سعودی عرب کا قومی دن صرف قومی تشخص اور اتحاد کی یاد کا موقع نہیں بلکہ ان تاریخی مراحل کو یاد کرنے کا دن بھی ہے جن کے نتیجے میں جزیرۂ عرب میں ایک متحد اور مستحکم مملکت کا قیام عمل میں آیا۔ سعودی عرب آج عرب دنیا اور عالمی سطح پر ایک اہم ریاست کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کی سلامتی و استحکام کی اہمیت حرمین شریفین کی وجہ سے دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے خصوصی حیثیت رکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی سرزمین دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ محبت، عقیدت اور روحانی وابستگی کا مرکز ہے۔ اسی سرزمین پر مکہ مکرمہ میں بیت اللہ شریف اور مدینہ منورہ میں مسجدِ نبوی ﷺ واقع ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک، زبانوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے مسلمان جب خانۂ کعبہ کی طرف رخ کرتے ہیں تو ان کے دل اس مقدس سرزمین کے ساتھ ایک گہرا روحانی تعلق محسوس کرتے ہیں۔مولانا راجانی نے کہا کہ سعودی عرب کی تاریخ میں اتحاد، استحکام، تعمیرِ وطن اور ترقی کے مختلف ادوار گزرے ہیں۔ قیامِ مملکت کے سفر میں مختلف مشکلات اور چیلنجز کا سامنا ہوا، تاہم عزم، استقامت اور مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں ایک متحد مملکت کی تشکیل ہوئی۔ آج سعودی عرب خطے کی سیاست، معیشت اور عالمی سفارت کاری میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔انہوں نے حرمین شریفین کی تاریخی اور مذہبی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قرآنِ کریم میں اصحابِ فیل کا واقعہ مسلمانوں کے دینی شعور کا اہم حصہ ہے اور یہ واقعہ اس یقین کو تقویت دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے مقدس گھر کی حفاظت پر قادر ہے۔ مسلمان آج بھی بیت اللہ، مسجدِ نبوی ﷺ اور تمام مقدس مقامات کی سلامتی و حفاظت کے لیے دعا کرتے ہیں۔
مولانا حسن علی راجانی نے کہا کہ قومی دن کے موقع پر ہماری سب سے بڑی دعا یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ مملکتِ سعودی عرب کو ہمیشہ امن و امان، استحکام، خوشحالی اور ترقی عطا فرمائے، حرمین شریفین کی خدمت کرنے والوں کو اپنی رحمتوں سے نوازے اور مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ کو ہر قسم کے خطرات سے محفوظ رکھے۔ دنیا بھر سے آنے والے حجاج، معتمرین اور زائرین کے لیے مقدس مقامات کو امن و اطمینان کا مرکز بنائے۔انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ دور میں جب دنیا کے مختلف خطوں میں جنگ، کشیدگی، سیاسی اختلافات اور انسانی بحران موجود ہیں، ایسے ماحول میں امن اور استحکام کی قدر مزید بڑھ جاتی ہے۔ سعودی عرب کی سلامتی اور حرمین شریفین کا امن دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے باعثِ اطمینان ہے۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سے قلبی وابستگی رکھنے والا ہر مسلمان ان مقدس مقامات کی سلامتی اور سعودی عرب کی خیر و عافیت کے لیے دعاگو ہے۔
مولانا راجانی نے سعودی عرب کی معاشی اور سماجی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مملکت اب صرف اپنے تاریخی اور مذہبی مقام کی وجہ سے ہی عالمی توجہ کا مرکز نہیں بلکہ معیشت، جدید انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی، صحت، تعلیم، سیاحت اور انسانی وسائل کی ترقی کے میدان میں بھی ایک وسیع تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سعودی وژن 2030 اس قومی تبدیلی کے اہم منصوبوں میں شامل ہے، جس کا مقصد سعودی معیشت کو مزید متنوع بنانا، نجی شعبے کے کردار کو بڑھانا، روزگار کے مواقع پیدا کرنا، تعلیم و صحت کے شعبوں کو جدید بنانا اور شہریوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانا ہے۔ وژن 2030 کے تین بنیادی ستون ’’ایک متحرک معاشرہ، ایک ترقی کرتی ہوئی معیشت اور ایک پُرعزم قوم‘‘ ہیں۔
مولانا حسن علی راجانی نے کہا کہ سعودی عرب میں تیل کے علاوہ دیگر معاشی شعبوں کو وسعت دینے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ سیاحت، ٹیکنالوجی، بنیادی ڈھانچے، صحت، تعلیم، ڈیجیٹل خدمات اور انسانی صلاحیتوں کی ترقی کو قومی تبدیلی کے اہم حصوں کے طور پر آگے بڑھایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ حج و عمرہ کے شعبے میں بھی سہولتوں، نقل و حمل، صحت و سلامتی کے انتظامات اور ڈیجیٹل خدمات میں بہتری پر توجہ دی جا رہی ہے تاکہ دنیا بھر سے آنے والے حجاج، معتمرین اور زائرین کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ حرمین شریفین کی خدمت کے ساتھ جدید انتظامی تقاضوں کو پورا کرنا بھی ایک اہم ذمہ داری ہے۔
مولانا راجانی نے کہا کہ سعودی عرب کی موجودہ ترقی کو اس کی تاریخی شناخت، مذہبی اہمیت اور مستقبل کی معاشی ضروریات کے درمیان ایک وسیع تر قومی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ وژن 2030 اسی تبدیلی کو ایک منظم سمت دینے کی کوشش ہے، جس کے ذریعے سعودی عرب کو ایک زیادہ متنوع معیشت، بہتر معیارِ زندگی اور عالمی سطح پر مزید مربوط ریاست بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
آخر میں مولانا حسن علی راجانی نے دعا کرتے ہوئے کہا:
’’اے اللہ! مملکتِ سعودی عرب کو امن و امان کا گہوارہ بنا، حرمین شریفین کی حفاظت فرما، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو اپنی خاص امان میں رکھ، وہاں آنے والے تمام حجاج، معتمرین اور زائرین کی حفاظت فرما، اور پوری امتِ مسلمہ کو اتحاد، اخوت، امن اور خیر و برکت عطا فرما۔ آمین یا رب العالمین۔‘‘مولانا حسن علی راجانی نے قومی دن کے پُرمسرت موقع پر ایک بار پھر مملکتِ سعودی عرب، اس کے عوام، قیادت اور حرمین شریفین کے تمام خادمین کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مملکتِ سعودی عرب کو ہمیشہ امن، سلامتی، استحکام، ترقی اور خوشحالی عطا فرمائے۔

