عظیم الشان علمی و تاریخی سیمینار , علامہ نذیر احمد رحمانی املوی رحمہ اللہ حیات و خدمات واجلاس عام
مدرسہ اسلامیہ انوارالعلوم املو مبارکپور ضلع اعظم گڈھ کے زیر اہتمام ایک عظیم الشان علمی و تاریخی سیمینار بعنوان علامہ نذیر احمد رحمانی املوی رحمہ اللہ حیات و خدمات واجلاس عام ۲۸ / اکتوبر بروز بدھ منعقد ہوا۔اس سیمینار کے کنوینر مولانا راشد حسن سلفی تھے۔انہیں کے افتتاحی کلمات اور مولانا نسیم احمد سلفی کے کلمہ تشکر کے بعدیہ سیمینار صبح /9 بجے سے 1/30بجے دن ظہر تک پھر عصر بعد/ 4بجے سے 5/30 بجے شام مغرب تک چلتا رہا اس سیمینار کی صدارت مولانا مظہر الحق مدنی ناظم اعلٰی مدرسہ اسلامیہ انوارالعلوم املو اورنظامت مولانا فاروق عبداللہ رحمانی ناظم ضلعی جمعیت اہل حدیث اعظم گڑھ نے کی اس سیمینار میں مولانا عبدالرحمن رحمانی،مولانا محفوظ الرحمن فیضی، مولانا اصغرعلی مدنی دھلی،مولانا ابو الکلام مدنی حیدرآباددکن،مولانا عبدالحکیم عبد المعبود مدنی ممبئی،مولانا عطا ء الرحمن مدنی مئو،مولانا رفیق احمد رئیس احمد سلفی علی گڑھ،مولانا محمد ابراہیم رحمانی سدھارتھ نگر،مولانا ابوالقاسم مدنی مئو،مولانا مظہر اعظمی،مولاناجنید مکی بنارس،مولانا مظہر علی مدنی مئو،مولانا شفیق احمد ندوی،مولانا شمیم احمد عمری،مولانا انصار زبیر محمدی ممبئی،مولانا اشفاق سجاد سدھارتھ نگر،ماسٹر محمد عارف اعظمی،مولانا عبدالجلیل مکی ممبئی،ڈاکٹر عبدالعزیز مکی،مولانا شہاب الدین مدنی لکھنؤ، مولانا محمد مقتدی عمری،مولانا عتیق الرحمن محمد عزیر سلفی مبارکپوری، مولانا ظل الرحمن فائق بندوی،مولانا صہیب حسن مبارکپوری،مولانادل محمد مدنی بنارس،مولانا احسن جمیل مدنی بنارس،مولانا محمد محسن سلفی املوی، مولانا محمد مدنی دھلی،مولانا ابوالقاسم سلفی، مولانا شہاب الدین فیضی سدھارنگر مولانا عبدالرحیم سلفی وغیرہ نے اپنے مقالات اور تاثرات میں علامہ نذیر احمد رحمانی املوی کی تدریسی، تصنیفی، دعوتی اور سیاسی خدمات کا ذکر کیا اور انکی تصانیف میں ایک اہم تصنیف اہل حدیث اور سیاست کے پس منظر کو بیان کیا علامہ نذیر احمد رحمانی رحمہ اللہ کی عظیم یادگار مدرسہ اسلامیہ انوار العلوم املو ہے جس کی بنیاد ۱۹۳۸ء میں آپ ہی کے دست مبارک سے رکھی گئی تھی جو ابتدائی مراحل سے شروع ہوااور آج اس میں فضیلت تک کی تعلیم ہوتی ہے۔اس موقع پر علامہ نذیر احمد رحمانی املوی رحمہ اللہ کی تصانیف اور سیمینار میں پیش کیئے جانے والے مقالات کے مجموعہ کا رسم اجراء بھی علماءکرام کے ہاتھوں عمل میں آیا


بعد نماز عشاء عوامی اجلاس کا انعقاد ہوا جس کی صدارت مولانا اصغر علی امام مہدی مدنی امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند اور نظامت مولانا فاروق عبداللہ رحمانی نے کی پروگرام کا آغاز حافظ محمد یحی ارسلان کی تلاوت قرآن کریم سے ہوا مدرسہ کے طلبہ نے ترانہ پیش کیا ۔مولانا سرفراز فیضی داعی و مبلغ ممبئی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایمان اللہ کی بہت بڑی نعمت ہمیں اس کی قدر کرنا چاہیئے

۔ڈاکٹر عبدالغفار سلفی استاذ مدرسہ احیاءالسنہ بجرڈیہہ بنارس نے کہا کہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی علم کا آٹھ جانا ہےاللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا مطلب یہ بیان کیا کہ دنیا سے اہل علم اٹھا لیئے جائیں گے۔انہوں نے کہا علماء کا کام صرف نماز جنازہ اور نکاح پڑھانا نہیں بلکہ ان کا اصل کام دین کی صحیح تعلیم دینا ہےمولانا کفایت اللہ سنابلی ممبئی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گھروں میں بگاڑ اور رشتوں کے ٹوٹنے کے اسباب میں سے حق وراثت کا نہ دینا ۔ ایمان وعمل سے دوری بنائے رکھنا شوہر کی اجازت کے بغیر غیروں کو گھر کے اندر بلانا اور عورتوں کو گھر کا مالک بنادیناہے۔

مولانا عبدالحسیب مدنی کرناٹک نے اپنے خطاب میں کہا کہ قرآن ایک ایسی کتاب ہے جو دلوں پر اثر انداز ہوتی ہے قرآن ایک نسخہ کیمیا ہے جس نے ہمارے اسلاف کی زندگیوں کو تبدیل کردیا تھا اس لیئے قرآن کو سیکھو اور اس پر عمل کرو مولانا سید معراج ربانی مدنی بنگلور نے اپنے خطاب میں کہا کہ توحید کے بغیر ہمارا کوئی بھی عمل اللہ کے یہاں قابل قبول نہیں ہے جتنے بھی انبیاء ورسل دنیا میں آئے ہر ایک نے اسی کی دعوت دیا اخیر میں صدراجلاس کے صدارتی کلمات کے بعد پروگرام کے اختتام کا اعلان کیا گیا اس موقع پر مولانا نورالعین سلفی، مولانا احمد مجتبی مدنی، مولانا محمد یونس سلفی،مولانا ابووقاص اثری، مولانا عتیق الرحمن محمد عزیر سلفی استاذ جامعہ عربیہ دارالتعلیم مبارکپور مولانا نسیم احمد سلفی صدر مدرس مدرسہ اسلامیہ انوارالعلوم املو مولانا محمد عدنان اثری، مولانا محمد محسن سلفی،مولانا راشد حسن سلفی،مولاناصلاح الدین سلفی،مولانا حفیظ الرحمن سلفی، مولانا حمید حسن سلفی،مولانا صہیب حسن سلفی،مولانا شہاب الدین فیضی،مولانا محمد مقتدی عمری،مولانا مظہر الحق مدنی،مولانا محمد شاہد سلفی،ضیاءاللہ بھائی ڈاکٹر محبوب اعظم سرجن،ڈاکٹر فیض الرحمن انصاری، مبارکپور حلقہ انتخاب کے ایم ایل اے اکلیش یا دو،مولانا شاکر علی اثری،مولانا محمد سلمان نذیری،مولانا سرفراز احمد فیضی،مولانا امتیاز احمد فیضی،قاری عتیق الرحمن املوی مولانا انعام الرحمن رحمانی، مولانا انیس الرحمن مدنی،مولانا ابوالحاکم رحمانی،ڈاکٹر محمد اسلم مدنی،مولانا رفیق احمد سلفی حاجی سعید الرحمن مئوی محمد سالم سابق ایم پی حذیفہ شاہد مئوی مولانا نسیم الحق ،مولانا عزیر احمد ہادی کےعلاوہ ضلع وبیرون ضلع کے عوام وخواص کی کثیر تعداد موجود تھی

