Uncategorized

،،،،،،۔ سالک گورکھپوری کی یاد میں مشاعرہ ،،،،،،

ہمہ جہت ادبی شخصیت ارشاد احمد سالک گورکھپوری کی نویں برسی کے موقع پر بطور خراج عقیدت ایک عظیم الشان مشاعرہ امام بارگاہ محلہ پرانا گورکھپور میں منعقد ہوا جسکی صدارت معروف ادیب نواز الحاج محمد افراہیم صاحب نے فرمائی مہمان خصوصی کے طورپر ڈاکٹر طاہر علی سبزپوش اور ارشد جمال سامانی شریک محفل رہے
سالک گورکھپوری میموریل کمیٹی اور مدرسہ ضیاء العلوم پرانا گورکھپور کے اراکین و مدرسین کے اشتراک سے منعقد اس پروگرام کی سرپرستی و قیادت بالترتیب صغیر احمد عزیزی اور امداد احمد انصاری نے کی
دوحصوں پر مشتمل اس تقریب کا آغاز حافظ محمد اسلم نے تلاوت قرآن پاک سے کیا بعدہ سالک گورکھپوری کے پسر زادے محمد انس نے اپنے دادا مرحوم کی لکھی نعت رسول ترنم کے ساتھ پیش کی
مشاعرہ سے قبل ناظم مشاعرہ حافظ ناصر الدین نے سالک گورکھپوری کی حیات و شخصیت پر کلیدی خطبہ پیش کیا اور ان کے ادبی کارناموں کو ناقابل فراموش قرار دیا اس موقع پر کاربوریٹر امیر الدین انصاری نے بھی اظہار خیال کیا اور اس طرح کے مزید پروگرام منعقد کرنے پر زور دیا
ایک شام سالک گورکھپوری کے نام منعقد اس مشاعرے کی ایک خصوصیت یہ رہی کہ اس میں شامل تمام شعرا نے سالک صاحب کی ادبی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں منظوم خراج عقیدت پیش کیا جو اختصار کے ساتھ باذوق قارئین کی خدمت میں نذر ہے
تھا شاعری میں جنکی آہنگ اک نیا سا
اہل ادب میں جن کا اپنا تھا ایک رتپہ
کہتے تھے جو غزل بھی تھے نعت میں بھی ماہر
ہےنام ان کا سالک جن کا ہے آج چرچا
سلیم مظہر
باعث افتخار تھے سالک
کس قدر باوقار تھے سالک
کیوں نہ ان کو ادب سلام کرے
فکر کا اعتبار تھے سالک
عبداللہ جامی
سالک جلا کے شمع ادب کی چلے گئے
ان کے وجود سے مگر اردو ہوئی نہال
ارشد سفیر
سناتا ہوں میں آج ان کا فسانہ
جنہیں یاد کرتا ہے سارا زمانہ
ادب سے انہیں لوگ کہتے تھے سالک
ملے ان کوجنت انہیں بخشے مالک
مصباح انصاری
شاعر دلنشین تھے سالک
روشنی کے امین تھے سالک
ہرکسی سے خوشی سے ملتے تھے
آدمی بہترین تھے سالک
نورالدین نور
خوشبو سے ہے معطر شعر و ادب کا گلشن
تیرے شعور وفن سے چمکا غزل کا درپن
چرچا ہے آج پھر سے خدمات کا تمہاری
یادوں سے تیری سالک بزم سخن ہے روشن
شاکر علی شاکر
سخن شناس ادیبوں کا ترجمان کہو
جو میری مانو انہیں صاحب زبان کہو
عظیم شاعر وناظم تھے حضرت سالک
شعور وفکر کی دنیا کا آسمان کہو
اسلم نظامی
پیام صبح لئے طرزِ نوکا جام لئے
ادب کی شان لئے ذوقِ ناتمام لئے
بہت اداسی سی رہتی ہے ہر گھڑی مجھ کو
کہاں چلے گئے سالک بنا سلام لئے
وسیم مظہر
سخن کے دیے جو یہاں جل رہےہیں
بڑھاتے رہے ان کی تنویر سالک
جولے کر ہمیں جائے شہر ادب میں
ثمر اس ڈگر کے تھے رہگیر سالک
ڈاکٹر امتیاز ثمر
چمکے سورج کی طرح چاروں طرف
فہم وادراک کے مالک بن کر
معرفت رب کی انہیں حاصل تھی
شہر میں وہ رہے سالک بن کر
ناصر الدین ناصر
شیرینئ سخن کبھی پانی نہ جائےگی
تصویر اب غزل کی بنائی نہ جانے گی
جب تک سجے گی محفل شعر وسخن مجاز
سالک کی یاد دل سےبھلائ نہ جانے گی
صدیق مجاز
مہر اردو کی شان تھے سالک
بزم اردو کی جان تھے سالک
کیا کہیں کیا بتائیں ہم عرشی
کس قدر مہربان تھے سالک
ڈاکٹر عرشی بستوی
نازش فکر وفن کلام ان کا
تھا محبت بھرا پیام ان کا
شعر گوئی کا فن نرالا تھا
ظرف سالک بلند و بالا تھا
بسمل نوری
ڈھونڈتی ہے نظر نظر سالک
روٹھ کر تم گئے کدھر سالک
بیس سو سولہ سن پچیس اپریل
یاد ہے آخری سفر سالک
عاصم گونڈوی
سالک محترم کی یاد آئی
ہرکلی ہے چمن میں مرجھائی
میں نے جب تذکرہ ہوا سے کیا
اک دیا قبرپر جلا آئی
جالب نعمانی
اس موقع پر عمائدین شہر کے علاوہ کثیر تعداد میں اہل ذوق حضرات موجود تھے

Related posts

انسانی اتحاد اور عالمی امن کے عہد کے ساتھ28ویں عالمی روحانی کانفرنس کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی

Awam Express News

وزیراعظم مودی نے ہندوستان-برطانیہ تجارتی معاہدے کی تعریف کی

Awam Express News

دل کی صحت اور کینسر سے بچاؤ کے لیے سٹرابیری کھانے کے 6 حیرت انگیز فوائد

Awam Express News