نئی دہلی (عوام ایکسپریس)مدرسہ تعلیم القرآن مسجد حاجی لنگا آرکے پورم سیکٹر 3 میں 7فروری2026 بروز ہفتہ دس بجے سے نماز ظہر تک سالانہ اجلاس عام و دستار بندی کا انعقاد ہوا۔اجلاس عام کی صدارت مولانا شاہ سید بلال حسین تھانوی خلیفہ حضرت مولانا شاہ ابرارالحق صاحب ہردوئی رحمتہ اللہ، مہتہم مدرسہ جامعہ العلوم اشرفیہ باغپت نے کیا۔اجلاس عام میں مہمان خصوصی کے طور پر شریک ہوئے مولانا شوکت قاسمی استاد حدیث و صدر کل ہند رابط مدارس دارالعلوم دیوبند یوپی،مولانا خلیل احمد دیوامظاہری استاد حدیث جامعہ فلاح دارین تر کیسر گجرات، مولانا محب اللہ ندوی ایم پی رام پور، ڈاکٹر امام عمیراحمد الیاسی چیف امام آل انڈیا امام آرگنائزیشن،مولانا ارشد میر مہتمم جامعہ فیض سبحانی سید پورہ راجہ واڑی سورت گجرات اور دہلی کے بہت سے عالم دین بھی شریک ہوئے۔


اجلاس عام و دستار بندی کی صدارتی تقریر میں مولانا شاہ سید بلال حسین تھانوی نے مدرسہ تعلیم القرآن کے بانی و مہتم مولانا محمد قاسم رحیمی،اساتذہ اور تمام فارغین کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ مدرسہ تعلیم القرآن کے مہہتم اور اساتذہ کی محنت سے یہاں ہر سال بڑی تعداد میں طلباء فراغت ہوتی ہے۔اس مدارس کی دین کے لئے بڑی خدمات ہے اللہ ان کی خدمات کو قبول فرمائیں۔مولانا نے اجلاس کو خطاب کرتے ہوئے کہا اللہ کا بہت بڑا احسان ہے کہ ہمارے ملک ہندوستان میں مدارس وخانقاہوں کا وجود ہے اور دنیا کی اصلاح ہو رہی ہے۔جن کی نمازیں صحیح نہیں ان کی نمازیں صحیح ہورہی ہیں جن کے کلمے صحیح نہیں ان کے کلمے درست کرائے جارہے ہیں۔ان مدارس اور خانقاہوں کے ذریعہ آخرت کی فکر دلائی جاتی ہے۔دنیا سے محبت بے کار ہے دنیا سے محبت اتنی ہی ہونی چاہئے جس سے اللہ تعالیٰ کا حکم نہ ٹوٹے۔ انسان کی زندگی ایک مسافر خانہ ہے۔کوئی بھی انسان دنیا میں نہ رہا ہے اور نہ رہیگا۔ہمیں ایسا علم سیکھنا چاہئے جو علم ہمیں دنیا میں اور آخرت میں بھی کام آئے۔ اور وہ علم قرآن وحدیث کا علم ہے۔قرآن شریف ایک ایسی کتاب ہے جو قیامت تک رہیگی، دنیا کی ساری کتابیں اب اسل حالت میں نہیں ہیں پر واحد کتاب اللہ جو نبیؐپر نازل ہوئی وہ قیامت تک رہے گی۔مولانا شاہ سید بلال حسین تھانوی نے مزیدحافظ قرآن کی فضیلت، تہجد کی نماز کی فضیلت کو بیان کیا۔


مہمان خصوصی کے طور پر شریک ہوئے رام پور سے ایم پی مولانا محب اللہ ندوی نے اجلاس کو خطاب کیا۔مدرسہ تعلیم القرآن کے مہتم مولانا محمد قاسم رحیمی کی خدمات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ دین کے لئے ان کی بڑی خدمات ہیں اور یہاں بچوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ بہترین تربیت دی جاتی ہے۔مدرسہ کے طلبہ اور اساتذہ کی حسن کار کردگی پر اطمینان اور خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ جس پیمانے پر محنت کر رہا ہے وہ یقینا وقت کی ضرورت ہے۔اور یہاں کے مہتم اور اساتذہ سبھی مبارکباد کے مستحق ہیں۔طلباء سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ کی عمر ابھی ایسی ہے آپ ابھی جو ارادہ کرلیں گے بڑے ہوتے ہوتے آپ جو ارادہ کیئے ہونگے آپ بن جائیں گے۔خلوص دل سے نیک نیتی سے اللہ کے سپرد کر دیجئے۔پوری دنیا میں انسانیت کی بہت کمی ہے۔نبیؐ کی جو سیرت لے کر آئے تھے اس کی سخت ضرورت ہے۔

آل انڈیا امام آرگنائزیشن کے چیف امام ڈاکٹر امام عمیراحمد الیاسی نے اجلاس کو خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ دینی تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ دنیا میں رہنے کے لئے دنیاوی تعلیم حاصل کرنے کی بھی ضرورت ہے۔آج ملک میں مدارسوں میں دینی دنیاوی تعلیم دی جارہی ہے جس سے اس ملک کی ترقی میں مسلمانوں کی حصہ داری بڑھی ہے۔ڈاکٹر عمیرالیاسی نے مدرسہ تعلیم قرآن کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی کوئی بات اچھے مدارس کی ہوتی ہے تو میرے دل سے مدرسہ تعلیم القرآن نکلتا ہے۔مدرسہ کے مہتم کی خدمات کو اللہ قبول فرمائیں اور اور فارغین طلباء کو کامیابی عطا فرمائیں۔

مہمان خصوصی مولانا شوکت قاسمی بستوی نے اجلاس کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مدرسہ اسلام کا پاور ہاؤس ہے یہاں دین اور عمل کے لئے تیار کیا جاتا ہے۔قرآن کی روشنی میں کہا کہ اپنے اور بچوں کو جہنم کی آگ سے بچاؤ۔خیر کی تعلیم دو،اپنے بچوں کو قرآن اور حدیث کا علم دو۔قرآن اور حدیث سب سے بڑا خیر ہے۔ساری دنیا میں کہیں بھی مسلمان نظر آرہے ہیں وہاں مدارس اور مساجد ہیں اور وہ اپنی پہچان اور شناخت سے زندگی گزار رہے ہیں یہ مدارس کی دین ہے۔نبی ؐکے دور میں مسجد نبویؐ میں ایک جگہ ہے صففہ جہاں ہر عمر کے صحابہ کرام دین سیکھتے تھے اور یہ اسلام کا پہلا مدرسہ ہے۔علم دین اللہ کے نبی ؐ کا سرمایہ ہے۔قرآن کی تعلیم حاصل کرنے والے لوگ نبیؐ کے وارث ہیں۔مولانا شوقت نے کہا کہ مدرسہ کی تعلیم و تربیت کو دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے،یہاں کے طلباء کو اللہ رب العالمین دین کا خادم بنائے۔


مہمان خصوصی مولانا خلیل احمد دیوامظاہری استاد حدیث جامعہ فلاح دارین تر کیسر گجرات نے اجلاس کو خطاب کرتے ہوئے کہا اللہ تعالیٰ نے قرآن کو نازل کیا یہ زندگی گذارنے کا طریقہ ہے۔آج مذہب کی تعلیم سب سے زیادہ ضرورت ہے۔والدین کی فرمابرداری کے بارے میں قرآن کی روشنی میں بیان کیا۔پڑوسی کے حق کے حوالے سے کہا کہ پڑوسی کے حق ادا کرو۔اللہ کے دین کی مدد کروگے تو اللہ بھی آپ کی مدد کریگا۔تہجد کی نماز کی فضیلت بیان کیا اور کہا کہ عنقریب رمضان آنے والا ہے اس میں کثرت سے عبادت کرو اور تہجد کی نماز پڑھو۔مولانا نے کہا کی قیامت نزدیک ہے قیامت کی جو نشانیاں نبیؐ نے بتائی ہیں وہ چھوٹی نشانیاں ختم ہو گئی ہیں اب بڑی نشانیوں میں شامل ہوگئے ہیں۔اسلئے ہمیں کثرت سے اللہ کی عبادت کرنا چائیے۔
۔بعد ازیں فارغ ہونے والے طلباء کو گراں قدر انعامات سے نوازا۔اس موقع پرمولانا فرقان احمد امام و خطیب سنہری مسجد چاندنی چوک دہلی، مولانا عارف قاسمی چئرمین آل انڈیا امام فاؤنڈیشن،مولانا قاسم نوری،حاجی اسعد میاں وغیرہ مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کئے۔

اجلاس کی نظامت مولانا عارف الیاس نے کیا۔اجلاس کا اختتام مولانا شاہ سید بلال حسین تھانوی کی دعاء پر ہوا۔مدرسہ تعلیم القرآن میں مستورات کیلئے پورے پردہ کا انتظام تھا۔

سالانہ اجلاس عام و دستار بندی میں مدرسہ کے طلباء نے بہترین عربی انگریزی میں دینی تقریر یں پیش کیں ساتھ ہی نعت پاکؐ بھی بہتیرن انداز میں پیش کیا۔


جن کے نام ہیں سفیان بن بدر عالم،محمد حارث،محمد عدنان،انگریزی میں تقریر پیش کیا انس بن جاوید،منیر بن ولی عالم،شاہد، دانش مہدی وغیرہ طلباء نے بہترین نعت پاک پیش کیا۔

مدرسہ تعلیم القرآن مسجد حاجی لنگا میں حفظ مکمل کرنے والے دس طلباء کے نام۔۔۔۔۔۔۔
اقدس ابن نجم الدین،زبیر ابن احسان الدین،محبوب اب صابر، فرمان ابن قاری آزاد، سہیل ابن یاسین،احمد ابن جاوید، اکرام ابن عرفان،سیف ابن نوید، سہیل ابن یاسین حماد بن مولانا احمد بیک
درجات حفظ سے فارغ ہونے والے طلباء کے نام۔۔۔۔۔
ریحان بن ھیرا، محمد مامون رشید، محمد افنان بن کلیم۔
ناظرہ مکمل کرنے والے طلباء
مشفق بن رقیب، اویس بن وکیل، اعیان بن نجمل، حماد بن شمساد، انس بن خوشنود، کاشف بن عبداللہ،انصاف بن وکیل، عاب بن جمشید، ریاض بن تعریف، زبیر بن افضل، ذیشان بن سلیم، اسعد بن خالد،عبد الرؤوف بن شمیم، عبد الماجد بن کلیم، عالم بن تعریف،طلحہ بن راحل، رضوان بن ابو حنیف، اسماعیل بن خالد،فواد بن صادق، عبد الوہاب بن سہیل، علقمہ بن غالب، یا سین بن بشیر،عمار بن عیسی، عادل بن ذاکر حسین،عبد العزیز بن امین، حسین بن بلال، عمیر بن نسیم، عبدالرؤف بن شوکت، عمر بن مقصود، اسماعیل بن ابراہیم۔

