National

ضروری نہیں مقدمہ کر کے ہر شخص گڈھے میں گرے اسد اویسی کا ایف آئی آر اسکے گلے کا پھانس بن گیا

نئی دہلی (خصوصی رپورٹ : مطیع الرحمن عزیز) – مشہور مثل ہے کہ "ضروری نہیں ہے کہ ہر شخص گڈھے میں گرے، بلکہ ان لوگوں سے تجربہ حاصل کرے جو پہلے گڈھے میں گر چکے ہیں”۔ یہ مثال اس لیے یاد آ رہی ہے کہ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کے سربراہ اسد الدین اویسی نے اپنے کیے گئے ایک غلط اقدام کی وجہ سے خود کو قانونی جال میں پھنسا لیا ہے۔ 2012 میں انہوں نے ہیرا گروپ آف کمپنیز پر غلط الزامات لگا کر ایک FIR درج کروائی تھی، جو ناکام ہوئی اور اب انہیں 100 کروڑ روپے کے ہتک عزت کے مقدمے کا سامنا ہے۔ اب وہ اپنے پارٹی کارکن "ایم آئی ایم شہباز” احمد خان کو آگے کر کے ہیرا گروپ کے سرمایہ کاروں کو اکسا رہے ہیں، تاکہ کمپنی اور اس کی سی ای او عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ کو مزید نقصان پہنچایا جا سکے۔ حالانکہ شہباز احمد خان خود بھی غیر قانونی سرگرمیوں اور جرائم کی وجہ سے مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں، جن میں 10 کروڑ روپے کا ہتک عزت کا مقدمہ شامل ہے۔
یہ ساری کہانی 2012 سے شروع ہوتی ہے جب اسد الدین اویسی نے ہیرا گروپ آف کمپنیز پر دھوکہ دہی اور غیر قانونی تجارت کے الزامات لگا کر حیدرآباد کے سنٹرل کرائم اسٹیشن پولیس اسٹیشن میں FIR نمبر 154/2012 درج کروائی۔ یہ الزامات مبینہ طور پر کمپنی کی سود سے پاک اسلامی تجارت پر مبنی تھے، جو مسلمان سرمایہ کاروں کو اپنی طرف متوجہ کر رہی تھی۔ تاہم، یہ مقدمہ عدالت میں چلنے کے بعد 2016 میں ختم ہو گیا، جہاں اویسی کو ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ عدالت نے پایا کہ الزامات بے بنیاد تھے اور ہیرا گروپ کی تجارت قانونی تھی۔ اس شکست کے نتیجے میں، ہیرا گروپ کی سی ای او ڈاکٹر نوہیرا شیخ نے 29 ستمبر 2017 کو حیدرآباد کی سٹی سول کورٹ میں اویسی کے خلاف 100 کروڑ روپے کا ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا، جس میں کمپنی کی ساکھ کو نقصان پہنچانے اور مالی نقصان کا الزام لگایا گیا۔ اس مقدمے میں عالمہ ڈاکٹر نوہیرا نوہیرا شیخ نے عدالت فیس کے طور پر 1 کروڑ روپے بھی جمع کروائے۔ یہ مقدمہ اب تک جاری ہے اور اویسی کی جانب سے جائزہ کی درخواست پر تلنگانہ ہائی کورٹ میں بھی زیر بحث آیا ہے۔ 2018 میں اس کیس کی سماعت کئی بار ملتوی ہوئی، اور اب یہ سپریم کورٹ تک پہنچ چکا ہے، جہاں اویسی کی اپنی FIR ان کے لیے ایک "چھچھوندر” بن گئی ہے – نہ نگلتے بنتی ہے اور نہ الگتے۔
اسد اویسی نے اپنی شکست کے بعد اپنے پارٹی کارکن شہباز احمد خان کو آگے کیا، جو AIMIM کا ایک متنازعہ رکن ہے۔ شہباز خان کو ہیرا گروپ کے خلاف سرمایہ کاروں کو اکسانے اور غلط معلومات پھیلانے کا الزام ہے۔ وہ زمینی سطح پر لوگوں سے رابطہ کر کے انہیں کمپنی پر FIR درج کرانے اور مفت قانونی مدد فراہم کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ تاہم، شہباز خان خود بھی قانونی مسائل میں گھرے ہوئے ہیں۔ 2010 میں عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ نے اس پر جنسی ہراسانی کا مقدمہ درج کروایا تھا، اور اب انہیں 10 کروڑ روپے کے ہتک عزت کے مقدمے کا سامنا ہے، جو ہیرا گروپ کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے الزام میں دائر کیا گیا۔ شہباز خان کو ایم آئی ایم اور اویسی کی جانب سے”وسٹل بلوئر” کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، لیکن اس کرمنل اور درجنوں لوٹ مار و ڈکیٹی و ریپ کی سرگرمیاں کمپنی کو بدنام کرنے اور سرمایہ کاروں کو گمراہ کرنے کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ انہوں نے ہیرا گروپ کی شبیہ کو بگاڑنے و متعدد ویڈیوز اور پوسٹس شیئر کی ہیں، جن کی وجہ سے ان پر متعدد مقدمات درج ہوئے۔
اسد اویسی اور شہباز خان کی یہ سرگرمیاں واضح طور پر ہیرا گروپ کو الجھانے اور اس کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہیں۔ وہ سرمایہ کاروں کو مزید FIR درج کرانے کی ترغیب دے کر کمپنی کو قانونی اور مالی مسائل میں گھیر رہے ہیں، تاکہ عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ اور کمپنی کی توجہ مقدمات میں الجھ جائے۔ اسد اویسی اور ان کی پارٹی کے کارکنان کی یہ حکمت عملی ملک میں انتشار پھیلانے اور سود سے پاک اسلامی تجارت کو نقصان پہنچاکر اپنی گندی سیاست اور سودی کاروبار کو فروغ دینے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ ہیرا گروپ، جو تقریباً 1.75 لاکھ سرمایہ کاروں کو جوڑتی ہے، کو سیاسی سازش کا شکار قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر جب ڈاسکٹر نوہیرا شیخ نے 2017 میں آل انڈیا مہیلا امپاورمنٹ پارٹی (MEP) بنائی اور سیاست میں قدم رکھا۔ AIMIM کارکن عوام سے "بھیک” مانگ رہے ہیں کہ وہ ہیرا گروپ پر FIR کریں، تاکہ کمپنی کی بدنامی جاری رہے۔ یہ لوگ خود تو قانونی مسائل میں پھنس چکے ہیں اور اب دوسروں کو بھی اپنے ساتھ "ڈوبنے” کی کوشش کر رہے ہیں۔
عوام کو اسد اویسی اور ایم آئی ایم کارکن شہباز خان جیسے مجرم شبیہ عناصر کے جال میں نہیں پھنسنا چاہیے۔ FIR درج کرانے سے پہلے سوچیں کہ اس کا نتیجہ کیا ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ اویسی کی اپنی FIR ان کے لیے پھانس بن گئی، اسی طرح دوسرے لوگ بھی ہتک عزت کے مقدمات میں پھنس سکتے ہیں۔ ہیرا گروپ کے معاملات اب تک عدالتوں میں ہیں، اور نوہیرا شیخ نے سرمایہ کاروں کو ادائیگی کا وعدہ کیا ہے۔ جب کمپنی ٹرائل سے سرخرو ہو کر نکلتی ہے تو FIR کرنے والوں کو کروڑوں روپے کے مقدمات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ وقت ہے کہ مسلمان کمیونٹی اور سرمایہ کار اپنے مفادات کا تحفظ کریں اور سیاسی سازشوں سے دور رہیں۔ سود سے پاک تجارت کو فروغ دینا چاہیے، نہ کہ اسے نقصان پہنچانا۔ عوام ان غلط اقدامات سے سبق سیکھیں اور ملک کی ترقی میں حصہ ڈالیں۔

Related posts

”تیار ہیں ہم “ کا نعرہ لگا کر کانگریس اقلیتی شعبے نے ’ بھارت جوڑو نیائے یاترا‘ کی کامیابی کیلئے خم ٹھونکا

Awam Express News

بھارتیہ فوج نے جے پور میں 78واں آرمی ڈے منایا

Awam Express News

مودی حکومت کے فیصلہ کن اصلاحات نے ہندوستانی معیشت کو مسابقتی، قابل اعتماد بنا دیا ہے۔ گوئل

Awam Express News