وقفے وقفے سے خبریں اور سوشل میڈیا پوسٹس ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح اس سال کے آخر تک آدھار کی شکل صرف ایک تصویر اور ایک کیو آر کوڈ میں تبدیل ہو سکتی ہے ۔
یہ درست نہیں ہے ۔ اس طرح کی تبدیلیوں کا کوئی منصوبہ نہیں ہے ۔
اس طرح کی خبریں اور سوشل میڈیا پوسٹس لوگوں کے ذہنوں میں الجھن پیدا کر رہی ہیں ۔
لوگوں کو عام طور پر مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اس طرح کی رپورٹوں اور سوشل میڈیا پوسٹوں کو نظر انداز کریں ، اور پی آئی بی کی طرف سے جاری کردہ اپنے آفیشل سوشل میڈیا ہینڈلز اور پریس بیانات کے ذریعے یو آئی ڈی اے آئی کے آفیشل مواصلات کو نظر میں رکھیں ۔ میڈیا کو بھی مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اس طرح کی معلومات کی حوصلہ افزائی نہ کرے ۔

