نئے تعلیمی سال کے لیے تعلیمی و انتظامی اصلاحات، اساتذہ کے مشاہرے میں اضافہ منظور
نئی دہلی ، 4 مئی 2026 (پریس ریلیز)
دارالعلوم رحمانیہ سنگم وہار، نئی دہلی میں مجلسِ عاملہ کی ایک میٹنگ کا انعقاد عمل میں آیا، جس کی صدارت ڈاکٹر سید احمد خاں نے فرمائی۔ اجلاس میں مدرسہ کے نظم و نسق اور نئے تعلیمی سال کے آغاز سے قبل مختلف اہم امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔
اس موقع پر دارالعلوم ندوۃ العلماء کے مشہور و معروف استاد اور شیخ الحدیث مولانا محمد خالد ندوی نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور ادارے کی تعلیمی پیش رفت کے حوالے سے اہم نکات پیش کیے۔ میٹنگ میں طلبہ کی تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ ان کے تعلیمی معیار کو مزید بلند کرنے، نصاب کی بہتری، نظم و ضبط، اور تدریسی نظام میں اصلاحات کے متعدد پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ نئے تعلیمی سال میں طلبہ کے تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنانے کے لیے اساتذہ کی رہنمائی، تربیتی نشستوں اور انتظامی نظم کو مضبوط کیا جائے گا، تاکہ ادارہ مزید مؤثر انداز میں علمی خدمات انجام دے سکے۔
میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے ڈاکٹر سید احمد خان نے ادارہ کی تعلیمی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ مدارسِ اسلامیہ دینی و اخلاقی تربیت کے ساتھ ساتھ اُمت کی فکری رہنمائی کا اہم مرکز ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ طلبہ کی علمی قابلیت کے ساتھ ان کے اخلاق و کردار کی تعمیر پر بھی خصوصی توجہ دی جائے، تاکہ وہ مستقبل میں قوم و ملت کے لیے مزید کارآمد ثابت ہوں۔
مولانا محمد خالد ندوی نے اپنے خطاب میں انتظامیہ اور اساتذہ کی خدمات کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے مدرسہ کی ترقی کے لیے باہمی تعاون، اخلاص اور مستقل محنت کو لازمی قرار دیا۔ ان کی رہنمائی میں اجلاس نے متعدد اہم فیصلے منظور کیے، جن میں تعلیمی معیار کی بہتری اور تدریسی نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ شامل ہے۔
اجلاس میں ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے اساتذہ اور ناظمین حضرات کے مشاہرے میں معمولی اضافہ کی منظوری بھی دی گئی، جسے ادارہ کے تعلیمی استحکام اور اساتذہ کی حوصلہ افزائی کے لیے خوش آئند قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
میٹنگ میں مولانا معراج احمد خاں ندوی (مہتمم) کے علاوہ مولانا شمس الحق، ڈاکٹر عبید الرحمن، حافظ ذاکر علی، عبدالاحد، حافظ امیراللہ، امیر حسن اور مدرسہ کے تمام ذمہ دار بھی موجود رہے۔ آخر میں اجلاس دعا پر ختم ہوا اور ادارے کے روشن مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا گیا۔

