
شمس آغاز
موجودہ دور میں جب د یا تیزی سے اطلاعاتی ا قلاب کے زیر اثر بدل رہی ہے، میڈیا کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکا ہے۔ میڈیا ہ صرف معلومات کی ترسیل کا ذریعہ ہے بلکہ یہ عوامی شعور کی تشکیل، رائے عامہ کی سمت متعی کر ے اور حکومتوں کو جوابدہ ب ا ے میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اسی لیے اسے جمہوریت کا چوتھا ستو کہا جاتا ہے۔ مگر جب یہی ستو کمزور ہو ے لگے، یا اپ ی اصل ذمہ داریوں سے ا حراف کر ے لگے، تو پورا جمہوری ڈھا چہ متزلزل ہو جاتا ہے۔ آج ہم ایک ایسے ہی دور سے گزر رہے ہیں جہاں میڈیا کے کردار، اس کی آزادی اور اس کی ترجیحات پر س جیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
حالیہ د وں Reporters Without Borders کی جا ب سے جاری ہو ے والا ورلڈ پریس فریڈم ا ڈیکس 2026 خاص طور پر توجہ کا مرکز ب ا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق بھارت کو 157واں مقام حاصل ہوا ہے، جو ہ صرف تشویش اک ہے بلکہ اس بات کی بھی شا دہی کرتا ہے کہ ملک میں صحافتی آزادی کو ک چیل جوں کا سام ا ہے۔ جب ہم اس درجہ ب دی کا مواز ہ اپ ے پڑوسی ممالک سے کرتے ہیں تو صورتحال مزید واضح ہو جاتی ہے۔ یپال 87ویں، سری ل کا 134ویں، بھوٹا 150ویں، ب گلہ دیش 152ویں اور پاکستا 153ویں مبر پر ہیں، جبکہ ہ دوستا ا سب سے پیچھے 157ویں مقام پر کھڑا ہے۔ یہ صرف ایک عددی فرق ہیں بلکہ ایک فکری اور عملی بحرا کی علامت ہے۔
یہ سوال فطری طور پر ذہ میں آتا ہے کہ آخر ایسا کیوں ہوا؟ کیا واقعی ہ دوستا جیسے بڑے جمہوری ملک میں میڈیا کی آزادی محدود ہو رہی ہے؟ یا یہ صرف ایک بیرو ی ادارے کی رائے ہے جسے زیادہ اہمیت ہیں دی ی چاہیے؟ حقیقت یہ ہے کہ اس درجہ ب دی کو یکسر مسترد کر ا مسئلے سے آ کھیں چرا ے کے مترادف ہوگا۔ اس کے برعکس، ہمیں اس کے اسباب کو سمجھ ے اور ا پر س جیدگی سے غور کر ے کی ضرورت ہے۔
سب سے پہلے ہمیں میڈیا کی موجودہ ترجیحات کا جائزہ لی ا ہوگا۔ آج کا میڈیا، خاص طور پر الیکٹرا ک میڈیا، بڑی حد تک س س ی خیزی اور ت ازعات پر مب ی خبروں کو ترجیح دیتا ہے۔ ٹی وی ڈیبیٹس کا ا داز دیکھ لیجیے، جہاں اکثر بحث کا محور یہ ہوتا ہے کہ کس سیاست دا ے کس کے بارے میں کیا کہا، اور اس پر دوسرا فریق کیا جواب دے رہا ہے۔ ا مباحثوں میں ہ تو س جیدہ دلائل ہوتے ہیں اور ہ ہی کسی مسئلے کا حل تلاش کر ے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بلکہ یہ ایک شور شرابے کا م ظر پیش کرتے ہیں، جہاں ہر کوئی اپ ی آواز بل د کر ے کی کوشش میں مصروف ہوتا ہے۔
یہی وہ کتہ ہے جہاں ہمارا ب یادی سوال ج م لیتا ہے: کیا میڈیا کا یہی کام رہ گیا ہے کہ وہ صرف بیا ات کا تبادلہ دکھائے؟ اگر ہم دیا تداری سے جواب دیں تو کہ ا پڑے گا کہ بڑی حد تک ایسا ہی ہو رہا ہے۔ عوامی مسائل جیسے بے روزگاری، مہ گائی، تعلیم، صحت، کسا وں کے مسائل اور مزدوروں کی مشکلات میڈیا کی ترجیحات میں ثا وی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ اگر کبھی ا موضوعات پر بات بھی ہوتی ہے تو وہ عارضی اور سطحی ہوتی ہے، جس میں ہ تو گہرائی ہوتی ہے اور ہ ہی تسلسل۔
بے روزگاری کا مسئلہ لیجیے، جو آج کے وجوا وں کے لیے سب سے بڑا چیل ج ہے۔ لاکھوں وجوا اعلیٰ تعلیم حاصل کر ے کے باوجود م اسب روزگار سے محروم ہیں۔ مگر میڈیا میں اس پر مستقل اور س جیدہ بحث کا فقدا ہے۔ اس کے برعکس، سیاسی بیا بازی کو گھ ٹوں شر کیا جاتا ہے۔ اسی طرح مہ گائی، جس ے عام آدمی کی ز دگی کو مشکل ب ا دیا ہے، میڈیا میں محض ایک وقتی خبر ب کر رہ جاتی ہے۔ ہ تو اس کے اسباب پر تفصیلی تجزیہ کیا جاتا ہے اور ہ ہی اس کے حل پر کوئی بامع ی گفتگو ہوتی ہے۔
اس صورتحال کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں۔ سب سے اہم وجہ ریٹ گ (ٹی آر پی) کی دوڑ ہے۔ میڈیا ہا¶سز اس بات کو ترجیح دیتے ہیں کہ کو سی خبر زیادہ دیکھی جائے گی اور کس سے زیادہ اظری حاصل ہوں گے۔ س س ی خیز اور ت ازعہ پر مب ی خبریں اظری کو زیادہ متوجہ کرتی ہیں، اس لیے ا ہیں بار بار شر کیا جاتا ہے۔ اس عمل میں صحافت کی ب یادی اقدار قربا ہو جاتی ہیں۔
دوسری بڑی وجہ میڈیا پر بڑھتا ہوا سیاسی اور کارپوریٹ دبا¶ ہے۔ کئی میڈیا ادارے براہ راست یا بالواسطہ طور پر طاقتور حلقوں کے زیر اثر ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ ایسے موضوعات کو اٹھا ے سے گریز کرتے ہیں جو ا کے مفادات کے خلاف ہوں۔ تیجتاً، میڈیا ایک آزاد اور خودمختار ادارہ ب ے کے بجائے ایک مخصوص بیا یہ پیش کر ے کا ذریعہ ب جاتا ہے۔
یہ تمام عوامل مل کر اس صورتحال کو ج م دیتے ہیں جس کا عکس ہمیں عالمی درجہ ب دی میں ظر آتا ہے۔ 157واں مقام صرف ایک عدد ہیں بلکہ ایک ا تباہ ہے کہ ہمیں اپ ی ترجیحات پر ظرثا ی کر ی ہوگی۔ اگر میڈیا آزاد ہیں ہوگا، یا اپ ی ذمہ داریوں کو صحیح طریقے سے ادا ہیں کرے گا، تو جمہوریت کمزور پڑ جائے گی۔
اس کے اثرات صرف میڈیا تک محدود ہیں رہتے بلکہ پورے معاشرے پر پڑتے ہیں۔ جب عوام کو صحیح اور مکمل معلومات ہیں ملتیں تو ا کی رائے بھی متاثر ہوتی ہے۔ وہ ایسے فیصلے کرتے ہیں جو شاید مکمل معلومات کی ب یاد پر ہ ہوں۔ اس طرح جمہوریت کا ب یادی اصول، یع ی باخبر عوام، کمزور ہو جاتا ہے۔
تاہم، اس تاریک م ظر امے میں کچھ مثبت پہلو بھی موجود ہیں۔ ڈیجیٹل میڈیا اور سوشل میڈیا ے کسی حد تک متبادل پلیٹ فارم فراہم کیے ہیں جہاں آزاد صحافی اور شہری رپورٹرز اپ ی آواز بل د کر سکتے ہیں۔ کئی ایسے معاملات جو مرکزی میڈیا میں جگہ ہیں پاتے، وہ سوشل میڈیا کے ذریعے سام ے آتے ہیں۔ مگر یہاں بھی احتیاط کی ضرورت ہے، کیو کہ سوشل میڈیا پر غلط معلومات اور افواہوں کا پھیلا¶ بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔
لہٰذا، حل صرف میڈیا پر ت قید کر ے میں ہیں بلکہ ایک جامع اصلاحی عمل میں ہے۔ سب سے پہلے میڈیا اداروں کو اپ ی ذمہ داری کا احساس کر ا ہوگا۔ ا ہیں یہ سمجھ ا ہوگا کہ ا کا اصل کام عوامی مسائل کو اجاگر کر ا اور سچائی کو سام ے لا ا ہے، ہ کہ صرف س س ی خیزی پیدا کر ا۔ اس کے لیے ادارتی پالیسیوں میں تبدیلی، صحافیوں کی تربیت اور پیشہ ورا ہ اصولوں کی پاسداری ضروری ہے۔
ساتھ ہی، حکومتوں کو بھی چاہیے کہ وہ میڈیا کی آزادی کا احترام کریں اور ایسے قوا ی اور اقدامات سے گریز کریں جو صحافت کو محدود کرتے ہوں۔ ایک آزاد میڈیا ہی حکومت کے لیے آئی ہ ثابت ہوتا ہے، جو اس کی خامیوں کی شا دہی کرتا ہے اور اسے بہتر ب ا ے میں مدد دیتا ہے۔
عوام کا کردار بھی اس پورے عمل میں ا تہائی اہم ہے۔ جب تک اظری اور قارئی س جیدہ اور معیاری صحافت کو ترجیح ہیں دیں گے، تب تک میڈیا بھی اپ ی ترجیحات
تبدیل ہیں کرے گا۔ ہمیں یہ فیصلہ کر ا ہوگا کہ ہم کیا دیکھ ا اور س ا چاہتے ہیں: س س ی خیز بیا ات یا حقیقی مسائل پر مب ی تجزیہ؟۔
ہ دوستا کی 157ویں درجہ ب دی کو ایک موقع کے طور پر دیکھا جا ا چاہیے۔ایک ایسا موقع جو ہمیں اپ ی غلطیوں کو سمجھ ے اور ا ہیں درست کر ے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اگر ہم اس ا تباہ کو س جیدگی سے لیں اور اپ ی ترجیحات کو درست کریں، تو ہم ہ صرف اپ ی درجہ ب دی کو بہتر ب ا سکتے ہیں بلکہ ایک مضبوط، باخبر اور متواز جمہوری معاشرہ بھی تشکیل دے سکتے ہیں۔
یہ وقت خود احتسابی کا ہے۔ یہ وقت یہ طے کر ے کا ہے کہ میڈیا کا اصل کردار کیا ہو ا چاہیے۔ کیا وہ صرف بیا ات کی ج گ دکھا ے والا ایک پلیٹ فارم ہوگا، یا عوام کی آواز ب کر ا کے مسائل کو د یا کے سام ے لائے گا؟ اس سوال کا جواب ہی ہمارے مستقبل کی سمت متعی کرے گا۔
شمس آغاز
ایڈیٹر،دی کوریج
9716518126
shamsaghazrs@gmail.com

