کیرانہ (اترپردیش)۔ 18 مئی2026 (پریس ریلیز)
آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس کیرانہ اُترپردیش کی جانب سے 149 واں مفت یونانی میڈیکل کیمپ لگایا گیا۔ سینکڑوں مریضوں نے استفادہ کیا۔ زیادہ تر مریض امراض معدہ و جگر، جوڑوں کا درد، شوگر بلڈ پریشر اور استحالہ میں خرابی کے پائے گئے۔ دہلی سے ایڈووکیٹ شاہ جبیں قاضی، ڈاکٹر الیاس مظہر حسین، حکیم محمد مرتضیٰ دہلوی اور ذیشان قاضی کے علاوہ آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس کے سکریٹری جنرل ڈاکٹر سیّد احمد خاں نے بھی شرکت کی۔ پروگرام کے کنوینر ڈاکٹر سیّد یاسر اور ذیشان پردھان نے اپنے رفقا کے ساتھ انتظام و انصرام کماحقہ ادا کیا۔
کیمپ کے اختتام پر لوگوں کو اُن کی خدمات کے اعتراف میں اعزاز سے نوازا گیا۔ اس موقع پر بطور مہمان خصوصی ممبر پارلیمنٹ محترمہ اقرا حسن نے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ دور حاضر میں صدیوں سے آزمایا ہوا یونانی طریقہ علاج ہماری صحت کا ضامن ہے۔ کیونکہ اس وقت پہلے کے مقابلے لوگ لائف اسٹائل کی تبدیلی کے سبب زیادہ امراض میں مبتلا ہیں۔ اس کے علاوہ غذائی اشیا میں ملاوٹ، کورلڈ ڈرنکس وغیرہ بھی ہماری صحت کو خراب کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دنیا اپنی صحت کے لیے دوبارہ دیسی طریقہ علاج (آیوروید اور یونانی) کی طرف واپس آرہی ہے۔ انہوں نے مسیح الملک حکیم اجمل خاں کی خدمات کو تسلیم کیے جانے اور ان کے شایان شان ملک میں مقام دلانے پر زور دیا۔ آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس کے سکریٹری جنرل ڈاکٹر سیّد احمد خاں نے تنظیم کے مطالبات دہراتے ہوئے کہا کہ ممتاز مجاہد آزادی مسیح الملک حکیم اجمل خاں کو قوم نے یکسر نظر انداز کیا ہے۔ وہ ایک ایسی شخصیت تھے جو نہ صرف طبیب حاذق بلکہ اپنے وقت کے شاندار لیڈر تھے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ اور آیوروید اینڈ یونانی طبیہ کالج قرول باغ دہلی جیسے عظیم اداروں کے بانی تھے۔ اس کے علاوہ بے سہارا بچوں کے لیے ’بچوں کا گھر‘ بنایا اور سکنڈری اسکولز بھی قائم کیے۔ انہوں نے زندگی بھر عوام الناس کی خدمت کی۔ مگر ابھی تک انہیں بھارت رتن جیسے قومی اعزاز سے سرفراز نہ کیا جانا افسوس کی بات ہے۔ کیمپ کو کامیاب بنانے میں ماسٹر موہن پردھان، ڈاکٹر اکرام پردھان، محسن پردھان، دلشاد پردھان، ہارون پردھان، چودھری منور، فیروز خان، سیّد شاہد علی، حافظ ہارون، مرسلین، ڈاکٹر عشرت وغیرہ نے اپنی رضاکارانہ خدمات پیش کیں۔ تمام شرکاء کا شکریہ ڈاکٹر سیّد یاسر نے ادا کیا۔

