Hajj 2026

خطبہ حج میں امام الحذیفی کی مسلمانوں کے حالات میں بہتری اور یکجہتی کے لیےدعائیں

مسجد نبویؐ کے امام و خطیب شیخ ڈاکٹر علی الحذیفی نے میدان عرفات کی مسجد نمرہ میں خطبہ حج کی سعادت حاصل کرتے ہوئے کہا ہے کہ تقویٰ اختیار کرنا ایمان والوں کی شان ہے، اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور تقویٰ اختیار کرو، اپنے عہد کی پاسداری کرو۔

انہوں نے مزید کہا کہ قیامت کا زلزلہ انتہائی شدید ہے جبکہ آخرت کی سب سے بڑی کامیابی توحید ہے۔ جو لوگ شرک و کفر کرتے ہیں وہ ایسی چیزوں کو پکارتے ہیں جو کسی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتے۔شیخ کا مزید کہنا تھا جو اللہ سے ڈرتا ہے، اُس کے لیے اللہ نے دُہری جنت رکھی ہے۔ اللہ صبر کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اللہ نے ابراہیمؑ کو کہا حج کے لیے منادی کریں اور اللہ تعالیٰ دور دراز تک یہ آواز پہنچائیں گے۔ دور دراز سے لوگ حج کے لیے آئے ہیں تاکہ دنیا و اخرت میں وہ کامیاب ہوں۔ یہاں جھگڑا نہیں کرنا اور گناہ نہیں کرنا اور تمام چیزیں جن کا وعدہ اللہ نے کیا اُنہیں پورا کیا جائے۔ اور جو بھی شعائر اللہ کا احترام کرتا ہے یہ تقویٰ کی نشانی ہے۔ڈاکٹر شیخ علی الحذیفی نے کہا کہ ہمیشہ سچ بولیں اور غلط بیانی سے گریز کریں، بدعت اور غیبت سے دور رہو، حجاج عرفات سے فارغ ہونے کے بعد منیٰ تشریف لے جائیں گے، حجاج کرام مناسک بہترین انداز میں ادا کریں۔انہوں نے کہا کہ حجاج کرام ہر لمحہ مغفرت کی دعا کرتے رہیں، اللہ تعالیٰ کے ذکر اور عبادات میں مصروف رہیں، نماز قائم کریں، اللہ تعالیٰ ہی دعائیں قبول کرنے والا ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر سے مختلف رنگوں کے لوگ یہاں آئے ہیں جو اللہ کی طرف سے ایک بڑا مظہر ہے۔ اللہ تعالیٰ فرشتوں میں حاجیوں پر فخر کر رہا ہے جو آج جمع ہوئے اور عبادات کیں۔انہوں نے کہا عازمین حج یہاں عرفات میں قیام کریں گے پھر اگلے دن مزدلفہ جائیں گے جس کے بعد عازمین حج منی میں تشریف لے کر جائیں گے۔ اور منیٰ میں کثرت سے اللہ کا ذکر کرنا ہے۔ آپ یہاں منی میں رہتے ہوئے 11، 12 کی راتیں گزاریں گے اور اپنے گھروں کو لوٹنے سے پہلے طواف کریں گے۔

خطبہ میں کہا گیا کہ نبی اکرم ﷺ اللہ کے آخری رسول ہیں، نبی اکرم ﷺ خاتم النبین ہیں، مسلمانوں کو ہر مصیبت میں صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئے، صبر کرنے والوں کیلئے اللہ تعالیٰ نے اجر عظیم کا وعدہ کیا ہے، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہوئے ان سے فائدہ اٹھائیں، جن قوموں نے ظلم کیا اور ناشکری کی ان سے نعمتیں چھین لی گئیں۔

 انہوں نے کہا کہ اللہ اور بندے کا تعلق نجات کا ذریعہ ہے، اے ایمان والو، اپنے رب کے ساتھ جڑے رہو، حج کے دوران کسی قسم کے لڑائی جھگڑے سے اجتناب کرنا چاہئے، کسی بھی ایسے عمل سے گریز کریں جس سے وحدت کو نقصان پہنچے۔ڈاکٹر شیخ علی الحذیفی نے کہا کہ ہمیشہ سچ بولیں اور غلط بیانی سے گریز کریں، بدعت اور غیبت سے دور رہو، حجاج عرفات سے فارغ ہونے کے بعد منیٰ تشریف لے جائیں گے، حجاج کرام مناسک بہترین انداز میں ادا کریں۔

انہوں نے کہا کہ حجاج کرام ہر لمحہ مغفرت کی دعا کرتے رہیں، اللہ تعالیٰ کے ذکر اور عبادات میں مصروف رہیں، نماز قائم کریں، اللہ تعالیٰ ہی دعائیں قبول کرنے والا ہے۔خطیب مسجد نبویؐ نے دعا کی کہ اے اللہ ہمارے گناہ معاف فرما، یااللہ مسلمانوں کے حالات کو بہتر کر دے، اللہ تعالیٰ ہمارے اعمال قبول فرمائے، اے اللہ مسلمانوں کو ہدایت عطا فرما۔

انہوں نے آخر میں دعا کی کہ یا اللہ تمام عازمین کو بہ حفاظت اور سلامتی کے ساتھ واپس اپنے گھروں کو لوٹا اور ان کے دلوں میں حق کو جمع کر دے اور ان کے حج کے تمام مناسک کو قبول فرما۔خطبے کے بعد حجاج نے سنتِ نبوی کے مطابق ظہر اور عصر کی نمازیں جمع اور قصر کر کے ادا کیں۔اس سے قبل دنیا بھر سے سعودی عرب آئے ہوئے لاکھوں عازمین حج منیٰ میں رات قیام کے بعد منگل کو میدان عرفات میں حج کے سب سے مقدس اور مرکزی رکن وقوفِ عرفہ لیے جمع ہوئے تھے۔میدانِ عرفات کی حدوود میں طلوعِ آفتاب سے اب تک اندازً 16 لاکھ عبادت گزاروں کا ہجوم موجود ہے۔ عازمین کی زبانوں پر لبیک کے ساتھ ساتھ تسبیح و تمجید ہے، ہاتھ دعاؤں کے لیے بلند ہیں اور یومِ عرفہ پر حج کے اِس اہم ترین رُکن کی ادائیگی کے دوران بے شمار آنکھیں بھیگی ہوئی ہیں۔

غروب آفتاب کے بعد حجاج مزدلفہ روانہ ہوں گے، جہاں وہ مغرب اور عشا کی نمازیں ایک ساتھ ادا کریں گے جبکہ اگلے مرحلے میں منیٰ میں رمی جمرات ادا کی جائے گی۔

Related posts

’ای ٹریک‘ حج سیزن میں حجاج کے لیے 250 سے زائد ڈیجیٹل خدمات کی فراہمی

Awam Express News

حجاج کے لیے نئی سہولتیں، حج انتظامات میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال

Awam Express News

جبلِ رحمت، میدانِ عرفات میں لاکھوں حجاج کو ایک کرنے والا عظیم منظر

Awam Express News