کویت کے خلاف ایرانی حملوں کی تکرار کے بعد کویتی وزارت خارجہ نے کویت میں متعین ایرانی سفارت خانے کے قائم مقام ناظم الامور کونسلر حامد حمید یعقوبی فر کو طلب کیا۔ کویتی وزارت خارجہ نے انہیں ایک سرکاری احتجاجی مراسلہ سونپا ہے جس میں مسلسل ایرانی جارحیت کے خلاف احتجاج کیا گیا ہے اور ملک میں ایرانی سفارت خانے کے عملے کے ارکان کی تعداد کم کرنے کا فیصلہ سناتے ہوئے ایرانی سفارتی مشن کے دو ارکان کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دیا گیا ہے۔ کویت نے ان دونوں ارکان کو زیادہ سے زیادہ 24 گھنٹوں کے اندر کویتی سرزمیں چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔کویت نے وضاحت کی ہے کہ یہ فیصلہ بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے مسلسل اور وحشیانہ ایرانی حملوں کے تسلسل کے بعد کیا گیا ہے، جو آج دوبارہ دہرائے گئے ۔ان میں کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ سمیت سویلین مقامات اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور درجنوں سویلین زخمی ہوئے، جبکہ اہم تنصیبات اور سفارتی دفاتر کو بھی مادی نقصان پہنچا۔ یہ کارروائی ریاست کویت کی خودمختاری، اس کی علاقائی سالمیت، اقوام متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قانون کے اصولوں اور سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2817 کی صریح خلاف ورزی ہے۔
کویت نے ان مجرمانہ ایرانی حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ ریاست کویت کسی بھی ملک کے خلاف معاندانہ کارروائیوں کے لیے اپنی سرزمیں یا فضائی حدود کے استعمال کو قطعاً مسترد کرتی ہے۔ کویتی وزارت خارجہ نے زور دے کر کہا کہ ایران کے جھوٹے الزامات حقیقت سے عاری ہیں اور ان کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ان بے بنیاد دعووں کی تکرار کسی بھی صورت میں کویت کی سرزمیں اور اس کی سویلین و اہم تنصیبات پر کیے جانے والے حملوں کا جواز نہیں بن سکتی۔

