موتی پور(مظفر پور۔ پریس ریلیز)18جولائ۔ زندگی اور موت لازم و ملزوم ہے ۔ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔موت در اصل الہی تحفہ ہے۔جو اللہ کا فرشتہ لے کر کے آتا ہے۔اس طرح بندہ اس اللہ کے پاس چلا جاتا ہے جو ستر ماؤں سے زیادہ مہربان ہے۔ ،یہ ستر ماؤں والی بات بھی ہمیں سمجھانے کے لیے ہے۔ورنہ اللہ کی رحمت سے کسی کا موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔اس کا مطلب ہے کہ آدمی ختم نہیں ہوا۔ایک رحمت والوں کے پاس منتقل ہوگیا ۔ان خیالات کا اظہار امارت شرعیہ بہار اڑیسہ و جھارکھنڈ کے نائب ناظم معروف عالم دین مولانا ڈاکٹر مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی مدیر ہفت روزہ نقیب نے کیا۔رام پور ارگون موتی پور مظفر پور میں جناب اظہار صاحب شعبہ اصلاحات اراضی امارت شرعیہ کے والد جناب نظام الدین صاحب کے انتقال پر تعزیتی مجلس سے خطاب فرمارہے تھے۔انہوں نے فرمایا کہ مر حوم خود بھی نیک تھے۔انہوں نے اپنے پیچھے نیک اولاد چھوڑی وہ سب صدقہ جاریہ ہیں ۔انکی دعائیں آخرت میں بہت کام آیٔںگی۔اس موقع سے مرحوم کے صاحبزادے مرکزی اہل حدیث کے رکن۔اور قومی آواز آن لائن کے کارکن صحافی بھی موجود تھے۔مفتی صاحب کی دعاء مغفرت اور پس ماندگان کے لیے صبر جمیل کی دعاء پر مجلس اختتام پذیر ہوئی.

