محمد بن سلمان کی ٹرمپ سے گفتگو، خطے میں تناؤ کم کرنے کے لیے ڈائیلاگ پر زورسعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی ”واس” کے مطابق سعودی ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز نے اتوار کی صبح امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔ایجنسی کے مطابق گفتگو کے دوران خطے کی صورتحال اور اس کے علاقائی و عالمی سطح پر مختلف پہلوؤں پر اثرات کا جائزہ لیا گیا۔سعودی ولی عہد نے اس بات پر زور دیا کہ کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات کی زبان کو ترجیح دی جانی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ امن و استحکام کے حصول کے لیے تمام ممکنہ کوششیں کرنا ضروری ہیں، تاکہ ایسے سفارتی حل کی راہ ہموار ہو سکے جو مثبت نتائج دے، خطے کے امن و سلامتی کا تحفظ کرے اور ایسے وسیع تر تصادم سے بچا جا سکے جس کے اثرات علاقائی اور عالمی سلامتی پر پڑ سکتے ہیں۔دونوں رہنماؤں کے درمیان سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان جاری تعاون کے شعبوں اور انہیں مزید مضبوط بنانے کے طریقوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کی صبح اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ٹروتھ سوشل” پر ایک بیان میں کہا کہ امریکہ ایران کا مقابلہ کرنے کے لیے ایسی فوجی طاقت استعمال کرنے کے لیے تیار ہے جو دوسری جنگ عظیم کے بعد نہیں دیکھی گئی۔تاہم ٹرمپ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کے اتحادیوں نے ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے ایک معاہدے کے بنیادی خدوخال طے کر لیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ فی الحال گزشتہ پانچ ماہ سے جاری تنازع میں مزید حملوں کے احکامات جاری کرنے سے گریز کریں گے۔ٹرمپ کے مطابق ممکنہ معاہدے میں آبنائے ہرمز کو فوری، مکمل اور وسیع پیمانے پر کھولنا اور ایران کے جوہری خطرے کا خاتمہ شامل ہوگا۔انہوں نے کہا:دنیا کے مستقبل اور ایران کے کامیاب اور خوشحال رہنے کے لیے، میں نے حملہ منسوخ کرنے پر اتفاق کیا ہے، بشرطیکہ جلد از جلد معاہدہ طے پا جائے۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ اسرائیل نے بھی امریکہ کے ساتھ مل کر ایران کے ساتھ ایسے معاہدے کو مکمل کرنے کی کوشش میں شامل ہونے پر اتفاق کیا ہے، جو جنگ کے خاتمے کا باعث بنے گا۔

