International

مکہ دفاعی معاہدے سے بھارت کو گھبرانے کی ضرورت نہیں خلیج میں نئی دہلی کی اصل طاقت کہیں زیادہ گہری

نئی دہلی۔22؍اگست۔ ایم این این۔ سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان سامنے آنے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو ایک نئی علاقائی سکیورٹی صف بندی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم ایک تجزیے کے مطابق بھارت کے لیے اس پیش رفت پر ضرورت سے زیادہ ردعمل ظاہر کرنے یا اپنی خارجہ پالیسی کی بنیادی سمت تبدیل کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ معاہدے میں ایک رکن پر مسلح حملے کو تمام اراکین پر حملہ تصور کرنے کی بات کی گئی ہے، لیکن تینوں ممالک کے مختلف اسٹریٹجک مفادات اور واضح مشترکہ فوجی ڈھانچے کی عدم موجودگی اس کی عملی اہمیت پر سوال اٹھاتی ہے۔ تجزیے کے مطابق پاکستان اس معاہدے کے ذریعے مسلم دنیا میں اپنی سفارتی اہمیت دوبارہ بڑھانے، معاشی مدد حاصل کرنے اور اپنی فوج کے علاقائی کردار کو نمایاں کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ تاہم پاکستان کی کمزور معاشی صورتحال اور داخلی سلامتی کے چیلنجز اس کے لیے کسی بڑے علاقائی فوجی کردار کو طویل عرصے تک نبھانا مشکل بنا سکتے ہیں۔ معاہدے میں متحدہ عرب امارات کی عدم شمولیت کو بھی اہم قرار دیا گیا ہے۔ یو اے ای خلیج کی ایک بڑی تجارتی، اقتصادی اور اسٹریٹجک طاقت بن چکا ہے، جبکہ فجیرہ سمیت اس کا بندرگاہی اور لاجسٹکس نیٹ ورک علاقائی تجارت اور توانائی کی سلامتی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ایسے میں یو اے ای کے بغیر کسی بھی انتظام کو جامع خلیجی سکیورٹی نظام قرار دینا مشکل ہوگا۔ تجزیے میں کہا گیا ہے کہ بھارت کو یہ تصور نہیں کرنا چاہیے کہ مذہبی وابستگی کی بنیاد پر خلیجی ممالک لازماً پاکستان کے زیادہ قریب ہوں گے۔ بھارت کے سعودی عرب، یو اے ای، قطر، بحرین، کویت اور عمان کے ساتھ تعلقات صدیوں پرانے تجارتی اور سماجی روابط پر قائم ہیں، جبکہ لاکھوں بھارتی شہری خلیجی معیشتوں کا اہم حصہ ہیں۔ بھارتی برادری کی جانب سے سالانہ تقریباً 60 ارب ڈالر کی ترسیلات زر بھی اس گہرے اقتصادی تعلق کی عکاسی کرتی ہیں۔ تجزیے کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ خلیج میں بھارت کی طاقت کسی نئے فوجی معاہدے پر منحصر نہیں بلکہ اس کی معیشت، ساکھ، انسانی سرمایہ، تاریخی روابط، اسٹریٹجک خودمختاری اور کئی دہائیوں میں قائم ہونے والے اعتماد میں پوشیدہ ہے۔ بھارت کو مکہ معاہدے کے اثرات پر نظر ضرور رکھنی چاہیے، لیکن پاکستان کی ہر نئی سفارتی پیش رفت کو اپنی خارجہ پالیسی کا محور بنانے سے گریز کرنا چاہیے۔

Related posts

خارجہ سکریٹری وکرم مصری تعلقات کا جائزہ لینے کے لیے 7 مارچ کو روس کا دورہ کر ینگے

Awam Express News

عراقی وزیر اعظم کی زیر صدارت سپریم نیشنل واٹر کمیٹی پانی کے ذخائر کو منظم کرنے کے لیے متعدد فیصلے کرتی ہے

Awam Express News

انڈو نیپال ویڈنگ سمٹ 2023 کا کھٹمنڈو میں آغاز ہوا

Awam Express News