تہران: ایرانی فوجی سربراہ امیر حاتمی نے امریکی فوجی کو مارنے یا پکڑنے والے کو 30 ہزار ڈالر انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔ تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری کشیدگی کے درمیان، اگر کوئی خاتون ایسی اس کام کو انجام دیتی ہے تو انعام کی رقم دگنی ہو جائے گی۔سرکاری خبر رساں ایجنسی ایرنا کے مطابق، فوجی سربراہ نے کہا کہ یہ فیصلہ جنگ میں حصہ لینے کے خواہشمند لوگوں کی "متعدد درخواستوں” کے بعد کیا گیا ہے۔ تاہم، انہوں نے ایسے کسی ممکنہ حملے یا گرفتاری کے مقام یا وقت کے حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کیں۔حاتمی نے کہا، "جو کوئی حملہ آور امریکی فوجی کو مارے گا یا پکڑے گا اور فوج کے حوالے کرے گا اسے اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کی طرف سے تیس ہزار ڈالر یعنی پانچ بلین تومان کے برابر انعام ملے گا۔” تومان ایک غیر سرکاری کرنسی یونٹ ہے جو دس ہزار ایرانی ریال کے برابر ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ "ایسا کارنامہ انجام دینے والی بہادر ایرانی خواتین کو دگنا انعام ملے گا۔”خطے سے امریکی افواج کے انخلاء کے لیے تہران کے دیرینہ مطالبے کو دہراتے ہوئے حاتمی نے کہا کہ "انہیں اب خلیج فارس، خلیج عمان، یا آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔”
یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تنازع کے دوران ایران کے اندر امریکی زمینی فوج کی کوئی تعیناتی نہیں کی گئی ہے۔ صرف اپریل 2026 میں ایک بڑے ریسکیو آپریشن کے دوران تقریباً دو سو امریکی فوجی اور ایک سو ستر سے زیادہ طیارے شامل ایرانی سرزمین پر اتارے گئے تھے۔ اس آپریشن کا مقصد تباہ ہونے والے F-15 طیارے کے افسر کو بازیافت کرنا تھا۔اٹھائیس فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ اپریل میں جنگ بندی کے بعد حملے روک دیے گیے، اور جون میں امن مذاکرات کے لیے ایک فریم ورک قائم کرنے کی کوشش کی گئی، جو بالآخر ناکام ہو گئی۔ اس ناکامی کے بعد سے، ایران اور امریکہ کے درمیان خاص طور پر جنوبی ایران اور آبنائے ہرمز کے ارد گرد فائرنگ کے تبادلے ہوتے رہے ہیں۔ ثالثوں کے ذریعے بالواسطہ بات چیت جاری ہے، حالانکہ کوئی بڑی سفارتی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔تنازع شروع ہونے کے بعد سے اب تک سترہ امریکی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں، جن میں حالیہ ہلاکتیں جولائی میں ہوئیں ہیں۔ یہ تمام افراد اردن اور عراق سمیت ایرانی حدود سے باہر مارے گئے ہیں۔

