ساؤتھ کیمپس کے ستیہ نکیتن علاقے میں اتوار کی دوپہر ایک بڑا حادثہ پیش آیا، جب 5 منزلہ بوائز پی جی ہاسٹل ڈیز کی عمارت اچانک تاش کے پتوں کی طرح منہدم ہو گئی۔ حادثے کی ہولناکی کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ عمارت گرتے ہی آس پاس افراتفری مچ گئی اور پورا علاقہ گرد و غبار کے بادل میں چھا گیا۔ حادثے کے دوران عمارت کے زور دار جھٹکے سے اس سے متصل پڑوسی عمارت بھی ایک طرف جھک گئی، جس کے بعد حفاظتی نقطۂ نظر سے آس پاس کے پورے علاقے اور عمارتوں کو فوری طور پر خالی کرا لیا گیا۔ وزیراعلی ریکھا گپتا بھی واقعے کا جائزہ لینے کے لیے موقع پر پہنچیں ۔عمارت کے بیسمنٹ میں جاری مرمت اور تعمیراتی کام کو اس پورے حادثے کی بنیادی وجہ سمجھا جا رہا ہے۔ حادثے کی خبر ملتے ہی مقامی انتظامیہ، پولیس، دہلی فائر سروس اور این ڈی آر ایف (NDRF) کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچیں۔ واقعے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے مقامی میئر ریکھا گپتا نے بھی جائے وقوعہ کا دورہ کیا، راحت اور بچاؤ کے کاموں کا جائزہ لیا اور حکام کو ریسکیو آپریشن تیز کرنے اور تحقیقات کے احکامات دیے۔ریسکیو آپریشن کے دوران ملبے کے نیچے دبے طلبہ کی سانسیں محفوظ رکھنے کے لیے ایک غیر معمولی قدم اٹھایا گیا۔ اندر پھنسے لڑکوں تک آکسیجن کی کمی نہ ہو، اس کے لیے فوری طور پر کوئیک ڈیلیوری ایپ بلنکٹ (Blinkit) کے ذریعے آکسیجن سلنڈر منگوائے گئے اور ملبے کے درمیان سے آکسیجن کی سپلائی کرنے کی کوشش کی گئی۔

