تجارت اور عالمی اداروں میں اصلاحات ایجنڈے پر
نئی دہلی۔10؍ ستمبر۔ ایم این این۔ بھارت 12 اور 13 ستمبر کو 18ویں برکس سربراہی اجلاس کی میزبانی کرنے جا رہا ہے، جہاں ایشیا، افریقہ، مشرق وسطیٰ اور لاطینی امریکا کے اہم رہنما عالمی سیاست، تجارت، ترقیاتی مالیات اور بین الاقوامی اداروں میں اصلاحات پر تبادلہ خیال کریں گے۔ اجلاس کی میزبانی وزیر اعظم نریندر مودی کریں گے۔ اجلاس میں روسی صدر ولادیمیر پوتن، چینی صدر شی جن پنگ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان سمیت متعدد اہم رہنماؤں کی شرکت متوقع ہے۔ جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا، مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی، انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو، بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو اور قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایف کی شرکت بھی متوقع ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس بھی اجلاس میں شریک ہوسکتے ہیں۔ برکس کی توسیع کے بعد اس میں بھارت، برازیل، چین، روس اور جنوبی افریقہ کے علاوہ مصر، ایتھوپیا، انڈونیشیا، ایران، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔ اس کے ساتھ بیلاروس، بولیویا، قازقستان، کیوبا، ملائیشیا، نائجیریا، تھائی لینڈ، یوگنڈا، ازبکستان اور ویتنام شراکت دار ممالک کے طور پر فریم ورک کا حصہ ہیں۔ اجلاس میں تجارت اور ترقیاتی مالیات کے ساتھ اقوام متحدہ، آئی ایم ایف اور عالمی بینک جیسے اداروں میں اصلاحات اہم موضوعات ہوں گے۔ ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع اور اس کے عالمی معیشت اور توانائی کی صورتحال پر اثرات بھی بات چیت کا نمایاں حصہ بن سکتے ہیں۔ بھارت اور چین کے تعلقات پر بھی خصوصی توجہ رہے گی۔ اگر شی جن پنگ نئی دہلی پہنچتے ہیں تو یہ 2019 کے بعد ان کا پہلا دورۂ بھارت ہوگا۔ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات برقرار رہنے کے باوجود برکس ایسا پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے جہاں دنیا کی دو بڑی معیشتیں تعاون اور مذاکرات جاری رکھ سکتی ہیں۔ برکس میں مقامی کرنسیوں کے ذریعے تجارت بڑھانے اور امریکی ڈالر پر انحصار کم کرنے پر بھی گفتگو جاری ہے۔ تاہم رکن ممالک نے اب تک مشترکہ برکس کرنسی قائم کرنے کا فیصلہ نہیں کیا۔ نیو ڈیولپمنٹ بینک بھی مقامی کرنسیوں میں مالی معاونت کو اپنی ترجیحات میں شامل کر چکا ہے۔ 2006 میں چار ممالک سے شروع ہونے والا برکس اب ایک بڑے عالمی پلیٹ فارم میں تبدیل ہوچکا ہے۔ موجودہ اعداد و شمار کے مطابق اس کے رکن ممالک دنیا کی تقریباً 49.5 فیصد آبادی، 40 فیصد عالمی جی ڈی پی اور 26 فیصد عالمی تجارت کی نمائندگی کرتے ہیں۔ نئی دہلی اجلاس بھارت کے لیے اس وسیع ہوتے ہوئے گروپ کی سمت متعین کرنے اور گلوبل ساؤتھ کے مسائل کو عالمی ایجنڈے پر مزید نمایاں کرنے کا اہم موقع ہوگا۔

