National New Delhi

برکس کے 20 سال—- عالمی طاقت کا توازن بدلنے میں اہم کردار

نئی دہلی۔10؍ ستمبر۔ ایم این این۔ برکس نے اپنے قیام کے بیس سال مکمل کرتے ہوئے عالمی سیاست اور معیشت میں ایک ایسے بااثر پلیٹ فارم کی شکل اختیار کرلی ہے جو ابھرتی ہوئی طاقتوں کو اپنی اسٹریٹجک خودمختاری برقرار رکھتے ہوئے باہمی تعاون کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اس کا بڑھتا ہوا اثر عالمی طاقت کے بتدریج مغرب سے باہر منتقل ہونے اور ایک زیادہ کثیر قطبی عالمی نظام کے ابھرنے کی علامت بھی سمجھا جارہا ہے۔برکس کا سفر ستمبر 2006 میں برازیل، روس، بھارت اور چین کے وزرائے خارجہ کی پہلی ملاقات سے شروع ہوا تھا۔ 2009 میں پہلا سربراہی اجلاس منعقد ہوا اور 2011 میں جنوبی افریقہ کی شمولیت کے بعد یہ گروپ برکس بن گیا۔ بعد کے برسوں میں مزید ممالک مکمل رکن یا شراکت دار کی حیثیت سے اس سے وابستہ ہوئے۔برکس نہ تو یورپی یونین کی طرح مشترکہ منڈی بن سکا، نہ اس نے مشترکہ کرنسی قائم کی اور نہ ہی یہ نیٹو جیسا سیاسی یا فوجی اتحاد ہے۔ اس کے باوجود اس کی کامیابی اس بات میں دیکھی جارہی ہے کہ مختلف سیاسی نظام، مفادات اور خارجہ پالیسی رکھنے والے ممالک ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر تعاون کررہے ہیں۔اس پورے عمل میں بھارت کا کردار خاص اہمیت رکھتا ہے۔ نئی دہلی نے برکس کو مغرب مخالف اتحاد بنانے کے بجائے عالمی جنوب کی نمائندگی، ترقیاتی تعاون اور عالمی اداروں میں اصلاحات کے پلیٹ فارم کے طور پر آگے بڑھانے پر زور دیا ہے۔ بھارت کی پالیسی یہ رہی ہے کہ برکس میں شرکت اس کے امریکہ، یورپ، جاپان یا دوسرے شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کی قیمت پر نہ ہو۔یہی اسٹریٹجک خودمختاری برکس کی بنیادی طاقتوں میں شمار ہوتی ہے۔ رکن ممالک کئی اہم عالمی معاملات پر ایک دوسرے سے اختلاف رکھتے ہیں، لیکن وہ کسی ایک طاقت یا اتحاد کے تابع ہوئے بغیر مشترکہ مفادات پر تعاون کرسکتے ہیں۔گزشتہ دو دہائیوں میں عالمی معیشت میں برکس ممالک کا وزن نمایاں طور پر بڑھا ہے۔ اس کی توسیع نے گروپ کو توانائی، تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور عالمی حکمرانی کے مباحث میں مزید اہم بنادیا ہے۔برکس کی اہمیت اس کی اندرونی یکسانیت میں نہیں بلکہ اس حقیقت میں ہے کہ مختلف مفادات رکھنے والی بڑی ابھرتی ہوئی طاقتیں اختلافات کے باوجود ایک ساتھ کام کرنے کا طریقہ تلاش کررہی ہیں۔نئی دہلی میں ہونے والا سربراہی اجلاس اس بیس سالہ سفر کا ایک اہم مرحلہ ہے۔ بھارت کے لیے چیلنج اور موقع دونوں یہ ہیں کہ وہ برکس کو کسی نئے عالمی بلاک میں تبدیل کرنے کے بجائے ایک زیادہ متوازن، کثیر قطبی اور نمائندہ عالمی نظام کے لیے عملی پلیٹ فارم کے طور پر آگے بڑھائے۔

Related posts

نوجوان ہندوستان کے ٹیک انقلاب کی قیادت کیلئےآگےآئیں۔ راجناتھ سنگھ

Awam Express News

ٹیچر کے ذریعہ ایک نابالغ طالبہ کے جنسی استحصال کا معاملہ، جیتو نے کہا، حکومت بچوں کی حفاظت کو یقینی بنانے میں ناکام کیوں؟

Awam Express News

 وزیراعظم مودی نے  کابینہ کے ’’ون نیشن ون سبسکرپشن ‘‘کو منظور کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا

Awam Express News