نئی دہلی۔ 12؍ ستمبر ۔ ایم این این۔ 11 ستمبر 2001 کے دہشت گرد حملوں کے پچیس سال بعد عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف جنگ کی نوعیت بدل چکی ہے، اور بھارت نے بھی اپنے سکیورٹی نظریے میں نمایاں تبدیلی کی ہے۔ ایک تازہ تجزیے کے مطابق نئی دہلی اب دہشت گردی کو محض داخلی سلامتی کا مسئلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی، خارجہ پالیسی اور علاقائی استحکام سے جڑا ہوا چیلنج سمجھتی ہے۔
پہلگام دہشت گرد حملے نے اس تبدیل ہوتی حکمت عملی کو مزید نمایاں کیا۔ بھارت کا موقف ہے کہ سرحد پار دہشت گردی اور اس کی حمایت کرنے والے ڈھانچوں کے خلاف صرف دفاعی اقدامات کافی نہیں اور دہشت گرد حملوں کے ذمہ دار نیٹ ورکس اور ان کے سرپرستوں کو جوابدہ بنانا ضروری ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران بھارت نے دہشت گردی کے خلاف اپنی صلاحیتوں کو مسلسل مضبوط کیا ہے۔ انٹیلی جنس تعاون، سرحدی نگرانی، جدید ٹیکنالوجی، مالیاتی نیٹ ورکس کی نگرانی اور بین الاقوامی سفارتی تعاون اب اس حکمت عملی کے اہم ستون بن چکے ہیں۔اس تبدیلی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بھارت دہشت گردوں اور انہیں محفوظ پناہ گاہیں، مالی وسائل یا دوسری مدد فراہم کرنے والے عناصر کے درمیان فرق نہ کرنے پر زور دیتا آیا ہے۔ نئی دہلی عالمی فورمز پر مسلسل یہ موقف پیش کرتی رہی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی میں سیاسی مفادات یا دوہرے معیار کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔پہلگام کے بعد بھارت کا ردعمل اس وسیع تر سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ بڑے دہشت گرد حملے کا جواب صرف تحقیقات اور داخلی حفاظتی اقدامات تک محدود نہیں رہے گا۔ قومی سلامتی کی حکمت عملی میں سفارتی دباؤ، اقتصادی اقدامات، انٹیلی جنس صلاحیت اور ضرورت پڑنے پر فوجی طاقت سمیت مختلف ذرائع کو ایک ساتھ استعمال کرنے کی گنجائش بڑھ گئی ہے۔تجزیے کے مطابق 9/11 کے بعد قائم ہونے والا عالمی انسداد دہشت گردی نظام بھی اب نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ القاعدہ جیسے بڑے مرکزی نیٹ ورکس کے ساتھ ساتھ چھوٹے گروہوں، مقامی نیٹ ورکس اور انفرادی حملہ آوروں کا خطرہ بڑھا ہے، جس کے باعث ممالک کو اپنی حکمت عملی مسلسل تبدیل کرنا پڑ رہی ہے۔ بھارت کے لیے اس ارتقا کا بنیادی پیغام واضح ہے: دہشت گردی کے خلاف جنگ اب صرف حملے کو روکنے تک محدود نہیں بلکہ دہشت گرد نیٹ ورکس، ان کی مالی معاونت، سرحد پار انفراسٹرکچر اور انہیں حاصل ریاستی یا غیر ریاستی حمایت کو نشانہ بنانے کی جامع حکمت عملی بن چکی ہے۔ پہلگام کے بعد نئی دہلی کا رویہ اسی زیادہ فعال اور سخت سکیورٹی نظریے کی عکاسی کرتا ہے۔

