ہندوستان کے عظیم تہذیبی ورثہ پر حملہ
ـــــــ محمد عارف اقبال
ایڈیٹر، اردو بک ریویو، نئی دہلی۔ موبائل نمبر: 9953630788
سپریم کورٹ آف انڈیا کے سابق جج جسٹس مارکنڈے کاٹجو (پ:20 ستمبر 1946) کی محبت اردو زبان و ادب سے غیرمشروط ہے۔ ان کا شمار برادرانِ وطن کے ان محبانِ اردو میں ہوتا ہے جنہوں نے اردو کو ٹوٹ کے چاہا ہے۔ وہ اردو زبان کی تہذیبی اور روایتی سرزمین لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ ان کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ عدالت عظمیٰ کی کرسی پر فیصلہ سناتے وقت بھی اردو کے کسی شاعر کا برمحل شعر پڑھا کرتے تھے۔ گزشتہ دنوں تلنگانہ کے ایک اسکول کے پرنسپل پر چند انتہا پسند دائیں بازو کے عناصر نے صرف اس وجہ سے جان لیوا حملہ کیا کہ انہوں نے اپنے اسکول میں اردو کی تعلیم کا اہتمام کیا تھا تو جسٹس کاٹجو اس واقعہ سے بے حد رنجیدہ ہوئے۔ روزنامہ انقلاب میں 3 جولائی 2026 کو اس واقعہ پر ان کا ردعمل کچھ یوں تھا:
’’اس نوعیت کے واقعات بھارت کے لیے باعثِ شرم ہیں۔ یہ عناصر جو درحقیقت غنڈہ گرد اور اوباش ذہنیت کے حامل ہیں، سزا کے مستحق ہونے کی بجائے بعض حلقوں میں ہندو تہذیب و ثقافت کے محافظ قرار دیے جاتے ہیں، جو نہایت افسوس ناک امر ہے۔ اردو، سنسکرت کی طرح، ہندوستان کی ایک عظیم اور وقیع زبان ہے۔ لیکن جس طرح سنسکرت کے ساتھ ناانصافی کی گئی، اسی طرح اردو بھی طویل عرصے سے ناانصافی کا شکار ہے۔ کچھ جاہل اور متعصب افراد نے بلاجواز اردو کو ایک غیر ملکی زبان قرار دیا اور اسے محض مسلمانوں کی زبان بناکر پیش کیا، حالانکہ یہ تاریخی حقیقت کے سراسر منافی ہے۔ میں نے اپنے مضمون اور ویڈیو ’اردو کیا ہے؟‘ میں اردو کی تاریخ، اس کے ارتقا، خصوصیات اور اس کی تہذیبی اہمیت پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے، اس لیے یہاں ان مباحث کو دوہرانا ضروری نہیں سمجھتا۔ الٰہ آباد ہائی کورٹ میں بطور جج اپنے ایک فیصلے (رمیش اپادھیائے بنام ریاست اترپردیش، 1993) میں، میں نے یہ رائے ظاہر کی تھی کہ ہندوستان کی دو عظیم ہمہ گیر تہذیبی زبانیں، یعنی سنسکرت اور اردو، ملک کے تمام اسکولوں میں کم از کم پانچ برس تک (مثلاً آٹھویں جماعت تک) لازماً پڑھائی جانی چاہئیں۔ اس فیصلے کے پیراگراف 14 میں، میں نے لکھا تھا کہ میری رائے میں سنسکرت کے ساتھ ساتھ اردو بھی ہمارے اسکولوں میں کم از کم پانچ سال تک پڑھائی جانی چاہیے (مثلاً آٹھویں جماعت تک)۔ اردو بھی ہمارے ملک کی ایک عظیم زبان ہے مگر اسے غلط طور پر صرف مسلمانوں کی زبان قرار دے دیا گیا۔ برطانوی حکومت ہندوستانی عوام میں تفرقہ پیدا کرنا چاہتی تھی، اس نے یہ گمراہ کن پروپیگنڈہ کیا کہ ہندی ہندوئوں کی زبان ہے اور اردو مسلمانوں کی۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اردو شمالی ہندوستان (بلکہ جنوبی ہندوستان کے بھی بعض حصوں) کے تمام تعلیم یافتہ افراد کی مشترکہ زبان تھی، خواہ وہ ہندو ہوں، مسلمان ہوں یا سکھ۔
میر، غالب، فیض، فراق اور جوش جیسے عظیم اردو شعرا مکمل طور پر سیکولر فکر کے حامل تھے اور ان کا کلام ادب کے اعلیٰ ترین نمونوں میں شمار ہوتا ہے۔ آج ہماری نوجوان نسل اپنی تہذیبی جڑوں سے بڑی حد تک کٹ چکی ہے۔ اس میں مایوسی، بدظنی اور ثقافتی بے سمتی بڑھتی جارہی ہے، اور بیشتر نوجوان ہندوستان کی ان دو عظیم تہذیبی زبانوں، سنسکرت اور اردو سے تقریباً ناواقف ہیں۔ اگر انہیں اسکول کے زمانے میں کم از کم پانچ برس تک یہ زبانیں پڑھائی جائیں تو وہ ان کی بنیادی واقفیت حاصل کرسکیں گے، جسے بعد میں اپنی ذاتی محنت سے مزید وسعت دے سکتے ہیں۔ اس طرح وہ اپنی تہذیب، تاریخ اور ثقافتی ورثے سے بہتر طور پر آشنا ہوں گے۔ اس اقدام سے ان بنیاد پرست عناصر کی کوششیں بھی کمزور ہوں گی جو خواہ ہندو ہوں یا مسلمان، مذہب کی بنیاد پر ملک کو تقسیم کرنے کی سیاست کرتے ہیں۔‘‘
جسٹس مارکنڈے کاٹجو کے خیالات اور جذبات کا ہم احترام کرتے ہیں۔ ان کا دل صاف ہے اور ان کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ کسی بھی مسئلہ میں اپنی آراء کا اظہار ہمیشہ لاگ لپیٹ کے بغیر کرتے ہیں۔ کاش! فاضل جج صاحب کی باتوں کا انتہا پسندوں کے دل و دماغ پر مثبت اثرات مرتب ہوں۔ لیکن ملک میں ظلم و تشدد کا جو لامتناہی سلسلہ جاری ہے، اندازہ ہوتا ہے کہ انتہا پسند عناصر تعمیر سے زیادہ تخریب میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ظلم و تشدد کے نشانے پر عام طور پر اقلیتیں (Minorities) ہوتی ہیں۔ ان میں مسلمان اور دلت خاص طور سے شکار کیے جارہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ملک میں قانون کا نفاذ اور اس کی پاسداری صفر کے مقام پر پہنچ گئی ہے۔ عوام کے حق میں عدالتو ںکے فیصلے نمائشی بن کر رہ گئے ہیں۔ گزشتہ پندرہ برسوں میں ’بلڈوزر کلچر‘ نے عوام بالخصوص مسلمانوں اور دلتوں کو، خوف و دہشت میں مبتلا کردیا ہے۔ ان مسائل کے ساتھ ملک میں ایسے بے شمار مسائل نے جنم لیا ہے جن کا تعلق عوام کے ساتھ ملک کی معاشی تعمیری ترقی سے ہے۔ ملک میں ڈر اور خوف کا ایسا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ تعلیم یافتہ افراد، دانشور طبقہ اور اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد تمام تر بے اعتدالیوں کا مشاہدہ کرنے کے بعد بھی خاموش رہنے میں ’عافیت‘ محسوس کرتے ہیں۔ ظلم کے خلاف نہ کوئی آواز اٹھاسکتا ہے اور نہ ہی کوئی ظالم کا ہاتھ پکڑنے والا ہے۔ ایسا مخدوش ماحول آزاد ہندوستان کی تاریخ میں شاید کبھی نہیں رہا۔ نفرت کی سیاست بھی ہوتی رہی ہے اور فرقہ وارانہ فسادات بھی ہوئے لیکن (ایمرجنسی کی مدت کو چھوڑ کر) ایسی ناگفتہ بہ صورت حال کبھی دیکھنے کو نہیں ملی۔ 2014 سے ملک میں ’ہندتو کے ایجنڈے‘ کے نفاذ نے قانون کی بالادستی کو بےحد متاثر کیا ہے۔ منصف سے عوام کی آخری امید بھی دَم توڑتی نظر آرہی ہے۔ ملک کی شاید اسی صورت حال کا ادراک کرتے ہوئے سابق بیوروکریٹ، دانشور اور ماہر تعلیم سیّد حامد (مرحوم) نے ایک عرصہ قبل ادبی پیرائے میں کہا تھا:
ایک دو زخم نہیں جسم ہے سارا چھلنی
درد بےچارہ پریشاں ہے کہاں سے اٹھے
عدالت عظمیٰ کے سابق جج جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے بجاطور سے کہا کہ ’’اردو پر حملہ درحقیقت ہندوستان کے عظیم تہذیبی ورثے اور اس کی مشترکہ ثقافت پر حملہ ہے۔‘‘ لیکن اس وقت صورت حال یہ ہے کہ انتہا پسندوں کے مسلسل حملوں سے مسلمانوں اور دلتوں کی روح بھی چیخ پڑی ہے۔ انسانیت شرم سار ہو رہی ہے۔ اگر برسر اقتدار حکومت (مرکزی و صوبائی) عوام کی مشکلات اور ان پر ہونے والے ظلم و تشدد کو مسلسل نظر انداز کررہی ہے اور ملک کی ترقی میں بنیادی نوعیت کے کام سے غفلت میں مبتلا ہے، تو اسے خود اپنے انجام کا احتساب اور تجزیہ کرنا چاہیے۔ جہاں تک اردو کو حاشیے پر پہنچانے اور اس کے تہذیبی ورثے پر حملے کا سوال ہے تو اس کی ذمہ داری بڑی حد تک نام نہاد ’محبانِ اردو‘ پر بھی عائد ہوتی ہے جنہوں نے اردو زبان و ادب سے اپنا رشتہ منقطع کر رکھا ہے۔ لہٰذا اردو کے دفاع میں کوئی تدبیر کیونکر کارگر ہوسکتی ہے۔

