ڈاکٹر اعجاز حسین ایک دبستان کی مانند تھے: کاظم عابدی
پریاگراج ( نامہ نگار): ادبی تنظیم بزم یاراں کے زیر اہتمام منعقد ایک تقریب میں بزرگ نقاب ڈاکٹر علی حیدر رضوی کی تصنیف "ڈاکٹر اعجاز حسین” حیات اور کارمے کا اجراء ادب گھر کریلی میں ہوا _ پروگرام کی صدارت معروف ترقی پسند ادیب کاظم عابدی نے کی _ مہمان خصوصی شیل دھرشاستری اور پروفیسر شبنم حمید تھیں _ بطور مہمان اعزازی احسان اللہ انصاری اور صحافی شارق مرتضی صدیقی شریک تھے _ کاظم عابدی نے خطبہ صدارت میں کہا کہ ڈاکٹر اعجاز حسین کی ذات والا صفات ایک دبستان کی مانند تھی _ ان کے سر چسم علم سے جید اہل قلم فیضیاب ہوئے جو ایک کہکشاں کی مانند ادب کے آسمان پر روشن ہیں _ یہ کتاب مرحوم کی شخصیت اور خدمات پر جامع دستاویز ہے _ شیل دھرشاستری نے نو آموز قلم کاروں کو مشق سخن کی تعقید کی _ پروفیسر شبنم حمید نے کہا کہ ڈاکٹر اعجاز حسین کی شخصیت نے کئی نسلوں کو متاثر کیا _ الہ آباد کے ادبی منظر نامے میں ان کا نام نامی سر فہرست ہے _ ڈاکٹر علی حیدر رضوی نے کہا کہ ڈاکٹر اعجاز حسین مرحوم میرے استاد اور مربی _ ان کی شفقت کے زیر سایا میرے شعور نے تربیت پائی ہے اور یہ میری خوشنصیبی ہے _ اس کے علاوہ احمد حسنین ، ڈاکٹر صغیرالمہدی , شارق مرتضیٰ صدیقی وغیرہ نے بھی اظہار خیال کیا _ اس موقع پر انقلابی شاعر کیفی اعظمی کی یاد میں ایک طرحی نشست منعقد ہوءی _ مصرع طرح تھا ” شور یونہی نہ پرندوں نے مچایا ہوگا” جس پر متعدد شعراء اکرام نے اپنے کلام پیش کر داد و تحسین حاصل کی _ تقریب میں مہمانوں کی شال پوشی و گل پوشی کی گئی _ جملہ حاضرین کو تحائف پیش بھی پیش کیے گئے _ پروگرام کی نظامت ایڈوکیٹ بختیار یوسف نے کی _ بانی ادب گھر فرمود الہ آبادی نے شرقا شکریہ ادا کیا _

