International

بھارت اور سویڈن 2030 تک اقتصادی تبادلے کو دوگنا کریں گے۔ سفیر

نئی دہلی۔ 28؍ ستمبر۔ ایم این این۔بھارت میں سویڈن کی سفیر پیٹرا مینانڈر، جنہوں نے حال ہی میں نئی دہلی میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالی ہیں، نے کہا کہ ان کے دورِ تعیناتی میں اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانا اولین ترجیح ہوگی، اور دونوں ممالک کا ہدف 2030 تک اپنے اقتصادی تبادلے کو دوگنا کرنا ہے۔پیر کو ایک انٹرویو میں مینانڈر نے کہا کہ بھارت اور سویڈن کے تعلقات میں "بہت مضبوط مثبت پیش رفت” دیکھی جا رہی ہے اور اب توجہ موجودہ ایجنڈے پر عمل درآمد کرنے پر مرکوز ہونی چاہیے۔ مینانڈر نے کہا، "مقصد واضح ہے؛ ہمیں 2030 تک دونوں ممالک کے درمیان موجود اقتصادی تبادلے کو دوگنا کرنا ہے۔”سویڈش سفیر نے کہا کہ وہ سیاسی بات چیت، عوامی سطح پر رابطوں  اور تحقیق و جدت طرازی کے شعبوں میں تعاون کو بھی مضبوط بنانے کی کوشش کریں گی۔ انہوں نے کہا، "میں چاہوں گی کہ تجارت کے علاوہ ہمارے سیاسی مکالمے اور باہمی تعاون میں اضافہ ہو، اور ساتھ ہی عوامی سطح پر بھی رابطے بڑھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تحقیق اور جدت طرازی میں موجود شراکت داری مستقبل کے تعاون کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرے گی۔اگلے چار سالوں کے لیے اپنی ترجیحات کے بارے میں بات کرتے ہوئے، مینانڈر نے کہا کہ وہ بھارت اور بھارت۔سویڈن شراکت داری کو بہتر طور پر سمجھنے اور اس بات کو یقینی بنانے پر توجہ مرکوز کر رہی ہیں کہ سویڈش سفارت خانہ ان تعلقات میں مثبت کردار ادا کر سکے۔سفیر، جو اس سے قبل ریاض میں سویڈن کی سفیر رہ چکی ہیں، نے کہا کہ سعودی عرب میں ان کے تجربے نے جدت طرازی اور سماجی ماڈل کے حوالے سے سویڈن کی خوبیوں کے بارے میں ان کی سمجھ بوجھ کو مزید پختہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا، سویڈن عالمی سطح پر جدت طرازی میں پیش پیش ہے، اور اس کا مطلب ہے کہ ہم اکثر اپنی حیثیت یا حجم کے مقابلے میں کہیں زیادہ نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ سویڈن کا "شفاف سماجی ماڈل” بھی بھارت جیسے ممالک کے لیے دلچسپی کا باعث ہے۔حال ہی میں طے پانے والے بھارت-یورپی یونین آزاد تجارتی معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے مینینڈر نے کہا کہ یہ معاہدہ اقتصادی تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گا اور سویڈش کمپنیوں کے لیے مزید مواقع پیدا کرے گا۔ انہوں نے کہا، "مجھے یقین ہے کہ آزاد تجارتی معاہدے سے معاملات میں آسانی پیدا ہوگی۔ میرے خیال میں مواقع اور دونوں اطراف کی مہارت و آگاہی پہلے سے موجود ہے، لیکن طریقہ کار کی سادگی اور محصولات (ٹیرف( کا خاتمہ یا ان میں کمی اقتصادی شعبے میں ہمارے باہمی تعاون کو فروغ دے گی۔

Related posts

وزیراعظم مودی نے بھارت۔امریکہ عبوری تجارتی معاہدہ کے اعلان کردہ فریم ورک کی ستائش کی

Awam Express News

ہندوستان کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے کے منتظر ہیں۔ جاپانی وزیر خارجہ

Awam Express News

پی ایم مودی اور چینی صدر نے پٹرولنگ معاہدے کا خیرمقدم کیا

Awam Express News