Delhi-NCR

مضبوط رسدی سلسلے اور فوجیوں کی فلاح و بہبود قومی سلامتی کے لیے ناگزیر ہیں۔ راجناتھ سنگھ

نئی دہلی۔ 12؍ اکتوبر۔ ایم این این۔ بھارتی فوج نے آج  نئی دہلی میں منعقدہ ایک تقریب میں مسلح افواج کے لیے ’بھارت رائس‘ کا آغاز کیا۔ اس تقریب میں وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ اور امور صارفین، خوراک و عوامی نظام تقسیم کے وزیر جناب پرہلاد جوشی نے شرکت کی۔ اس موقع پر ہندوستانی فوج اور فوڈ کارپوریشن آف انڈیا (ایف سی آئی( کے درمیان آپریشنل ہنگامی حالات میں اس کے بنیادی ڈھانچے کے استعمال کے لیے ایک مفاہمت نامے پر بھی دستخط کیے گئے۔ اعلیٰ معیار کے یہ چاول لداخ اور شمال مشرق کے دور دراز علاقوں سمیت فوج کے رسدی مراکز تک براہ راست پہنچائے جائیں گے، جس سے فوجی رسدی مراکز کو مقامی ایف سی آئی مراکز سے چاول خود حاصل کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔اپنے خطاب میں وزیر دفاع نے ’بھارت رائس‘ کو اعتماد کا ایسا رشتہ قرار دیا، جس کی ابتدا کسان کے کھیت سے ہوتی ہے اور جو فوجی جوان کی تھالی تک پہنچتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہل ’جئے جوان، جئے کسان‘ کے جذبے کو عملی شکل دیتی ہے، کیونکہ یہ اس اجتماعی عزم کی عکاس ہے جس کے تحت کسان کی محنت فوجی جوان کی طاقت میں بدل جاتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا، ’’یہ اعلیٰ معیار کے چاول مقررہ معیارات کے مطابق فراہم کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ، ہم اس بات کو بھی یقینی بنا رہے ہیں کہ ان کی پیکنگ آسان اور سہولت بخش ہو۔ اگرچہ یہ پہل بظاہر چھوٹی معلوم ہوسکتی ہے، لیکن اس سے دور دراز اور دشوار گزار علاقوں تک راشن پہنچانے کی ذمہ داری نبھانے والے فوجی جوانوں کو بہت بڑی عملی راحت ملے گی۔‘‘جناب راج ناتھ سنگھ نے زور دے کر کہا کہ فوجیوں کی عملی تیاری کا انحصار صرف ہتھیاروں پر نہیں ہوتا، بلکہ ان کی جسمانی صحت، ذہنی توازن، حوصلے اور قوت برداشت پر بھی ہوتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب وہ انتہائی سخت حالات میں خدمات انجام دے رہے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ فوجیوں کی فلاح و بہبود کوئی ثانوی معاملہ نہیں، بلکہ قومی سلامتی کا ایک لازمی جزو ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صحت بخش غذا، مضبوط سازوسامان اور مکمل تربیت فوجیوں کے حوصلے بلند کرتے ہیں، انہیں ہر چیلنج کا سامنا کرنے اور ملک کی حفاظت کے لیے تیار رکھتے ہیں۔وزیر دفاع نے کہا کہ جدید دور کی جنگ میں صرف ہتھیار، جنگی پلیٹ فارم اور ٹیکنالوجی ہی اہم عناصر نہیں ہیں، بلکہ رسدی نظام بھی بذات خود جنگی طاقت کا درجہ رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج جنگیں صرف محاذوں پر نہیں جیتی جاتیں، بلکہ رسدی سلسلوں کی مضبوطی، ذخیرہ کرنے کی گنجائش، نقل و حمل کے نیٹ ورک، گوداموں کے بنیادی ڈھانچے اور ضرورت کے وقت بروقت سامان کی فراہمی کی صلاحیت بھی اتنی ہی اہمیت رکھتی ہے۔جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا، ’’آپریشن سندور کے اسٹراٹیجک تجزیے سے ظاہر ہوا کہ مستقبل کے تنازعات میں انتباہ کے لیے دستیاب وقت انتہائی کم ہوسکتا ہے۔ بغیر کسی پیشگی انتباہ کے پیدا ہونے والی صورت حال اور جنگ میں ٹیکنالوجی کے استعمال جیسے منظرنامے ہماری تیاریوں کا سخت امتحان لے سکتے ہیں۔ ایسے تنازعات ہمارے رسدی سلسلوں اور سپلائی نیٹ ورک کی پائیداری کو بھی آزما سکتے ہیں۔ اس لیے ہمیں اپنی فوجی کارروائیوں کو جاری رکھنے کے لیے ایک مضبوط اور لچک دار رسدی نظام تیار کرنا ہوگا۔ ایف سی آئی کے ساتھ یہ مفاہمت نامہ اسی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔‘‘

Related posts

آسام کے وزیر اعلیٰ کو بلاتاخیر معطل کیا جائے اور ہیٹ اسپیچ کے مقدمات درج کیے جائیں

Awam Express News

یوم آزادی کے پیش نظر دہلی کے لیے جاری ہوا ٹریفک ایڈوائزری

Awam Express News

یوپی مدرسہ ایجوکیشن ایکٹ پر سپریم کورٹ کے فیصلہ کا خیرمقدم

Awam Express News