Saudi Arabia Special Report

سعودی عرب کا قلعہ عسفان جسے حجاج کرام کی حفاظت کے لیے بنایا گیا تھا

سعودی عرب کے مغرب میں الجموم گورنری میں واقع عسفان قلعہ اپنے تاریخی فن تعمیر کے اعتبار سے ایک شاہکار سمجھا جاتا تھا مگر اس کی تعمیر کی بنیادی وجہ حجاج کرام کے قافلوں کی حفاظت کرنا ہوتی تھی۔ یہ قلعہ آج بھی سعودی عرب میں تاریخی یادگاروں میں سے ایک ہے۔الجموم کی تاریخ میں دلچسپی رکھنے والے ماجد السہلی نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ “عسفان قلعہ چودھویں صدی ہجری کے آغاز میں چٹانی پتھروں سے بنے ایک مربع کی شکل میں بنایا گیا تھا۔ اس کی تعمیر کے لیے پتھر پڑوسی پہاڑی علاقوں سے لائے گئے تھے۔ ان پہاڑوں میں گرینائٹ آگنیئس چٹانیں النورہ چپکنے والے مواد کے ساتھ پہاڑ میں دستیاب اہم تعمیراتی مواد پر مشتمل ہیں۔”انہوں نے مزید کہا "یہ قلعہ اس علاقے سے گذرنے والے قریبی قافلوں کے راستوں اور جدہ سے مدینہ منورہ جانے والے زائرین کے قافلوں کے تحفظ کے لیے تعمیر کیا گیا تھا۔ اس قلعے کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اس کی تعمیر اس مقام پر کی گئی تھی جس کی مٹی نے ھجرت مدینہ کے دوران نبی صلی اللہ علیہ وسلم پائے اقدس کی خاک بنی تھی۔”انہوں نے بتایا کہ قلعے میں 4 کونے والے ٹاورز ہیں۔ اس کے علاوہ ہر دیوار پر دو اضافی ٹاور ہیں۔ 2015 میں عسفان کی میونسپلٹی نے قلعے کے گرے ہوئے کالموں کو دوبارہ تعمیر اور بحال کیا اور اس پر چڑھنے کے لیے ایک سیڑھی بنائی۔

Related posts

ام القری یونیورسٹی کی جاری مطالعات اور حجاج کرام کے خانہ خدا کے تجربے کو بہتر بنانے کی کوششیں

Awam Express News

ریاض اور انقرہ نے دفاعی تعاون کے ایک ایگزیکٹو پلان پر دستخط کر دیئے

Awam Express News

سعودی ٹورزم اتھارٹی نےالہند ٹورس اینڈ ٹریولس کو اعزازسے نوازا

Awam Express News