گورکھپور ( اترپردیش)۔5؍ستمبر۔ ایم این این۔ چیف آف ڈیفنس اسٹاف (سی ڈی ایس) جنرل انیل چوہان نے جمعہ کو کہا کہ چین کے ساتھ ہندوستان کا سرحدی تنازع ملک کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔گورکھپور میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جہاں چین کا سرحدی تنازع سب سے بڑا چیلنج ہے، وہیں بھارت کے خلاف پاکستان کی پراکسی جنگ اگلا بڑا مسئلہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد کی حکمت عملی ہمیشہ سے بھارت کا خون بہانے کی رہی ہے۔انیل چوہان نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "ممالک کے سامنے چیلنجز لمحاتی نہیں ہوتے، وہ مختلف شکلوں میں موجود ہوتے ہیں۔ میرے خیال میں چین کے ساتھ سرحدی تنازعہ ہندوستان کا سب سے بڑا چیلنج ہے اور یہ جاری رہے گا۔ دوسرا بڑا چیلنج ہندوستان کے خلاف پاکستان کی پراکسی جنگ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ "ایک اور چیلنج یہ ہے کہ جنگ کے دائرے تبدیل ہو چکے ہیں- اس میں اب سائبر اور خلا شامل ہیں۔ ہمارے دونوں مخالف جوہری طاقتیں ہیں، اور یہ فیصلہ کرنا ہمیشہ ایک چیلنج رہے گا کہ ہم ان کے خلاف کس قسم کی کارروائیاں کرنا چاہتے ہیں۔اعلیٰ فوجی اہلکار نے مئی میں پاکستان کے خلاف آپریشن سندور پر بھی بات کی، جہاں بھارت نے 22 اپریل کو پہلگام حملے کے جواب میں پاکستان اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں دہشت گردانہ ڈھانچے کو نشانہ بنایا۔انہوں نے کہا کہ آپریشن کے دوران مسلح افواج کو مکمل آپریشنل آزادی حاصل تھی اور اس کا مقصد "ہمارے صبر کی سرخ لکیر کھینچنا” تھا۔انہوں نے کہا کہ آپریشن سندو رکے دوران ہمیں منصوبہ بندی اور اہداف کے انتخاب سمیت مکمل آپریشنل آزادی حاصل تھی۔ اس کا مقصد دہشت گرد حملے کا بدلہ لینا نہیں تھا بلکہ ہمارے صبر کی سرخ لکیر کھینچنا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ آپریشن سندور ایک ملٹی ڈومین آپریشن تھا جس میں سائبر وارفیئر اور عسکری ونگز کے درمیان رابطہ کاری شامل تھی۔

