ملک کے 86 سالہ سپریم لیڈر کی ہلاکت کے بعد چالیس روزہ سوگ اور سات عوامی تعطیلات کا اعلان کر دیا گیا۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای، اسرائیلی اور امریکی حملوں میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کی اسرائیلی اور امریکی حملوں میں ہلاکت کے بعد سپاہ پاسداران کی جانب سے انتقام کے مطالبات شدّت اختیار کر گئے ہیں۔
ایران سرکاری ٹی وی نے آج بروز اتوار ملک کے 86 سالہ سپریم لیڈر کی ہلاکت کے بعد چالیس روزہ سوگ اور سات عوامی تعطیلات کا اعلان کیا ہے۔ خامنہ ای 1989 سے اقتدار میں تھے۔نشریات کے دوران ایک پیشکار نے کہا ہے کہ” سپریم لیڈر کی شہادت کے ساتھ ان کا راستہ اور مشن نہ تو ضائع ہو گا نہ ہی فراموش کیا جائے گا۔ ان کے مشن کو زیادہ جوش و جذبے کے ساتھ آگے بڑھایا جائے گا”۔دریں اثنا ایران کے سپاہِ پاسداران نے خامنہ ای کے ‘قاتلوں’ کو سزا دینے کا عزم ظاہر کیا اور پاسداران سے ایک اہلکار نے کہا ہے کہ "ایرانی قوم کا انتقامی ہاتھ امامِ امت کے قاتلوں کو اس وقت تک نہیں چھوڑے گا جب تک انہیں سخت، فیصلہ کن اور قابلِ افسوس سزا نہیں دے لیتا”۔ایرانی ذرائع ابلاغ نے امریکی اور اسرائیلی حملوں میں سپریم لیڈر کی بیٹی، داماد اور پوتی کی ہلاکت کا بھی اعلان کیا ہے۔فارس نیوز ایجنسی اور دیگر ایرانی میڈیا نے کہا ہے کہ "سپریم لیڈر کے گھرانے کے باخبر ذرائع سے رابطے کے بعد بدقسمتی سے انقلاب کے رہنما کی بیٹی، داماد اور پوتی کی شہادت کی خبر کی تصدیق ہو گئی ہے”۔سرکاری میڈیا نے کہا ہےکہ خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد ایران نے چالیس روزہ عوامی سوگ کا اعلان کیا ہے۔اس سے قبل بروز ہفتہ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے خامنہ ای "مردہ” ہونے کا دعوی کیا اور ٹرمپ نے کہا تھا کہ "یہ نہ صرف ایران کے عوام کے لیے انصاف ہے، بلکہ اُن عظیم امریکیوں اور دنیا بھر کے اُن لوگوں کے لیے بھی، جو خامنہ ای اور اس کے خونخوار گینگ کے ہاتھوں مارے گئے یا مسخ ہوئے ہیں” ۔نیتن یاہو نے ایک ویڈیو بیان میں کہا تھا کہ "اس صبح، ایک زبردست حیران کن حملے میں، ہم نے ظالم خامنہ ای کے رہائشی کمپاؤنڈ کو تباہ کر دیا ہے”۔ جبکہ مبینہ طور پر وہ اپنے قریبی حلقے سے ملاقات کر رہے تھے، ایرانی رہنما پر حملہدو امریکی ذرائع اور ایک معاملے سے واقف امریکی اہلکار کے مطابق اسرائیل اور امریکہ نے بروز ہفتہ اس وقت خامنہ ای پر حملہ کیا جب وہ ایک اعلیٰ سطحی ملاقات کر رہے تھے۔اسرائیل نے دعویٰ کیا ہےکہ خامنہ ای کو ان کے اعلیٰ معاونین کے ساتھ ہلاک کر دیا گیا ہے۔ ان معاونین میں سابقہ قومی سلامتی کونسل کے بارسوخ سیکرٹری علی شمخانی اور پاسدارانِ انقلاب اسلامی (IRGC) کے کمانڈر محمد پاکپور شامل ہیں۔دو ایرانی ذرائع کی رائٹرز نیوز ایجنسی کو فراہم کردہ معلومات کے مطابق حملہ شروع ہونے سے چند لمحے قبل خامنہ ای نے ہفتے کو شمخانی اور اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سکریٹری علی لاریجانی سے ایک محفوظ مقام پر ملاقات کر رہے تھے۔
ایک سینئر اسرائیلی اہلکار نے رائٹرز کو بتایا کہ خامنہ ای کی لاش مل گئی ہے۔ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ایران کے اعلیٰ رہنما کو ان کی نقل و حرکت کی نشاندہی کرنے والی خفیہ اطلاعات کی مدد سے ہدف بنایا گیا اور ہلاک کیا گیا ہے۔”وہ ہماری انٹیلی جنس اور انتہائی جدید ٹریکنگ سسٹموں سے بچ نہیں سکے اور اسرائیل کے ساتھ قریبی تعاون سے کئے گئے حملوں کے مقابل وہ اور ان کے ہمراہ موجود دیگر افراد کچھ نہیں کر سکے”۔ان دو امریکی ذرائع اورنام پوشیدہ رکھنے کی شرط پر امریکی اہلکار نے کہا کہ خامنہ ای کی اعلیٰ مشیروں کے ساتھ ملاقات کی تصدیق کے بعد اسرائیلی-امریکی فضائی اور بحری آپریشن شروع ہو گئے۔امریکی اہلکار نے کہا ہےکہ حملے کے آغاز میں خامنہ ای کو پہلے نشانہ بنانا ضروری تھا تاکہ سرپرائز کا عنصر برقرار رہے اور یہ خدشہ تھا کہ اگر موقع ملا تو ایرانی رہنما چھپ سکتے تھے۔ایک امریکی ذریعے نے کہا ہےکہ اصل توقع یہ تھی کہ خامنہ ای ہفتے کی شام تہران میں ملاقات کریں گے۔لیکن انٹیلی جنس نے ہفتے کی صبح ایک ملاقات کا پتہ چلایا اور حملے کا وقت آگے کر دیا گیا۔ملاقات کا مقام فوری طور پر واضح نہیں تھا۔مگر آپریشن کے آغاز میں تہران میں خامنہ ای کے سخت حفاظتی کمپاؤنڈ پر حملہ کیا گیا۔رائٹرز کے جائزے میں سیٹلائٹ تصاویر نے تصدیق کی کہ وہ تباہ ہو چکا تھا۔

