National

مترکال بجٹ میں… نہ ملازمتیں پیدا کرنے کے لیے کوئی ویژن ہے اور نہ ہی مہنگائی سے نمٹنے کا کوئی منصوبہ

مرکزی وزیر مالیات نرملا سیتارمن نے بدھ کے روز بجٹ 2023 پیش کیا جس پر اپوزیشن لیڈران لگاتار تنقید کر رہے ہیں۔ عام انتخاب سے قبل یہ موجودہ حکومت کا آخری مکمل بجٹ ہے۔ ایک طرف جہاں بجٹ کو برسراقتدار طبقہ ’امرت کال کی مضبوط بنیاد رکھنے والا‘ بتایا ہے، تو وہیں دوسری طرف کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے اسے ’متر کال کا بجٹ‘ قرار دیتے ہوئے مودی حکومت پر شدید حملہ کیا ہے۔راہل گاندھی نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے ’’متر کال بجٹ میں… نہ تو ملازمتیں پیدا کرنے کے لیے کوئی ویژن ہے اور نہ ہی مہنگائی سے نمٹنے کا کوئی منصوبہ ہے۔ نابرابری کو دور کرنے کا کوئی ارادہ بھی بجٹ میں نہیں ہے۔‘‘راہل گاندھی نے اپنے ٹوئٹ میں یہ بھی لکھا ہے کہ 1 فیصد سب سے امیر 40 فیصد ملکیت کے مالک ہیں، 50 سب سے غریب 64 فیصد جی ایس ٹی کی ادائیگی کرتے ہیں، 42 فیصد نوجوان بے روزگار ہیں… پھر بھی پی ایم کو پروا نہیں ہے۔ یہ بجٹ ثابت کرتا ہے کہ ہندوستان کے مستقبل کی تعمیر کے لیے حکومت کے پاس کوئی خاکہ نہیں ہے۔

Related posts

رمضان المبارک کے قیمتی اوقات عبادت و ریاضت میں گزاریں!

admin

ستیش کوشک کی موت پر وکاس مالو کی بیوی کا پھر ایک سنسنی خیز انکشاف

Awam Express News

آرٹیکل 370 کی منسوخی نے جموں و کشمیر کے نوجوانوں کیامنگوں کو نئے پنکھ دیئے۔ نائب صدر

Awam Express News